انتخابات ہوں گے یا نہیں؟جاوید صدیق

javed siddique

مجھے اکتوبر 1979ء کی وہ شام اب تک یاد ہے جب مرحوم ائیر مارشل اصغر خان راولپنڈی میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کر کے تحریک استقلال کے رہنما کرنل تصدق حسین کی اقامت گاہ پر آئے۔ جہاں انہوں نے پریس کانفرنس کی۔ کرنل تصدق حسین کی کوٹھی راولپنڈی کینٹ کی مشہور ’’پنج سڑکی‘‘ پر واقع تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اسی سال چار اپریل کو پھانسی دی جا چکی تھی۔ مارشل لاء حکومت نے اکتوبر میںانتخابات کرانے کا اعلان کر رکھا تھا۔ پیپلز پارٹی اور اس کے مخالف اتحاد پی این اے میں شامل جماعتیں انتخابی مہم چلا رہی تھیں۔ بھٹو کو پھانسی دئیے جانے کے بعد اس وقت پاکستان میں عمومی تاثر یہ تھا کہ اگلے وزیراعظم ائیر مارشل اصغر خان ہوں گے اصغر خان نے تھری پیس سوٹ اور ٹائی کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ یہ تاثر بھی بڑھ رہا تھا کہ بھٹو کے بعد ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف ائر مارشل اصغر خان کو امریکہ پاکستان میں وزیراعظم بنوانا چاہتا ہے۔ اسی زمانے میں اصغر خان نے اپنی ایبٹ آباد کی اقامت گاہ سے اسلام آباد آتے ہوئے اچانک ہری پور کے سول ہسپتال چلے گئے جہاں انہوں نے ہسپتال کا معائنہ کیا ائیر مارشل نے ہسپتال کے ایم ایس کو ڈانٹ پلائی کہ ہسپتال کی حالت بہت ناگفتہ بہ ہے۔ ائیر مارشل کے ہسپتال دورے کی خبر کے شائع ہونے سے اس تاثر کو اور بھی تقویت ملی کہ اصغر خان اگلے وزیراعظم ہوں گے۔

بات ہو رہی تھی اصغر خان اور جنرل ضیاء الحق کی ملاقات اور اس کے بعد کرنل تصدق کے گھر اصغر خان کی پریس کانفرنس کی اس پریس کانفرنس کو جن صحافیوں نے کور کیا تھا۔ ان میں سے سینئر صحافی سعود ساحر وہ ماشاء اﷲ اب بھی حیات ہیں۔ ایک اور سینئر صحافی اشرف ہاشمی اس دنیا میں اب نہیں۔ اشرف ہاشمی نے اصغر خان سے سوال کیا کہ ائیر مارشل صاحب کیا آپ کو یقین ہے کہ جنرل ضیاء الحق بروقت انتخابات کرا کے اقتدار منتخب نمائندوں کو سونپ دیں گے تو ائیر مارشل نے جواباً کہا مجھے پورا یقین ہے کہ جنرل ضیاء الحق انتخابات کرائیں گے۔ انہوںنے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے کر کہا: “It is a soldier’s promise to a soldier” یہ ایک سپاہی کا دوسرے سپاہی سے وعدہ ہے اس لئے مجھے یقین ہے کہ انتخابات ضرور ہوں گے۔

یہ الگ بات ہے کہ ائیر مارشل صاحب کی اس پریس کانفرنس کے چند دنوں بعد جنرل ضیاء الحق نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات منسوخ کرنے‘ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانے اور اخبارات پر سنسر شپ لگانے کا اعلان کر دیا۔ ائیر مارشل اصغر خان کو ایبٹ آباد میں ان کی اقامت گاہ پر نظر بند کر دیا جہاں وہ 1985ء تک نظر بند رہے۔

یہ 2018ء ہے اس وقت کوئی ایسا خدشہ نظر نہیں آ رہا۔ چیف جسٹس‘ چیف الیکشن کمشنر‘ نگران وزیراعظم جسٹس ناصر الملک سب نے اعلان کیا ہوا ہے کہ انتخابات 25 جولائی کو ہوں گے۔ اتفاق کی بات ہے کہ پاکستان میں گزشتہ پچاس برس میں جتنے انتخابات ہوئے ہیں وہ موسم بہار‘ موسم خزاں یا موسم سرما میں ہوئے۔ مون سون یا برسات کے موسم میں یہاں انتخابات نہیں ہوئے۔ انتخابات کے لئے ستمبر‘ اکتوبر‘ نومبر دسمبر یا فروری مارچ نہایت مناسب موسم خیال کیا جاتا ہے۔ اس وقت اہم ملکی اداروں اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہونا چاہئیں اس کے باوجود ایک انجانا خدشہ موجود ہے کہ شاید انتخابات بروقت نہ ہو سکیں۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ بھی معطل کر دیا ہے جس میں لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے نامزدگی فارم کو مسترد کر کے نیا نامزدگی فارم بنانے کی ہدایت کی تھی نئے نامزدگی فارم بنانے میں وقت لگ سکتا تھا اس لئے یہ خدشہ تھا کہ الیکشن بروقت نہیں ہوں گے۔

اب تو کوئی رکاوٹ باقی نہیں ہے۔ پھر بھی یہ خدشہ موجود ہے کہ انتخابات کرانے میں تاخیر ہو سکتی ہے سابق حکمراں جماعت کو بھی یہ خدشہ لاحق ہے کہ چونکہ وہ عوام میں بہت مقبول ہے اور پاکستانی قوم اسے دوبارہ منتخب کر کے اقتدار میں لائے گی اس لئے وہ طاقتیں جنہوں نے ان کے لیڈر سابق وزیراعظم نواز شریف کو نکال باہر کیا وہ ان کا راستہ روکیں گی۔ پیپلز پارٹی بھی اب زور و شور سے انتخابات مقررہ وقت پر کرانے پر زور دے رہی ہے۔ اس کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی کو کامیاب کرانے کے لئے ماحول بنایا جا رہا ہے۔ پی پی پی کی بات بنتی نظر نہیں آتی۔ اس لئے وہ مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ انتخابات کسی صورت بھی ملتوی نہیں ہونے چاہئیں۔ انتخابات میں تاخیر سے فائدہ پی ٹی آئی کو ہو سکتا ہے۔ خود پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہونا چاہئیں۔

جولائی کے ان انتخابات کے بروقت ہونے یا نہ ہونے کے سارے شبہات کا اظہار اب بھی ہو رہا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں تو قرارداد منظور ہو چکی ہے کہ انتخابات موخر کئے جائیں۔ جولائی میں سیلابوں کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔ کسی قدرتی آفت کو روکنا الیکشن کمشن کے بس کی بات نہیں۔ فی الحال تو رمضان المبارک آخری عشرہ میں داخل ہو رہا ہے۔ رمضان میں انتخابی مہم چلانا ممکن نہیں ہو گا۔ عیدالفطر کے بعد انتخابی مہم زور پکڑ سکے گی۔ جولائی کے انتخابات کا اصل معرکہ پنجاب میں متوقع ہے جہاں گھمسان کا رن پڑنے کا امکان ہے۔ ن لیگ پنجاب کو اپنا قلعہ سمجھتی ہے جب کہ پی ٹی آئی نے اپنا سارا فوکس پنجاب پر رکھا ہے کہ پنجاب سے ن لیگ کی اہم شخصیات پی ٹی آئی میں شامل ہو رہی ہیں۔ 25 جولائی کو اگر پولنگ پروگرام کے مطابق ہوتی ہے تو عیدالفطر کے بعد عملاً صرف چار ہفتے ہی انتخابی مہم کے لئے سیاسی جماعتوں کو میسر ہوں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتخابات جولائی میں ہو رہے ہیں۔ خدا کرے یہ انتخابات پرامن اور اچھے ماحول میں ہو جائیں۔ ویسے جولائی میں تو پاکستان میں مارشل لاء لگا تھا جو آٹھ برس تک پاکستان پر مسلط رہا۔ پانچ جولائی 1977ء کو بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگایا گیا۔ جو 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات تک جاری رہا۔ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.