اس عمر میں کون محبت کرے ۔ ڈاکٹر اجمل نیازی

ajmal-khan-niazi

ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ محبوب کی جدائی میں وزن کم ہو جاتا ہے۔ ایک آدمی زندگی میں 70 لٹر سے زیادہ آنسو بہاتا ہے۔ کچھ لوگ نہیں روتے کہ لوگ بزدل کہیں گے۔ مگر دل کھول کر رونے سے ذہن کا دبائو کم ہو جاتا ہے‘ لیکن یہ بھی لوگ سوچتے ہیں کہ اس عمر میں کون محبت کرے۔ محبوب بنائے پھر اس کی جدائی میں آنسو بہائے۔

کہتے ہیں کہ رونا اچھا ہوتا ہے۔اسے معصومیت بھی کہتے ہیں۔ بچے اور عورت رونے کے لئے بہت آسان ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود میں نے کم کم لوگوں کو روتے دیکھا ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ فردوس عاشق اعوان پتلی ہو گئی ہیں۔ عمران نے اسے معاون خصوصی بنایا۔ وزیر کیوں نہ بنایا۔ وزیر مملکت ہی بنا دیتے۔ کیا وزیر شذیر سے مشاورت نہیں کی جاتی۔ عمران کو کسی نے تو اسد قیصر کے سپیکر بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ کوئی ایاز صادق جیسا آدمی تحریک انصاف میں نہ تھا۔ کسی نے فردوس عاشق کو فردوس باجی کہہ دیا۔ یہ خواہ مخواہ کا مذاق ہے۔ جس نے کہا وہ باجی نہیں اس کی چھوٹی بہن ہے۔ فردوس نے بھی بلاول کو مشورہ دیا ہے۔ وہ تنقید کی بجائے سندھ میں ایڈز کو کنٹرول کریں۔ ایڈز کا شکار ڈاکٹر گندے انجکشن لگا کے لوگوں کو موت سے زیادہ بھیانک زندگی دے رہے ہیں۔ اس کے خلاف سندھ حکومت کارروائی کرے۔ میرے محبوب رسول کریمؐ نے فرمایا ’’لوگو رویا کرو‘ رو نہیں سکتے تو روتے ہوئے لوگوں جیسی شکل بنا لو۔

ریاست مدینہ کی بات کیلئے عمران کو مذاق بنا دیا گیا۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے رسول کریمؐ کی زندگی سے بہت کچھ سیکھا۔ حضور کریمؐ سے بڑا حکمران کبھی پیدا نہیں ہوگا۔ عمران ان کا امتی حکمران بن کے دکھائے۔ بہت دانشور سیاستدان ڈاکٹر بابر اعوان ان کی مدد کریں۔ انہیں بتائیں کہ حکومت کس طرح کی جاتی ہے۔ اسے سیاست کرنا آگیا ہے کہ اس نے شریف برادران کوشکست دی ہے مگر ابھی حکومت کرنا نہیں آیا۔ جبکہ وہ اپنی شخصیت اور فطرت میں ایک حکمران ہے۔ اس تقریب میں جو آیات پڑھی گئیں‘ ان میں اللہ رسول کریمؐ سے کہتے ہیں ہم نے آپؐ کا سینہ کھول دیا۔ آپ کے سر سے وہ بوجھ ہلکا کر دیا جس نے آپؐ کی کمر کو دوہرا کر دیا تھا۔ ہم نے آپؐ کے ذکر کو بلند کر دیا۔ بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔

عمران خان نے ایک بار پھر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیلئے امید کی بات کی ہے۔ عمران نے ہاتھ میں تسبیح پکڑ رکھی تھی۔ اچھی بات ہے۔ یہ بھی ایک بات ہے کہ ہر دفعہ اپنی تقریر سے پہلے عمران یہ آیت مبارکہ ضرور پڑھتا ہے۔ سنا ہے یہ آیت جاوید میاں داد نے عمران کو پڑھنے کیلئے کہی تھی۔ ایاک نعبدو ایاک نستعین۔ اے اللہ ہم تمہاری عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔

پنڈی‘ اسلام آباد میں نیشنل بک فائونڈیشن کی تقریبات میں عائشہ مسعود کے کشمیر سیمینار میں ہم پہنچے۔ وہاں برادر مقصود جعفری بھی تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل باجوہ میرے شاگرد ہیں۔ آرمی چیف نے کیا تخلیقی بات کی ہے کہ آزادی مانگنے سے نہیں ملتی۔ یہ بھی کہا کہ ہماری بیورو کریسی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کوئی کام نہیں کرتی۔ آرمی چیف کی خدمت میں عرض ہے کہ ہماری بیوروکریسی داخلہ امور میں بھی دلچسپی نہیں لیتی۔ افسران کو اپنی فکر ہوتی ہے، پروٹوکول اور شان و شوکت کی۔

میرے قارئین بھی میرے اس انداز کو پسند کرتے ہیں۔ میں بیورو کریسی کو مذاق مذاق میں برا کریسی کہتا ہوں۔ چنگا نہ کریسی برا کریسی۔ شاہ محمود قریشی کے والد نے اپنی گورنری کے دوران سائلین کے ساتھ یہ انداز اپنایا تھا۔ اللہ کریسی تیرا کم تھی ویسی۔ لوگ برا کریسی سے پریشان تھے۔ اب انہیں اللہ کریسی سے بھی واسطہ پڑا رہا تھا۔ وہ اسے حکمرانوں اور افسروں سے اللہ کی پناہ مانگ رہے تھے۔ حکام امیدیں کیوں لگاتے ہیںجبکہ عوام کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

ممتاز راشد اپنے آپ کو ممتاز راشد لاہوری کہتا ہے اور لکھتا ہے مگر دوستوں نے ابھی انہیں لاہوری کہنا شروع نہیں کیا۔ ان کی 24 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ 5 کتابیں نثر کی بھی شائع ہو چکی ہیں۔ 25 برس سے باقاعدگی کے ساتھ ادبی رسالہ ’’خیال وفن‘‘ بھی شائع کررہے ہیں۔ ان سے پہلی ملاقات قطر میں ہوئی۔ ممتاز راشد ادبی سرگرمیوں کیلئے بہت مستعد رہتا ہے۔ ہر ادبی محفل میں موجود ہونا ہے۔ مزاحیہ شاعری بھی کرتا ہے۔ وہ ایک خوبصورت اور محنتی شاعر ہے۔ سب لوگ اس کی عزت کرتے ہیں۔ وہ بھی سب کے لیے بھائی چارہ اور محبت رکھتا ہے۔ اس کا ایک قطعہ دیکھیں۔

اپنی تعلیم پر توجہ دو… مت پڑو عشق کے عذابوں میں

عمر کٹتی ہے اُن کی کانٹوں پر پھول رکھتے ہیں جو کتابوں میں

میں اپنی بات کی بنیاد سچے پہ رکھتا ہوں یہ اور بات کہ لہجہ میرا دبنگ نہیں

میں آس پاس کے حالا ت کو سمجھتا ہوں میں اپنی ذات میں کھویا ہوا ملنگ نہیں

اب تین مصرعوں کی ایک نظم پڑھ لیجئے

شاعری دو طرح کی ہوتی ہے

یا تو ایسی کہ جیسی ان کی ہے یا پھر ایسی کہ جیسی ان کی ہے

بہت دور دراز کے شہر بہاولپور سے ایک رسالہ شائع ہوتا ہے۔ ’’الزبیر‘‘ کمشنر بہاولپور اس کی سرپرستی کرتے ہیں۔ ہر ڈویژن میں اگر یہ کمشنر مہربانی کرے تو علمی و ادبی حالات بہتر ہو سکتے ہیں مگر اس کے لیے خیالات کا بہتر ہونا ضروری ہے۔ نیر اقبال کمشنر صاحب کے لیے عرض ہے کہ ایک کمشنر ہوا کرتے تھے۔ مرتضیٰ برلاس، وہ شاعروں میں بہت پسندیدہ تھے ان کا تذکرہ کم کم ہوتا ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے ’’الزبیر‘‘ کے ایڈیٹر شاہد حسین رضوی ہیں۔ اداریے میں انہوں نے مستقبل بینی اور مستقل بیانی کو ایک ساتھ استعمال کیا ہے۔ آخر میں لکھا ہے کہ اللہ اور اللہ کا حبیب آپ کا حامی و ناصر ہو۔ بلکہ ہم اکثر صرف یہ کہتے ہیں کہ آپ کا اللہ حامی و ناصر ہو۔ میں خوش ہو گیا۔ میں عشق رسولؐ کو ہی ایمان سمجھتا ہوں۔

دوسری دلپذیر تحریر نامور ادیبہ اور کالم نگار بشریٰ رحمان کی ہے۔ ’’دست مسیحا‘‘ جو دل پر لکھی گئی ہے۔ آغاز اس دعا سے ہوتا ہے۔ اللہ آپ کو کسی سپیشلسٹ سے بچائے۔ پہلے صرف آرٹ سپیشلسٹ ہوتے تھے۔ اب ہر عضو کا سپیشلسٹ نکل آیا ہے۔ بشریٰ رحمان کا دوسرا جملہ دیکھئے۔ ’’عاشق ہونے کے بعد دل کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔‘‘ خدا نہ کرے کہ بشریٰ دل کی مریض ہوں وہ کہتی ہیں۔ ’’ڈاکٹر صاحب نے دوسری بار ہمارا ہاتھ زیادہ توجہ سے دیکھا۔ ہاتھ تھاما۔ ٹٹولا۔ ہاتھ الٹا کر کے دیکھا۔ پھر دبایا اور پھر چھوڑ دیا۔

برادرم مظہر برلاس کا کالم ’’گورنمنٹ کالج لاہور کی داستان عشق‘‘ بھی ایک اچھا کالم ہے۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھا ہوں، وہاں پڑھایا ہے۔ میں گورنمنٹ کالج کے ادبی مجلے ’’راوی‘‘ کا ایڈیٹر رہا۔ مجھے سال کا بہترین ایوارڈ رول آف آنر ملا۔ برلاس نے ایک اچھے موضوع پر کالم لکھا۔ اس میں بہت نام تھے۔ ایک میرا نام اس کالم میں نہیں ہے۔ بشکریہ نوائے وقت


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.