اصلی زعفران کی پہچان ۔۔۔عفت بتول

زعفران

ایک کہاوت ہے کہ اگر کسی شخص کو نو ماشے زعفران کھلا دی جائے تو وہ اتنا خوش ہو گا کہ ہنستے ہنستے مر جائے گا۔ اس کا حقیقت سے تعلق نہیں البتہ زعفران فرحت بخش ہے۔ تاہم اس کی زیادہ مقدار نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ برصغیر میں یہ زمانہ قبل از تاریخ سے مستعمل ہے۔ ہندو اسے پوجا پاٹ، مذہبی رسوم اور شادی بیاہ کے موقعوں پر استعمال کرتے ہیں۔ ہندو ماتھے پر اس کا ٹیکہ بھی لگاتے ہیں۔

چاولوں، حلوہ جات اور مٹھائیوں کو رنگ دینے اور مہکانے کے لیے زعفران استعمال ہوتی ہے۔ قدیم یونانی اسے بطور دوا اور خوشبو استعمال کرتے تھے۔ زعفران کم سرد اور کم پانی والے علاقوں میں بخوبی نشوونما پاتی ہے۔ اس کا پھول نہایت خوبصورت ہوتا ہے جس میں تین لمبے بقچے ہوتے ہیں۔ جس دن پھول کھلے اسی دن بقچے اکٹھے کر کے خشک کر لیے جاتے ہیں۔ سلطنت مغلیہ کے حکمران زعفران کی خوبیوں کے قائل تھے، شہنشاہ بابر نے اپنے ’’بابر نامہ‘‘، جہانگیر نے ’’تزک جہانگیری‘‘ اور ابوالفضل نے ’’آئین اکبری‘‘ میں کشمیری زعفران کی تعریف لکھی ہے۔ آئین اکبری میں لکھا ہے کہ زعفران کے کھیت اتنا خوش نما منظر پیش کرتے ہیں کہ اسے دیکھ کر وہ لوگ بھی خوش ہو جاتے ہیں جنہیں کسی طرح خوش نہیں کیا جا سکتا۔

ہنسنے مسکرانے کی بات ہو یا خوشی کا اظہار مقصود ہو، کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کے آنے سے یا اس کی فلاں بات سے محفل کشت زعفران بن گئی۔ اس محاورے کے پس منظر میں زعفران کے کھیتوں کی خوبصورتی مضمر ہے۔ زعفران کے کھیت اسی لیے دیوار قہقہہ بھی کہلاتے ہیں۔ اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں زعفران کے کھیتوں میں رونق ہوتی ہے۔ سری نگر سے تقریباً گیارہ میل کے فاصلے پر موضع پام پور سے آگے زعفران کا خطہ اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں سیاحوں کے لیے پُرکشش ترین علاقہ ہوتا ہے۔ ہزاروں سیاح زعفران کے لہلہاتے ہوئے کھیت دیکھنے آتے ہیں لیکن یہ منظر صرف چھ ہفتے تک دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ پھر زعفران کی فصل تیار ہو کر فروخت ہو جاتی ہے۔ زعفران خشک زمین پر پیدا ہوتی ہے اور دھوپ میں اس کا رنگ نکھرتا ہے۔ بیج کے طور پر زعفران کی گانٹھیں لگائی جاتی ہیں جوطویل عرصہ تک خود بخود بڑھتی اور نئے پودے پیدا کرتی رہتی ہیں۔ تخم ریزی اگست کے مہینے میں ہوتی ہے۔ اکتوبر کے آخر یا وسط نومبر تک فصل بالکل تیار ہو جاتی ہے۔

پھول پکنے پر مزدور مرد و خواتین احتیاط سے پھول توڑتے ہیں۔ انہیں صبح سویرے اس وقت توڑا جاتا ہے جب وہ نیم وا ہوتے ہیں۔ پھر چٹائیوں پر بکھیر کر سکھایا جاتا ہے۔ سکھانے کے بعد ہر پھول کی تین لمبی نالیاں یعنی بقچے نوچ لیے جاتے ہیں جس سے اول درجے کی شاہی زعفران بنتی ہے۔ اسے عرف عام میں مونگرا زعفران کہتے ہیں۔ اول درجے کی زعفران کی پہچان یہ ہے کہ اس کا رنگ شوخ سرخ ہو، بالیاں الگ الگ دکھائی دیں اور خوشبودار بھی ہوں۔ پھول کی ڈنڈی کے اندر بقچوں کا زیریں حصہ ہوتا ہے جس کی رنگت سرخی مائل زرد ہوتی ہے، یہ زعفران کا لچھا کہلاتا ہے۔ اسے بھی بطور زعفران استعمال کیا جاتا ہے، مگر مونگرا زعفران کی نسبت اس کی قدر و قیمت کم ہے۔ مونگرا اور لچھا نکال لینے کے بعد پھولوں کو سکھایا جاتا ہے۔ سکھانے کے بعد انہیں ہلکی سی چھڑی سے کوٹتے اور پھر چھاج میں ڈال کر پھٹک لیتے ہیں تاکہ پھول کی پتیاں اور فالتوں ٹکڑے علیحدہ ہو جائیں۔ بعد میں انہیں پانی میں ڈالتے ہیں جس سے پھولوں کی بیضہ دانی کے ٹکڑے جو بھاری ہوتے ہیں، پانی کی تہہ میں بیٹھ جاتے ہیں جبکہ ہلکے ٹکڑے اوپر ہی رہتے ہیں۔ اوپر تیرنے والے ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے سکھاتے ہیں جس سے دوسرے درجے کی زعفران بنتی ہے۔

تہہ نشین ٹکڑوں کو سکھانے سے تیسرے درجے کی زعفران بنتی ہے۔ زعفران قیمتی شے ہے لہٰذا اس کا خالص ملنا محال ہے۔ اس کے تاجر عموماً اس میں ملاوٹ کر کے بھاری رقم کماتے ہیں۔ قدیم زمانے میں ایسے بددیانت تاجروں کو بھیانک سزا ملتی تھی۔ اصلی اور نقلی زعفران کی پہچان یہ ہے کہ اصلی زعفران کا ذائقہ خوشگوار جبکہ ملاوٹ شدہ زعفران کا مزہ پھیکا ہوتا ہے۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.