الرجی کا علاج۔۔۔ ڈاکٹر فریدہ احمد

pollen

ہمارا واسطہ بہت ساری ایسی بیرونی چیزوں سے پڑتا ہے جن کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے ہمارا مدافعتی نظام فوراً کام شروع کر دیتا ہے (یہ کیمیائی اعتبار سے پروٹین ہوتی ہیں) لیکن اگر کسی وجہ سے ہمارا مدافعتی نظام کمزور پڑ جائے تو مضر چیزیں تو دور کی بات غیر مضر چیزیں بھی بسا اوقات ہمارے جسم میں ایک ردعمل پیدا کر دیتی ہیں جو مختلف علامات کی شکل میں ظاہر ہو تا ہے، جنہیں ہم الرجی کہتے ہیں۔ ایسی پروٹین جو الرجی پیدا کریں، الرجن کہلاتی ہیں۔ الرجی مختلف قسم کی ہو سکتی ہے۔ مثلاً سانس کی الرجی جسے دمہ کہتے ہیں، ناک کی الرجی یعنی نزلہ، آنکھوں کی الرجی، خوراک کی وجہ سے آنتوں کی الرجی، جلد اور ہونٹوں کی الرجی وغیرہ۔ جب بیرونی اشیا انسانی جسم میں داخل ہوتی ہیں تو وہ جسم میں ایک ردعمل پیدا کرتی ہیں جس کی وجہ سے مدافعتی نظام ایک خاص قسم کے اجزا بناتا ہے جسے ہم اینٹی باڈی کہتے ہیں مگر الرجی کی بیماری میں اینٹی باڈیز کی ایک قسم جسے IgE کہتے ہیں معمول سے بہت زیادہ مقدار میں بننا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ردعمل جسم میں داخل ہو نے والی اشیا کے خلاف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر موسم بہار میں پھولوں کے ذرات جنہیں ہم زردانے بھی کہتے ہیں، جب حساس لوگوں کے جسم میں داخل ہو جائیں تو یہ جسم میں مختلف علامات پیدا کر دیتے ہیں۔ اسے ہم پولن الرجی کہتے ہیں۔ زردانے بہت چھوٹے ذرات ہیں جو خوردبین سے دیکھے جا سکتے ہیں۔

بڑوں کے مقابلے بچوں میں اس بیماری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بعض موسم ایسے ہیں جن میں الرجی ہو سکتی ہیں۔ تھریشر کے سیزن میں، جو گرمیوں میں ہوتا ہے بہت سے لوگ سانس اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ برسات کے موسم میں نمی کی وجہ سے پھپھوندی پیدا ہوتی ہے جس کے باریک ذرات الرجی پیدا کرتے ہیں۔ سردیوں میں کچھ لوگوں کا مسئلہ موسم کی تبدیلی، ٹھنڈی سرد ہوا، سردی کا نزلہ اور دوسرے انفیکشنز کی زیادتی کے بعد شروع ہوتا ہے۔ وہ لوگ جوروئی کی کاشت والے علاقوں میں رہتے ہیں انہیں بھی جب روئی کی فصل اتاری جاتی ہے الرجی کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔

پولن کے علاوہ دھول مٹی، ڈسٹ مائٹ، بلی اور کتے کے فضلے اور بالوں، پرندوں کے فضلے، لال بیگ، شہد کی مکھی اوربھڑ کے زہر، سگریٹ، گاڑیوں اور ایندھن کے دھویں، بلڈ پریشر ، شوگر اور درد کی ادویات، مختلف سپرے، کارخانوں کے دھویں، کیمیکل، وارنش، پینٹ کے آبی ذرات اور ڈبوں کی خوراک محفوظ بنانے کے کچھ کیمیکلز، انڈے کی سفیدی، مچھلی، مونگ پھلی، دودھ اور کچھ دالیں وغیرہ الرجی پیدا کر سکتے ہیں۔ خواتین میں میک اپ کی اشیا، سرف، صابن، بلیچ وغیرہ بھی الرجی پیدا کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.