احتساب کا عدم شفافیت پر مبنی نظام ۔۔سلمان عابد

salman abid logo

جو بھی سیاسی نظام عدم شفافیت اور عدم جوابدہی پر مبنی ہوگا وہ اپنی سیاسی و قانونی ساکھ قائم نہیں رکھ سکے گا۔کیونکہ سیاست او رجمہوریت پر مبنی نظام میں شفاف حکمرانی بنیادی جز ہوتا ہے ۔ جو بھی سیاسی نظام شفاف نہیں ہوگا اس میں کرپشن, بدعنوانی , اقراپروری سے جڑے نظام کو ہی طاقت ملتی ہے ۔ ایک مسئلہ کرپشن ہے , دوسرا مسئلہ کرپشن سے جڑے ان احتساب کے اداروں او رنظام کا ہے جو خود عملی طور پر عدم شفافیت پر کھڑے نظر آتے ہیں ۔ اس میں سیاسی حکومتیں ہوں یا فوجی حکمران طبقہ سب نے ہی احتساب کے نظام کے ساتھ وہ سب کچھ کیا جو عملی طور پر نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔یہ ہی وجہ ہے کہ احتساب کا شور توبہت سننے کو ملتا ہے مگر عملی طور پر اس سے جڑے اقدامات یا قانون کی حکمرانی کا پہلو بہت کمزور اور لاچار نظر آتا ہے ۔

ہماری سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تواحتساب کے تناظر میں چار پہلو اہمیت رکھتے ہیں اور اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ہم کیونکر منصفانہ اور شفاف احتساب کا نظام قائم نہیں کرسکے ۔اول ہماری ترجیحات میں جوابدہی یا احتساب کے نظام کو منصفانہ اور شفاف بنانا نہیں بلکہ ہم سیاسی سمجھوتوں یا کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔دوئم احتساب کے نظام کو سیاسی ہتھیار یا سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ سوئم افراد کو اداروں یا قانون کے تابع کرنے کی بجائے عملا اداروں کو افراد کے تابع کیا جاتا ہے ۔ چہارم عملی طور پر احتساب کے اداروں کو مفلوج او رکمزور بنا کر ان میں سیاسی بنیاد پر تقرریاں کی جاتی ہیں تاکہ سیاسی مخالفین کی وفاداریوں کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کھیل کو طاقت دی جاسکے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی او رجمہوری نظام میں احتساب کا عمل کسی بھی شکل میں اپنی ساکھ اور شفافیت کے عمل کو برقرار نہیں رکھ سکا ۔

اس ساری حکمت عملی کا قومی نقصان یہ ہوا ہے جب بھی کوئی احتساب کے شکنجے میں جکڑا جاتا ہے یا اس کو احتساب کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ بھی اپنے مخصوص سیاسی مفادات کے تحت خود کو سیاسی قیدی کے طور پر پیش کرکے سیاسی انتقام کا ہتھیار استعمال کرتا ہے ۔یہ عمل احتساب کے نظام کو صرف ناکام ہی نہیں بلکہ متنازعہ بھی بنادیتا ہے ۔معاشرے کے طاقت ور افراد چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہو وہ کبھی نہیں چاہیں گے یہاں احتساب کا موثر اور شفاف نظام قائم ہو۔کیونکہ وہ خود کو ایسے نظام میں جوابدہ سمجھتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ ان اداروں کو کمزور رکھ کر ہی وہ اپنے سیاسی , کاروباری و ذاتی مفادکو فائدہ پہنچاسکتے ہیں ۔

فوجی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ جو ظلم پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ن کے جمہوری حکومتوں نے احتساب کے تناظر میں اختیار کیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ جمہوری حکومتیں جوابدہی یا احتساب کے نظام کو اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتی ہیں ۔ نیب پر اس وقت پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتیں سخت تنقید کررہی ہیں ۔ ان کے بقول یہ ادارہ فوجی حکمران طبقہ نے بنایا او راس کا مقصد سیاسی انتقام ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری یہ جمہوری حکومتیں اپنے اپنے سیاسی و اقتدار کے ادوار میں نہ تو احتساب کا کوئی متبادل شفاف نظام دے سکیں او رنہ ہی نیب کو ختم کرکے اس کے مقابلے میں ایک آزاد اور خود مختار ادارے کی تشکیل کو ممکن بناسکی۔ حالانکہ دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت میں وعدہ کیا تھا کہ وہ نیب کو ختم کرکے ایک آزاد اور خود مختار احتساب کے ادارے کی تشکیل کو یقینی بنائیں گی ۔ان دونوں بڑی جماعتوں کی طرف سے منطق دی گئی کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے , مگر دوبارہ اقتدار کے کھیل میں وہ اپنی سابقہ غلطیوں کو بھول کر مزید اس کھیل میں اور زیادہ بگاڑ کو پیدا کرنے کا سبب بنے۔ اس عمل نے منصفانہ اور شفاف احتساب کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ۔

یہ تسلیم کرنا ہوگا ہمارا بڑا مسئلہ احتساب کا منصفانہ , شفاف او ربے لاگ یا بلا امتیاز کے نہ ہونے کا ہے ۔سیاسی حکمران طبقہ ایک دلیل یہ دیتا ہے کہ غیر ریاستی اداروں یا جمہوریت دشمن افراد یا اداروں کی غیر جمہوریت پر مبنی پالیسی نے اداروں کو تباہ کیا اور جمہوری تشخص کو ایک مخصوص ذہن کے ساتھ بدنام کیا ۔ یہ منطق میں وزن بھی ہے , مگر بات یہاں ختم نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس سے بڑھ کر ایک سوال ان جمہوری قوتوں سے بھی ہونا چاہیے کہ جب بھی ان کو موقع ملتا ہے وہ ایک منصفانہ اور شفاف نظام کے قیام یا نئی پالیسی , قانون سازی , ادارہ جاتی عمل میں مضبوطی پیدا کرنے کی بجائے اسے کمزور یا سمجھوتے کیوں کرتے ہیں ۔سیاسی قیادت کو اپنی ناکامی کا بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ بھی عملا احتساب کے نظام کو موثر اور شفاف بنانے میں کچھ نہیں کرسکے ۔

ایک مسئلہ احتساب کے نظام میں تفتیش اور تحقیقات کے نظام کا ہے۔ اس وقت جو لوگ بھی احتساب کے نظام میں جکڑے ہوئے ہیں یا جن کو ڈر ہے کہ وہ بھی جکڑے جاسکتے ہیں ان کے بقول تفتیش کا نظام غیر منصفانہ ہے ۔اب اس نظام کو شفاف کس نے بنانا ہے , یقینی طور پر یہ کام حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو مل کر کرنا ہے ۔لیکن کیا وجہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت, پارلیمنٹ اور مجموعی سیاسی نظام اصلاحات کو بنیاد بناکر وہ کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں جو ان کو پہلی ترجیح میں کرنا چاہیے ۔ہمارا عدالتی , ادارہ جاتی نظام اور تفتیش کا عمل اس حد تک کمزور یا سیاسی مصلحتوں سمیت کرپشن او ربدعنوانی کا شکار ہے کہ اس سے بڑے فیصلوں کی توقع بہت کم ہے ۔کیونکہ مجموعی طور پر ادارہ جاتی نظام مکمل طور پر سیاسی مداخلتوں اور سیاسی اقراپروریوں سے بھرا ہوا ہے ۔ یہ نظام قانون کے مقابلے میں طاقت ور افراد کے ساتھ کھڑا ہے او ریہ ہی وہ سوچ ہے جو شفاف احتساب کو کمزور کرتی ہے ۔

جب سیاست کسی اصول او رنظریے یا سوچ وفکر کی بجائے منافع, کاروبار, اختیار, طاقت اور ذاتی دولت کے حصول کا کھیل بن جائے تو اس کا عملی نتیجہ وہی کچھ نکلتا ہے جو آج ہماری سیاست میں بالادست ہے ۔سیاسی جماعتیں جو جمہوریت, آئین , شفافیت اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر سیاست کرتی ہیں ,لیکن ان سیاسی جماعتوں کا داخلی نظام ہی بدعنوانی کی سیاست سے جڑا نظر آتا ہے ۔سیاسی جماعتوں میں جوابدہی پر مبنی داخلی نظام نہ ہونے کے برابر ہے ۔جب سب سیاست کو پیسہ بنانے کا کھیل بنادیں گے تو پھر سیاست میں وہی لوگ بالادست ہونگے جو خود کرپٹ ہونگے یا سیاست کو پیسے بنانے کی مشین سمجھتے ہیں ۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم موجودہ نظام , اداروں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے منصفانہ احتساب کرسکیں گے تو جواب نفی میں ہے ۔کیونکہ نظام اگر خود شفاف نہ ہو تو اس سے شفافیت کی توقع رکھنا بھی محض خوش فہمی ہی ہوگی ۔ جو لوگ اقتدار یا طاقت میں ہیں وہ کیسے اپنے ہی خلاف کوئی ایسا قانون یا ادارہ بنانے کو ترجیح دیں گے جو ان کو احتساب کے دائرہ کار میں لاسکے ۔ پارلیمنٹ کا فورم سیاسی جماعتوں کی قیادت کے سامنے یرغمال ہے اور ممبران پارلیمنٹ اپنے خلاف یا اپنی قیادت کے مفاد کے خلاف کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ زیادہ تر کرپٹ افراد اپنے خلاف احتساب کے ڈر اور خوف کی وجہ سے حکمران طبقہ کی چھتری کے نیچے پناہ لے کر خود کو محفوظ بناتے ہیں ۔احتساب کا موثر اور عملی شفاف نظام کو کامیاب کرنا ہے تو یہ روائتی گولی سے نہیں بلکہ کڑوی گولی یا غیر معمولی اقدامات سمیت کسی بڑی سیاسی , انتظامی او رقانونی سرجری کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ کرپشن کے خاتمہ او راحتساب کو یقینی بنانے کے خلاف مختلف طاقت کے مراکز میں ایک باہمی گٹھ جوڑ ہے جو کرپٹ لوگوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے او راسی میں ان فریقین کا اپنا مفاد بھی جڑا ہوا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم کیسے اس گھناونے اور مکرو کھیل سے باہر نکل سکیں گے ۔ ایسا کھیل جہاں کرپشن او ربدعنوانی کو تحفظ دینے کے لیے سب ہی جمہوریت, قانون کی حکمرانی کے سیاسی کارڈ کھیلتے ہوں تو وہاں منصفانہ اور شفاف نظام بہت دور چلا جاتا ہے ۔لوگوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے او ران کو لگتا ہے کہ احتساب کے عمل میں کچھ بڑا نہیں ہوسکے گا۔لوگوں کے بقول قانون جب طاقت ور لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو یا ان کو مختلف شکلوں میں تحفظ دیتا ہو تو پھر احتساب کا مذاق کیوں کیا جاتا ہے ۔ ریاستی و حکومتی اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ لوگوں میں احتساب کی ناکامی کی سوچ خطرنا ک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے ۔ یہ عمل سیاست , جمہوریت اور قانو ن کی حکمرانی کے مقابلے میں کرپٹ مافیا کی سیاست کو ہی طاقت دے گا جو جمہوری نظام کے لیے بڑا خطرہ ہے۔salmanabidpk@gmail.com۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.