افطاریاں‘ گفتاریاں۔ نذیر ناجی

نذیر ناجی

عید الفطر میں تھوڑے ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔اشیا ئے ضرورت کے نرخوں میں اضافہ ہوتے ہوتے‘ عوام کا کچومر نکل چکا۔ مختلف اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی فہرست روزنامہ”دنیا‘‘ نے شائع کی ہے۔ دیکھنے میں تو یوں لگا کہ جیسے ”سستائی‘‘ غریب عوام پر ٹوٹ پڑی ہے‘ لیکن غور سے دیکھا‘ تو یہ سستائی نہیں‘ مہنگائی کی ابتدا نظر آئی۔ دکانداروں اور خریداروں نے اس ابتدائی فہرست پر کان تک نہیں ہلایا۔یہ پرانے زمانے کی بات تھی‘ جب دونوں عیدوں کے مواقع پرمہنگائی میں صرف اضافہ ہوا کرتا ‘عوام سر کھجا کرتسلی کر لیا کرتے تھے۔سب سے معروف طریقے کے مطابق؛ ترازو کے باٹ بہت کم حرکت میں آیا کرتے۔ محض نصف اور ایک چھٹانک کا اضافہ ہوا کرتا۔

ان دونوں اضافے سے خریداروں اور دکانداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی تھی۔پرانے زمانے میں عید الفطراور عید الاضحی کی قیمتوںمیں اضافے چھٹانک اور نصف چھٹانک کی صورت میں ہوتے تھے‘ جس پر دکانداروں اور خریداروں کے مابین بہت کم تکرار ہوتی۔ آدھی چھٹانک یا پوری چھٹانک کے نرخوںپر بھی باتیں ہوا کرتی تھیں۔دکاندار بھی بڑے مزے میں ہوتے؛اگر کوئی گاہک چھٹانک یا آدھی چھٹانک کے نرخوں پر بات کرتا تو گاہک اور دکاندار‘ ہنستے کھیلتے سودوں کے نرخ طے کر لیا کرتے اور ایسے زمانے بھی تھے کہ اگر کوئی دکاندار سبزی اور پھلوں میں چھٹانک یا آدھے پائو کی ڈنڈی مارتے ‘تو سارے لین دین پر ”جھگڑے نام کی چیز‘‘ دور تک نہ دکھائی دیتی اور نہ ”لڑائی ‘‘دیتی۔ اب”دنیا‘‘ نے جس شاندار طریقے سے مہنگائی یا سستائی کا نقشہ باندھا ہے‘ اسے پڑھ کر کسی کی طبیعت بوجھل نہیں ہوئی‘ مثلاً: جب میں قیمتوں میں اضافے کی فہرست دیکھی تو لطف آگیا۔یہ یکم رمضان سے گیارہ رمضان تک کاجائزہ ہے۔ آلو دو روپے‘ لہسن پانچ روپے‘ مٹر بیس روپے‘ سبز مرچ پانچ روپے‘بند گوبھی پچیس روپے اور بیچارے شلجم تیرہ روپے۔ کیا ارزانی کا دور ہے! بچپن میںجب ہم گھر وں کے اردگرد سبزیاں لینے جاتے تو کسانوں کے ساتھ خوب آنکھ مچولی کھیلی جاتی۔یقین کیجئے جھنگ شہر میں شلجموں کے دکانداروں اور خریداروں میں اچھے کھیل ہوا کرتے۔

ہم بھی دوچار شلجم لے کر بھاگ نکلتے۔ تعاقب کرنے والے کسانوں کی بھاگ دوڑ بھی بہت انسانی‘ شریفانہ اور معززانہ ہوا کرتی۔یہ تو میرا اپنا تجربہ ہے جب ہم کھیتوں سے شلجم اٹھا کر بھاگتے تو سادہ لوح کسانوں کی مدد کے لئے آس پاس کے لوگ بھی آ دھمکتے ۔ دوڑ کے اختتام پرکسان لپک کے اپنے ”ڈاکوئوں‘‘کی مزاج پرسی کرتے۔ کسان خوش ہو کر اپنے میزبانوں کو بھی ایک دو شلجم تھما دیتے‘ جیسے رمضان کے دنوں میں ایک دو کھجوریں بانٹی جاتی ہیں۔ میرے بچپن کا زمانہ جھنگ شہر کا تھا۔ یہ وہ علاقہ تھا‘ جہاں کھیتوں کے درمیان طویل قامت کھجوریں بھی دستیاب ہو تی تھیں۔کھجور کا درخت بڑا بے فیض ہوتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اونٹ کھجوروں کے گچھوں کا پرستار تھا یا ہم لوگوں سے بے زار۔اصل میں ہم دونوں ہی ایک دوسرے سے بے زار تھے۔ ہمیں کھجور نہیں ملتی تھی اور اونٹ کچی کھجوریں دیکھ کر اپنا سا منہ لے کر چل دیتا تھا۔ان دنوں سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کی زندگی میں بہت گہما گہمی ہوا کرتی تھی۔ کیا مزیدار مناظر دیکھنے کو ملتے تھے ! لیڈر جیلوں کے اندر بیٹھے اپنے ملاقاتیوں کے منتظر رہتے۔ یہ سلسلہ ظہر کی نماز کے بعد شروع ہو جاتا اور عشا کے اختتام تک جاری رہتا۔لیڈر حضرات بڑے فراخ دل ہوتے۔ ان کے نیاز مند‘ نذر نیاز پیش کرتے۔لیڈروں کے درمیان بہت موج میلے لگتے۔ اس وقت جیل کی پابندیاں ختم ہو جاتیں۔ جیل کا مرکزی دروازہ کھول دیا جاتا اور اندر جانے والوں کیلئے بڑااندرونی دروازہ کھول دیا جاتا۔

عام طور پر قیدی باہر جانے کے دروازے کی طرف جاتے ہیں‘ کیونکہ اس سے باہر نکلا جاتا ہے‘ لیکن اندر جانے والے دروازے پر شاید ہی کوئی جاتا ہو؛البتہ معزز لیڈران ‘زور آزمائی کر کے اپنے ساتھی کارکنوں سے ملاقات کرنے جاتے اور سب سے قیمتی نذر نیاز بڑے بڑے نوٹوں کے چھوٹے چھوٹے بنڈل ‘پہرے داروں سے نظریں چرا کر اپنے محبوب لیڈرکی خدمت میں پیش کرتے۔ ”پھانک‘‘کارکن ان لیڈروں کے گرد گھیرا تنگ کر لیتے‘ جہاں افطار کے سامان کے زیادہ بڑے ڈھیر لگے ہوتے تو راہ بدل قیدی اچھے اچھے پھلوں اور مٹھائیوں کی طرف لپکتے ۔ ان بیچاروں کو جیل کے باہر سے بھی کچھ نہیں ملتا تھا اور نہ ہی اندر سے۔جیل کے اندر بھی تگڑے قسم کے کارکن‘ تگڑے قسم کے پھل اور تگڑی مٹھائیوںپر ہاتھ صاف کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ بعض کھچرے لیڈر ایسے بھی ہوتے‘ جو انتہائی لذیذ قسم کی افطاری دبوچے باہر کو جاتے دکھائی دیتے تو طاقتور قسم کے مخلص کارکن‘ لیڈر سے اجازت لے کر نیاز مندی سے کہتے ”سر!تھوڑے سے پھل میرے بال بچے کیلئے بھی دے دیں۔ ہمیں تو روزروز ‘اچھی غذا کھانے کو نہیں ملتی۔ آپ روز سیر ہو کر کھاتے ہیں‘‘۔ جس پر لیڈر بے تکلفی سے کہہ دیتا ”میں تے جیل وچ بیٹھا آں‘ توں ساڈے پچھے ای پے گیاں ایں؟‘‘بعد میں ایسے بے تکلف کارکن کچھ نہ کچھ گھر لے جاتے ہوئے دکھائی دیتے۔سیاسی لوگ جانتے ہیں کہ عید جیل کے اندر ہو جائے تو اچھی ہے۔عید ناز نخروں کے ساتھ گزر جاتی تو پھر ایک ملاقات کا میلہ لگتا۔ مخلص کارکن بے تابی سے ملاقاتوں کے لئے جیل کی طرف چلے جاتے۔لیڈروں کے گھریلو ملازمین‘ بچے بچائے تحائف کی چھانٹی کر کے بنڈل بنا تے ہوئے جیل سے باہر نکل جاتے اورجب وہ گھروں کو واپس جاتے تو گلیوں میں کھیلتے ہوئے بچے بھاگ کر اپنے گھر میں جاتے ہیں اورسارے مل کر شور مچاتے ہیں کہ ”ساڈے لئی وی مٹھائیاں آگئیاں نیں‘ساڈا ابا!بڑا ای کھلے دل دااے‘‘۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.