اگر بجلی کا کرنٹ لگ جائے تو…ڈاکٹر ابرار احمد

light shock

بجلی کا کرنٹ لگنے سے موت واقع ہو سکتی ہے بصورتِ دیگر کرنٹ لگنے سے شدید چوٹ بھی لگ سکتی ہے اور سانس بھی بند ہو سکتی ہے۔ کرنٹ کے اثرات کا انحصار کرنٹ کی شدت پر ہے۔ آسمانی بجلی کے اثرات بھی وہی ہوتے ہیں جو عام بجلی کا جھٹکا لگنے کے ہوتے ہیں، تاہم اس کی شدت کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ کیا کرنا چاہیے:

۱۔ ایسے مریض کے پاس اس وقت تک نہ جائیں، جب تک آپ خود کو محفوظ خیال نہ کر لیں۔ اگر مریض بجلی سے چمٹا ہوا ہے تو فوراً بجلی کا مین سوئچ بند کر دیں۔ گھروں میں بجلی کی قوت نسبتاً کم ہوتی ہے۔ مین سوئچ سے پہلے چھوٹا بٹن، جس کے پاس مریض کو کرنٹ لگا ہے، وہ بند کر دیں۔

۲۔ فیکٹریوں یا بڑی جگہوں پر بجلی کی قوت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں بجلی والی جگہ سے دور رہیں اور بہتر ہے کہ کسی ماہر الیکٹریشن کی مدد حاصل کریں۔

۳۔ اگر مریض بجلی کے تار سے چمٹ گیا ہے اور کسی وجہ سے بجلی کا سوئچ بند نہیں کیا جا سکتا تو مریض کے قریب جانے سے آپ کو بھی بجلی کا جھٹکا لگ سکتا ہے۔ ایسے میں خشک لکڑی کی کوئی چیز، ڈنڈا وغیرہ، جو بالکل خشک ہو، وہ لیں۔ خود ربڑ یا لکڑی پاؤں کے نیچے رکھیں اور مریض کو لکڑی کی چیز، جیسا کہ ڈنڈا، کے ذریعے تاروں سے دور کریں۔

۴۔ اگر مریض کے کپڑوں کو آگ لگ گئی ہے تو اسے کسی کپڑے یا تولیے کے ذریعے بجھائیں۔ اگر مریض جھٹکا لگنے سے نیچے گر گیا ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ وہ سانس لے رہا ہے یا نہیں اور اس کی نبض چل رہی ہے یا نہیں۔ ان میں رکاوٹ کی صورت میں دل کی مالش اور مصنوعی سانس دینے کا عمل فوراً شروع کر دیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ اس کو زیادہ چوٹ تو نہیں آئی۔ اس کی ہڈیاں تو ٹھیک ہیں۔

۵۔ اگر مریض سانس لے رہا ہے یا اس کی سانس بحال ہو گئی ہے تو اس کی نبض دیکھتے رہیں اور اس کی سانس کا معائنہ کرتے رہیں۔ اس کے زخموں پر توجہ دیں۔ جل جانے والی جگہ ٹھنڈے پانی سے دھوئیں اور صاف پٹی کر دیں۔ جتناجلد ہو سکے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ احتیاطی تدابیر:

۱۔ بجلی کے کرنٹ سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے بارے آگاہ رہیں اور گھر میں انہیں اختیار کریں۔

۲۔ وائرنگ، بجلی کے تار اور سوئچ وغیرہ درست حالت میں ہونے چاہئیں۔ اگر کوئی سوئچ ٹوٹ جائے تو فوراً مرمت کرائیں۔

۳۔ بارش کے دنوں میں بٹن دباتے وقت خصوصی احتیاط کریں۔ خاص طور پر ایسے بٹن جو گھر سے باہر ہوں۔
۴۔ بجلی سے چلنے والی مشینری استعمال کرتے وقت گیلی جگہ پر خصوصی احتیاط کریں۔ بہتر یہ ہے کہ بجلی والی مشینری سے کام کرتے وقت ربڑ کے جوتے پہن لیں۔
۵۔ زمین پر گری ہوئی کس قسم کی تار کو نہ چھیڑیں۔ ایسا کرنے سے آپ کو بجلی کا شدید جھٹکا لگ سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.