اقامہ کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ کالم طیبہ ضیا

tayybia

نوازشریف کے بعد خواجہ آصف بھی فارغ۔ اقامہ رکھنا واقعی سنگین جرم ہے؟ پاکستان کے سیاست دان آخر جعلی تنخواہوں پر سعودی عرب اور یو اے ای کے اقامے کیوں رکھتے ہیں جبکہ پول کھل جانے پر قومی اسمبلی کی رکنیت تک معطل ہونے کا خطرہ ہے؟ غور طلب بات ہے کہ سویٹزرلینڈ سمیت کئی ممالک کے فارن بینکس، اکاو¿نٹ کھولنے پر آپ کی نیشنلٹی نہیں بلکہ ”رہائش“ رپورٹ کرتے ہیں یعنی وہ جگہ جہاں آپ رہتے ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ان اقاموں کی بدولت پاکستانی سیاستدان ان بینکوں میں خود کو یو اے ای یا سعودی عرب کا ٹیکس دہندہ ظاہر کرتے ہیں۔ تنخواہ وہ بے شک جعلی لیں لیکن ٹیکس وہاں وہ اصلی ادا کرتے ہیں۔ اب ان ممالک میں یہ سہولت ہے کہ اقامے کے لئے وہاں آپ کو مستقل رہائش رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ چھ ماہ میں آپ کا ایک وزٹ کافی ہوتا ہے۔
مطلب سیاست کرو پاکستان میں رہائش ظاہر کرو وہاں کی۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کبھی حکومت پاکستان ان ممالک کے بینکوں سے رابطہ کر کے پاکستانیوں کا ریکارڈ طلب کرے تو وہ سیاستدان صاف بچ جاتے ہیں جنہوں نے سعودی یا یو اے ای کے اقاموں پر اکاو¿نٹس کھولے ہیں۔ وہ فارن بینک ان کے نام پاکستان کو نہیں بتاتے۔ اسی لئے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی جعلی ملازمت پر یو اے ای کا اقامہ رکھا ہوا تھا تاکہ کل اس کے حوالے سے معلومات طلب کی جائیں تو سوئس اور برٹش بینک اس کا ریکارڈ پاکستان سے شیئر نہ کریں۔ اقامے کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ بروقت بھاگنے کا یہ سب سے تیز ترین ذریعہ ہے۔
آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی کے اراکین دہری شہریت نہیں رکھ سکتے۔ اس لئے اگر انہیں اچانک پاکستان سے بھاگنے کی ضرورت پڑے تو انہیں دوسرے ممالک کے ویزے کے لئے اپلائی کرنا پڑتا ہے۔ جس سے پورا پاکستان باخبر ہو جاتا ہے۔ ان اقاموں کی بدولت یہ صرف جہاز میں بیٹھتے ہیں اور راتوں رات نکل جاتے ہیں۔
اقامہ پانامہ سے بڑا اور زیادہ سنگین ایشو ہے۔ پانامہ میں صرف چند لوگوں کا نام آیا ہے لیکن اقامہ میں 80 فیصد پارلیمنٹ پکڑی جائے گی اور اگر یو اے ای اور سعودی حکومت نے تعاون کیا تو ان کے بینکوں کے وہ وہ ریکارڈز سامنے آئیں گے کہ لوگ پانامے کو بھول جائیں گے۔
سپریم کورٹ نے نہایت دوراندیشی سے ان سارے معاملات کو سمجھتے ہوئے بالکل درست جگہ پر نشانہ لگایا ہے۔
احسن اقبال صاحب نے معصومیت سے فرمایا تھا کہ ”مدینہ کا اقامہ اور ملازمت ہر مسلمان کے لیے ایک سعادت ہے۔ لیکن ہر مسلمان اقامہ حاصل کرنے سے محروم ہے جبکہ پاکستان کی سیاست میں اکثریت نے برے وقت کے لئے بیرون ممالک اپنے مستقل بندوبست کر رکھے ہیں۔ عدالت میں خواجہ آصف کے خلاف اثاثے چھپانے کی درخواست پاکستان تحریک انصاف کے عثمان ڈار نے جمع کرائی تھی۔ اس درخواست میں بتایا گیا کہ خواجہ آصف نے متحدہ عرب ریاست میں کام کرنے کا اقامہ مخفی رکھا جب کہ وہ اٹھائیس جون سن 2019 تک کارآمد ہے۔ ڈار کے وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل میں واضح کیا کہ ایک وفاقی وزیر کے منصب کے تحت اقامہ چھپانا دستور کے منافی ہے۔
خواجہ آصف سیالکوٹ کے ایک حلقے این اے 110 سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ ان کے مدِمقابل امیدوار عدالت میں درخواست دینے والے عثمان ڈار تھے۔ پاکستان کے سیاسی حلقوں نے خواجہ آصف کے خلاف دیئے گئے عدالتی فیصلے کو پاکستان مسلم لیگ نون اور تاحیات نا اہل قرار دیے گئے سابق وزیراعظم نواز شریف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔
خواجہ آصف پاکستان مسلم لیگ کے ایک اہم سیاستدان ہونے کے علاوہ زوردار مقرر بھی تصور کئے جاتے تھے۔ وہ اپنے حلقے میں مسلسل کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ ان کا تعلق سیالکوٹ شہر کی کشمیری کمیونٹی سے ہے۔ وہ سینیٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ا±ن کے خلاف درخواست دینے والے عثمان ڈار کا تعلق بھی مقامی کشمیری کمیونٹی سے ہے۔ ملک میں لوگوں کی آراءتقسیم ہیں۔ تحریک انصاف اور کئی دیگر جماعتیں نواز شریف کے خلاف احتساب اور عدالتی کارروائیوں کو بالکل صحیح قرار دیتی ہیں جب کہ نواز مخالف سیاسی تجزیہ کار بھی عدالتوں کے کام میں کوئی برائی نہیں دیکھتے۔ لیکن نون لیگ اور اس کے اتحادی اس احتساب کو امتیازی قرار دیتے ہیں۔
اس حوالے سے عدلیہ کا دفاع کرتے ہوئے تجزیہ نگار میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے کہا ”کیا اس وقت ملک میں آمریت نہیں تھی، جب انہوں نے ماڈل ٹاون میں درجنوں افراد کو ہلاک کروایا اور سینکڑوں کو زخمی کیا۔ جب عدالتیں خاموش تھیں تو سب ٹھیک تھا۔ آج اگر عدالت نے اس واقعے کی تفصیل مانگ لی ہے اور اس پر کارروائی کے حوالے سے جواب طلب کیا ہے تو عدالتیں خراب ہو گئی ہیں اور چیف جسٹس نے آمریت قائم کر دی ہے؟ جب انہوں نے عدالتوں پر حملے کئے اور عدالتیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں تو عدالتیں اچھی تھیں۔ آج یہ حملہ نہیں کر سکتے اور انہیں احتساب کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے تو عدالتیں خراب ہیں اور انہوں نے آمریت مسلط کر دی ہے؟ یہ سب کچھ عدالتوں کو بدنام کرنے کے لئے اور احتساب عدالت کے فیصلے کو پہلے ہی سے متنازعہ بنانے کے لئے کیا جا رہا ہے لیکن اس سے نواز شریف کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ سیدھی سی بات ہے کہ ایوین فیلڈ فلیٹ کی منی ٹریل دے دیں تو ان کی جان چھوٹ جائے گی۔“
سیاسی مبصرین کے خیال میں آنے والے دنوں میں ملک مزید سیاسی انتشار کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ ایک طرف اداروں اور نواز شریف کے درمیان کشیدگی ہے اور دوسری طرف وفاق کی علامت سمجھے جانے والے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات پر بھی اب کھل کو تنقید ہو رہی ہے، جس میں جماعتِ اسلامی کے رہنما سراج الحق کے بیان کے بعد مزید شدت آ گئی ہے۔ بشکریہ نوائے وقت

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.