انسان کو عزت دو۔اسما طارق

Asma Tariq columnist
ہمارے ہاں اکیسویں صدی میں بھی کھسرا کھسرا ہی رہے گا ۔۔۔۔۔چھوٹو برتن ہی دھوئے گا ۔۔۔۔اسلم لمبو ۔۔۔شیدا موٹو ۔۔۔۔ اور پروین کالی ہونے کی وجہ سے تا عمر کنواری رہے گی ۔۔۔۔۔منحوس اور فلاں فلاں بھی اپنے عہدوں پر براجمان رہیں گے کیونکہ ہم سے کسی کو دو بول عزت نہیں دی جاتی اور پھر ماشاءاللہ پھر ہم نے بچوں کے سامنے ملازمین کو گالیاں دے دے کر ان کی اتنی اچھی تربیت کی ہے کہ وہ ضرور ہماری اس وراثت کو آگے لے کر چلیں گے اور پھر ہم کہتے ہیں آجکل کی اولادیں نافرمان ہیں ۔۔۔۔ جناب ہم نے کب کہا کہ آپ کچھ بڑا ہی کریں ہم تو بس اتنی گذارش کرتے ہیں کہ آج سے انسان کو انسان سمجھ لیجیے اور انسانیت کے ناتے ہر فرق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے تھوڑی سی عزت دے دیجئے۔۔۔۔کسی کی تذلیل نہ کیجئے ۔۔۔۔یہی چھوٹا سا قدم ہماری نسلیں سنوار دے گا۔۔۔۔۔۔ بس اب ہمیں ذات پر حملہ کرنے والے بھونڈے مذاق ختم کر دینے چاہیے اِنہوں نے ہمارے معاشرے کو کچھ نہیں دیا سوائے نفرت اور حقارت کے ۔۔۔۔ذرا سوچ کر بتائیں کب آپ نے کسی خواجہ سرا کی عزت کی ہے اور اسے انسان سمجھا ہے ۔۔۔۔۔۔یہ سب کرنے کےلیے تو کسی کو قارون کے خزانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔ کیا آپ نے اسے یہ حق دیا یہ کہ وہ عام انسان کی طرح معاشرے میں اٹھ بیٹھ سکے ۔۔۔۔۔آپ تو اسے ہمیشہ حقارت سے دیکھتے ہو ۔۔۔۔اور اس دنگل میں گرنے پر مجبور کرتے ہو جسے پھر آپ اچھا نہیں سمجھتے.۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہم ہمیشہ لوگوں کو انکی شکل و صورت یا رنگ و نسل کی بنا پر عزت نہیں دیتے ہیں حالانکہ ان میں انکا کوئی ہاتھ ہی نہیں یہ سارا معاملہ تو اوپر والے کے اختیار میں ہے۔۔۔۔وہ انسان کو جیسا چاہے اور جہاں چاہے تخلیق کرے۔۔۔۔۔تو پھر میں اور آپ اسکی تذلیل کرنے والے ہوتے کون ہیں ۔۔۔۔۔۔ ادھر دنیا بھوک اور پیاس سے مر رہی ہے ۔۔۔۔۔اور ہمارے مسئلے کیا ہیں کہ فلاں کالا ہے ، گورا ہے ، لمبا ہے، پتلا ہے ۔۔۔۔عورت ہے مرد ہے یا خواجہ سرا ہے ۔۔۔ فلاں کا پوتا ہے فلاں کا نواسا ہے ۔۔۔۔کیونکہ ہمارے لیے انسان کا انسان ہونا کافی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی انقلاب برپا کریں ۔۔۔۔۔دنیا ہمارے گن گائے مگر افسوس کہ ہم کسی انسان کو تھوڑی سی عزت نہیں دے سکتے۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.