آدابِ اختلاف۔ ڈاکٹر شاہدہ نندنی

Shakira nindiani

آدابِ اختلاف کی اصطلاح ہمارے معاشرے میں امن کی طرح ناپید ہے، بہت ہی دکھ کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے میں لفظ پروٹوکول صرف سیاستدانوں کی حفاظت تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے، کسی کی رائے کا احترام، آدابِ اختلاف، رشتوں کا پروٹوکول، بڑے چھوٹے کا احترام، آدابِ نشت و برخاست، صبر، تحمل، برداشت، آدابِ تنقید، یہاں تک کے معاف کیجئیے گا سے لے کر شکریہ جیسے الفاظ تک یہ سب کبھی ہماری تہذیب کے اثاثے ہوا کرتے تھے جو اب ہمارے معاشرے سے ہمارے ملک کے زرِ مبادلہ کے زخائر کی طرح ہوا میں کہیں تحلیل ہوچکے ہیں، بننے کے کچھ اصول ضابطے پیمانے ہوا کرتے ہیں لیکن بگاڑ ان سب پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے، تعمیر صدیاں لیتی ہے لیکن تخریب کے لئیے چند مہینے چند سال کافی ہوتے ہیں، ایک پل تعمیر ہونے میں کم از کم چار سے چھ مہینے لیتا ہے لیکن گرنے پر آجائے تو چھ منٹ بھی نہیں لگتے۔

 کہتے ہیں دو چیزوں کا طریقے سے استعمال نسلوں میں آتا ہے، ایک پیسے کا صحیح استعمال، دوسرا تعلیم، یہ دونوں چیزیں کم از کم تین سے چار نسلیں گزرنے کے بعد اپنا صحیح مقام حاصل کر پاتی ہیں، پیسے کا استعمال تعلیم سے علم سے مشروط ہوتا ہے لیکن علم کا استعمال پیسے سے مشروط نہیں ہوتا، سیانے کہتے ہیں کہ اگر آپ اولاد کے لئے مال و دولت چھوڑ کر نہیں گئے تو یہ کوئی مسئلے کی بات نہیں ہے ہاں اگر آپ اسے تعلیم کے زیور سے نا آشنا رکھ کر گئے ہیں تو اس سے بڑے مسئلے کی کوئی اور بات نہیں ہوسکتی، فرض کرلیں کہ دو والدین ہیں، ایک نے اپنی اولاد کے لئے بے تحاشہ دولت چھوڑی ہے لیکن تعلیم سے محروم رکھا ہے، اور دوسرے نے بلکل بھی دولت نہیں چھوڑی لیکن اسکی اعلیٰ تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تو بہ مشکل تین سے پانچ سال کے بعد یہ منظر بدل جائے گا۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.