استنبول کی تاریخ ۔۔۔۔۔ شاہدہ لطیف

istanbul

استنبول شہر اس دروازے کی اہمیت کا حامل تھا جس کے ذریعے مشرق کے خزانے مغرب میں جا پہنچے تھے۔ رومنز کے آخری دور میں ایک رومن شہنشاہ نا کام تہذیب کا آخری بُرج اور عیسائیت کا انتظامی مرکز ثابت ہوا۔ یہ رومن شہنشاہ کونسٹن ٹن تھا جس نے بازنطینی سلطنت کو 330 بعداز مسیح مشرقی رومن سلطنت کے دارالحکومت میں تبدیل کیا تھا اور اس کا نام تبدیل کر کے کونسٹن ٹینوپول رکھا تھا۔ اس نے یہ پابندی بھی عائد کی تھی کہ تمام تر رومن شہری مذہب عیسائیت قبول کریں۔ روحانی زندگی جو عیسائیت نے شہر کو عطا کی اس کی جھلک اس کے گرجا گھروں سے جھلکتی ہے۔اس دورِ حکومت کے دوران جو بڑا گرجا تعمیر کیا گیا وہ آج کل ایک عجائب گھر کی حیثیت کا حامل ہے۔ 1453ء میں جب ترکوں نے کونسٹن ٹینوپول پر قبضہ کیا تب انہوں نے اس عمارت کو مسجد میں تبدیل کر دیا۔اس گرجے کی عمارت دنیا کے گرجا گھروں کی عظیم عمارتوں میں شامل ہے۔ اس کا قابل ذکر خدوخال اس کا گنبد ہے۔ اس عمارت کی دیواریں کئی ایک رنگوں کے سنگ مرمر سے ڈھکی ہوئی ہیں اور اس عمارت میں سنگ مرمر کے 107 ستون ہیں۔ اس قدیم شہر کا جدید نام استنبول ہے۔ یہ شہر ہزاروں برس تک کئی ایک تہذیبوں کی آماجگاہ بنا رہا۔ اس شہر میں کئی دیگر عجوبے بھی دیکھنے کو ملے ہیں جن میں ٹوپ کاپی محل بھی شامل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.