آج سارے راستے داتا دربار کو جا رہے تھے۔۔ ڈاکٹر اجمل نیازی

ajmal niazi

عرس کا تقریباً آدھادن داتا دربار میں گزارا۔ لگتا تھا کہ سب راستے داتا صاحب کو جا رہے تھے ۔ داتا صاحب کی قبر زندہ ہے اور داتا صاحب بھی زندہ ہیں ۔ہم تو زندگی کی نقل مار رہے ہیں۔ زندگی یا تو شرمندگی بن گئی ہے یا زندگی بن گئی ہے ۔ زندگی ہم سے ہو نہیں سکتی ، لہذا صرف شرمندگی ہی زندگی بن گئی ہے مگر داتا دربار جا کرزندگی کے کچھ لمحے ہماری جھولی میں آپڑتے ہیں۔ جبکہ ہم اس قابل نہیں ہیں ۔

شاہد رشید کی قیادت میں ہم چند لوگ تھے ۔ سیف صاحب، ناہید صاحب، عثمان صاحب اور کچھ صاحبان تھے ۔ ساتھ میں ہم بھی تھے جو داتا صاحب کے دربار میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے قدموں کے صدقے میں موجود تھے ۔ مجھے نجانے کیوں محسوس ہوا کہ یہاں بیٹھے ہوئے سارے لوگ جنتی ہیں ۔ داتا دربار میں آج حاضر ہونا ہی جنت کا امیدوار ہونے کے مترادف ہے ۔

تھوڑی دیر میں داتا صاحب کے لئے محکمہ اوقاف کی طرف سے خادم اور نگران ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سید طاہر رضا بخاری بھی آگئے تو محفل میں ایک نئی زندگی آگئی اور ہماری شرمندگی کچھ کم ہوئی ۔میرے اور شاہد رشید کے ساتھ بخاری صاحب کی موجودگی ایک عجیب روحانی آسودگی کی طرح تھی ۔یہاں ہجوم عاشقان اتنا بڑا تھا کہ ہمیں اپنا ہونا یہاں ڈھونڈنا پڑا۔

مجھے بھی تقریر کے لئے بلالیا گیا ، جبکہ میں اپنی تقدیر ڈھونڈنے کے لئے یہاں آیا تھا ۔ مگر ہم جو یہاں جو اپنی تقدیر ڈھونڈتے آئے تھے خود گم ہوگئے ۔ اس طرح کی اپنی گمشدگی میں ہم کیا کہتے ۔ داتا صاحب کی زندہ قبر کو خیال میں لائے اتنا کہا زندہ وہی ہے جس کی قبر زندہ ہے اور آج داتا صاحب کی قبر پر جو آگیا وہ زندہ ہوگیا ۔ ہم جو زندہ لاشوں کی طرح ہیں زندگی کے ذرا سے احساس سے مزید شرمندہ ہوگے ۔ میں کیا کہتا یہاں تو جتنے لوگ بیٹھے تھے سب جنتی تھے حضرت سلطان باہو کا یہ مصرعہ یاد آیا
باہوایتھے اوہو جیندے ، قبر جناں دی جیوے ہو

ضرور پڑھیں: تمام بچوں کو ہر حال میں اسکول واپس لانا ہے وزیراعلیٰ سندھ
ہم مرے ہوئے لوگ ایک بہت زندہ آدمی کی قبر کے سامنے کچھ اور مرے ہوئے مقام پر پہنچ گئے تھے ۔ اے داتا صاحب کے خدا ہمیں زندگی کا ایک ہی لمحہ عطا کر جو واقعی زندگی ہے۔

یہ سب لوگ جو اپنے بھرے ہوئے دل سے یہاں آئے تھے ۔ ہم سے افضل تھے ۔ اللہ ان کے طفیل ہمیں بھی بھرا ہوا دل عطا کرے ۔ ہم خالی دل لے کر یہاں حاضر ہوگئے ہیں ۔ ہماری جھولیوں میں بھی کچھ نہ کچھ ڈال دے جبکہ ہم کسی قابل نہیں ہیں۔یہ سعادت بھی ہمیں برادرم شاہد رشید کے طفیل ملی اور یہ امید بشارت کی طرح بخاری صاحب کی محبت کی جھولی میں جاگری ۔ وہ کچھ دیر کے بعد ہمارے ساتھ آکے بیٹھ گئے اور ہمیں خوشی ملی ۔ تقریب ختم ہوئی کہ وہ بھی کہیں چلے گئے۔ آج ان کی مصروفیات کچھ زیادہ تھیں اور داتا صاحب کے مہمان بہت تھے۔ سب بخاری صاحب کے لئے مہمانان خصوصی تھے ۔

مفتی محمد رمضان سیالوی بہت سرگرم تھے ہم سے بھی بہت محبت کی ۔ وہ آج اچھے لگ رہے تھے ۔ عارف سیالوی بھی لوگوں کے ہجوم میں ملے۔ ہجوم عاشقان میں وہ بہت نمایاں تھے ۔ مگر آج اداس لگے یعنی تھکے تھکے سے لگے۔ برادرم سیف صاحب نے میری بڑی خدمت کی ۔ میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور اس کا احساس مجھ سے زیادہ برادرم سیف صاحب کو ہے ۔ انہیں یہ بھی احساس تھا کہ بس کچھ کھالوں اور میری یہ مجبوری تھی کہ میں کچھ نہ کھاﺅں مگر داتا صاحب کے لنگر کی برکت میرے دل میں جانے کو بے تاب تھی۔ میں اس سے بھی زیادہ بے تاب ہوگیا میں کچھ زیادہ ہی بے تاب ہوگیا تھا ۔ مگر پھر بھی زیادہ نہ کھا سکا ۔ میں کچھ نہ کھا سکنے کی بدقسمتی کا شکار ہوں ۔ میں نے لنگر کچھ نہ کچھ لے لیا مگر کھا یا نہ جا سکا۔ میرے جیسے آدمی کی بدقسمتی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔

البتہ برادرم محترم رمضان سیالوی نے ایک چھوٹالفافہ میری جیب میں ڈال دیا تو میں نے احتجاج کیا ۔ انہوں نے کہا یہ لنگر ہے میں خاموش ہوگیا ۔ کچھ تقریر کرنے کا جزایہ صرف ایسی جگہوں پر ملتا ہے۔ایسے لمحوں میں خاموش ہوتا ہوں تو دل میں ایک شور مچ جاتا ہے جسے صرف میں سن سکتا ہوں۔ یہ داتا دربار تھا ، میں خاموش رہا ، جبکہ میرا دل شور مچاتا رہا۔ یہ شورشرابے صرف میں سن سکتا ہوں ۔ رمضان سیالوی جیسے دوست کی مہربانی ہو تو پھر کچھ سنائی نہیں دیا ۔ رمضان سیالوی میرے مرید بھائی ہیں ۔ آستانہ سیالوی کے عقیدت مندوں میں سے میں بھی ہوں ۔ میرا سارا گھرانہ سیال شریف کا مرید ہے۔ حضرت قمر الدین سیالوی سے ارادت مندی کا مجھے بھی افتخار حاصل ہے میرے دادا اور میرے نانا سیال شریف کے خاص مریدوں میں سے تھے ۔ ان کی عقیدت کا منظر میں نے دیکھا تو آسمان عقیدت میرے سر کے ساتھ آلگا۔

داتا صاحب کی قبر سے بڑی قبر لاہور میں نہیں ہے اور داتا صاحب سے بڑا ولی بھی شاید لاہور میں نہیں ہے۔ لاہور کو داتا نگری کہتے ہیں ۔
شہر بھی ہوتے ہیں تاریخ بنانے والے
بشکریہ نوائے وقت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.