اگلی اسمبلی میں آزاد امیدوار زیادہ ہونگے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی

ajmal-khan-niazi

آصف علی زرداری کی باتیں کبھی کبھی بہت مزیدار ہوتی ہیں۔ وہ اپنے پڑھنے والوں کو بوریت کا شکار نہیں کرتے ہمارے کئی سیاستدانوں کو بات کرنا نہیں آتی۔ زرداری کی محفل بھی بورنگ نہیں ہوتی۔

آج کل وہ بڑی آسانی سے نواز شریف کو شکار بنا لیتے ہیں۔ جنگلوں میں کئی ہرن اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کوئی آئے اور ہمیں شکار کر لے۔ انہوں نے ایک ایسی بات کی ہے کہ آدمی تھوڑا سا مسکراتا ہے پھر سوچتا ہے کہ یہاں اس کا مطلب کیا ہے؟ زرداری صاحب کہتے ہیں کہ نواز شریف نے لندن میں پناہ لے لی ہے۔ لندن تو اب نواز شریف کا دوسرا گھر ہے بلکہ تیسرا اور چوتھا گھر بھی ہے۔ ان کے ہر ملک میں گھر ہیں۔ جو چیز جائیداد میں شمار ہوتی ہے وہ ان کے پاس بے شمار ہے۔ جو پیسہ ان کے پاس ہے اور جتنی پراپرٹی ہے۔ اگر اسے پاکستان کے عوام میں انصاف کے ساتھ تقسیم کر دیا جائے تو غربت وغیرہ ختم ہو جائے۔

آج کل نواز شریف کے حوالے سے خبریں ہی خبریں ہیں مگر یہ بات پریشانی والی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ جس کا تعلق رہا ہے اور وہ اثر و رسوخ بھی رکھتا ہے۔ وہ پھنس جاتا ہے۔ نواز شریف کے پریس سیکرٹری فواد حسن فواد کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

فواد حسن بڑے کام کے آدمی تھے؟ بلکہ ہیں۔ بہت بڑے سرکاری افسر اب سرکاری مہمان بن گئے ہیں۔ ہمیشہ سے ایسے ہی لوگوں کی مہمان نوازیاں ہوتی رہی ہیں۔ بڑے سرکاری افسران پاکستان میں ہی مشہور ہو جاتے ہیں ورنہ دوسرے ملکوں میں انہیں جانتا بھی کوئی نہیں۔ پاکستان میں افسران اور حکمران میں کوئی فرق نہیں رہا۔
پاکستان کے افسران ہر کہیں معروف اور حکومت کرنے والے سیاستدانوں کو آسانیاں فراہم کرتے ہیں۔ بڑے سے بڑا سیاستدان افسران کا محتاج ہوتا ہے۔ اصل حکمران افسران ہی ہوتے ہیں صرف ان کے بیانات میڈیا پر نہیں آتے۔ سیاستدانوں کو بھی اپنے ووٹرز میں سے کسی کا کام کرانا ہوتا ہے تو وہ بھی افسران کے پاس جاتے ہیں۔

شہباز شریف کہتے ہیں اب زرداری اور نیازی اکٹھے ہو گئے ہیں۔ عوام کسی بھول میں نہ رہیں۔ شہباز شریف ہمیشہ عمران خان کو نیازی کہتے ہیں۔ میں نے ان سے ایک بار کہا تھا کہ عمران تو اپنے نام کے ساتھ بھی نیازی نہیں لکھتے تو آپ انہیں کس حساب سے نیازی کہتے ہیں۔ وہ نیازی ہیں مگر اسے اون نہیں کرتے۔

عمران خان کبھی نمایاں طور پر شہباز شریف کا ہدف نہیں رہے۔ مگر جب سے زرداری اور عمران کے ساتھ کوئی بات دیکھتے ہیں تو انہیں کچھ محسوس ہوتا ہے۔ زرداری صاحب شہباز شریف سے کوئی خاص خطرہ محسوس نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ زرداری اور نیازی اکٹھے ہو گئے تو پھر عوام کسی بھول میں نہ رہیں۔
آصف زرداری نے پھر ایک غیر متوقع بات کر دی ہے۔ میں اپوزیشن میں بیٹھوں گا یہ ہوا تو بڑا مزا آئے گا۔ جمہوریت میں اپوزیشن لیڈر کی بھی ایک پوزیشن ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کے ساتھ لیڈر کا لفظ بڑا ضروری ہے۔
آج کل زرداری صاحب پنجاب کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ بلاول بھی پنجاب کا دورہ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے انتخاب 2018ء کے لئے بھی چونکا دینے والی باتیں کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انتخاب سو فیصد درست نہیں ہوں گے۔ یہ جملہ بھی سنیں اور غور کریں کہ جسے بھی حکومت ملے اسے ہم سے بات کرنا ہو گی۔ مجھے لگتا ہے کہ زیادہ تر آزاد امیدوار جیتیں گے اور وزیراعظم کوئی سنجرانی جیسا سیاستدان ہو گا۔ یہ بات بھی بڑی اہمیت والی ہے کہ نواز شریف لندن میں پناہ لیں گے اور قیادت مریم نواز کے سپرد ہو گی۔ اس طرح نون لیگ بڑے امتحان میں چلی جائے گی۔ اگر ٹیم اس کے ساتھ اچھی ہوئی تو وہ لوگوں کو حیران کر دے گی۔ پریشان کرنے کی بات بھی سامنے رہنا چاہئے۔

مریم کو چودھری نثار کی مخالفت کا سامنا ہو گا۔ وہ تو مریم کو مانتے ہی نہیں کہتے ہیں وہ ابھی بچی ہے۔ ہر آدمی پہلے بچہ ہی ہوتا ہے۔ مجھے شفیق الرحمن کا یہ جملہ نہیں بھولتا۔

بچے بہت اچھے ہوتے ہیں مگر ان میں ایک خرابی ہے کہ وہ بڑے ہو جاتے ہیں۔ آصف علی زرداری کی باتیں کبھی کبھی بہت مزیدار ہوتی ہیں۔ وہ اپنے پڑھنے والوں کو بوریت کا شکار نہیں کرتے ہمارے کئی سیاستدانوں کو بات کرنا نہیں آتی۔ زرداری کی محفل بھی بورنگ نہیں ہوتی۔

آج کل وہ بڑی آسانی سے نواز شریف کو شکار بنا لیتے ہیں۔ جنگلوں میں کئی ہرن اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کوئی آئے اور ہمیں شکار کر لے۔ انہوں نے ایک ایسی بات کی ہے کہ آدمی تھوڑا سا مسکراتا ہے پھر سوچتا ہے کہ یہاں اس کا مطلب کیا ہے؟ زرداری صاحب کہتے ہیں کہ نواز شریف نے لندن میں پناہ لے لی ہے۔ لندن تو اب نواز شریف کا دوسرا گھر ہے بلکہ تیسرا اور چوتھا گھر بھی ہے۔ ان کے ہر ملک میں گھر ہیں۔ جو چیز جائیداد میں شمار ہوتی ہے وہ ان کے پاس بے شمار ہے۔ جو پیسہ ان کے پاس ہے اور جتنی پراپرٹی ہے۔ اگر اسے پاکستان کے عوام میں انصاف کے ساتھ تقسیم کر دیا جائے تو غربت وغیرہ ختم ہو جائے۔

آج کل نواز شریف کے حوالے سے خبریں ہی خبریں ہیں مگر یہ بات پریشانی والی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ جس کا تعلق رہا ہے اور وہ اثر و رسوخ بھی رکھتا ہے۔ وہ پھنس جاتا ہے۔ نواز شریف کے پریس سیکرٹری فواد حسن فواد کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
فواد حسن بڑے کام کے آدمی تھے؟ بلکہ ہیں۔ بہت بڑے سرکاری افسر اب سرکاری مہمان بن گئے ہیں۔ ہمیشہ سے ایسے ہی لوگوں کی مہمان نوازیاں ہوتی رہی ہیں۔ بڑے سرکاری افسران پاکستان میں ہی مشہور ہو جاتے ہیں ورنہ دوسرے ملکوں میں انہیں جانتا بھی کوئی نہیں۔ پاکستان میں افسران اور حکمران میں کوئی فرق نہیں رہا۔

پاکستان کے افسران ہر کہیں معروف اور حکومت کرنے والے سیاستدانوں کو آسانیاں فراہم کرتے ہیں۔ بڑے سے بڑا سیاستدان افسران کا محتاج ہوتا ہے۔ اصل حکمران افسران ہی ہوتے ہیں صرف ان کے بیانات میڈیا پر نہیں آتے۔ سیاستدانوں کو بھی اپنے ووٹرز میں سے کسی کا کام کرانا ہوتا ہے تو وہ بھی افسران کے پاس جاتے ہیں۔

شہباز شریف کہتے ہیں اب زرداری اور نیازی اکٹھے ہو گئے ہیں۔ عوام کسی بھول میں نہ رہیں۔ شہباز شریف ہمیشہ عمران خان کو نیازی کہتے ہیں۔ میں نے ان سے ایک بار کہا تھا کہ عمران تو اپنے نام کے ساتھ بھی نیازی نہیں لکھتے تو آپ انہیں کس حساب سے نیازی کہتے ہیں۔ وہ نیازی ہیں مگر اسے اون نہیں کرتے۔

عمران خان کبھی نمایاں طور پر شہباز شریف کا ہدف نہیں رہے۔ مگر جب سے زرداری اور عمران کے ساتھ کوئی بات دیکھتے ہیں تو انہیں کچھ محسوس ہوتا ہے۔ زرداری صاحب شہباز شریف سے کوئی خاص خطرہ محسوس نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ زرداری اور نیازی اکٹھے ہو گئے تو پھر عوام کسی بھول میں نہ رہیں۔

آصف زرداری نے پھر ایک غیر متوقع بات کر دی ہے۔ میں اپوزیشن میں بیٹھوں گا یہ ہوا تو بڑا مزا آئے گا۔ جمہوریت میں اپوزیشن لیڈر کی بھی ایک پوزیشن ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کے ساتھ لیڈر کا لفظ بڑا ضروری ہے۔

آج کل زرداری صاحب پنجاب کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ بلاول بھی پنجاب کا دورہ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے انتخاب 2018ء کے لئے بھی چونکا دینے والی باتیں کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انتخاب سو فیصد درست نہیں ہوں گے۔ یہ جملہ بھی سنیں اور غور کریں کہ جسے بھی حکومت ملے اسے ہم سے بات کرنا ہو گی۔ مجھے لگتا ہے کہ زیادہ تر آزاد امیدوار جیتیں گے اور وزیراعظم کوئی سنجرانی جیسا سیاستدان ہو گا۔ یہ بات بھی بڑی اہمیت والی ہے کہ نواز شریف لندن میں پناہ لیں گے اور قیادت مریم نواز کے سپرد ہو گی۔ اس طرح نون لیگ بڑے امتحان میں چلی جائے گی۔ اگر ٹیم اس کے ساتھ اچھی ہوئی تو وہ لوگوں کو حیران کر دے گی۔ پریشان کرنے کی بات بھی سامنے رہنا چاہئے۔

مریم کو چودھری نثار کی مخالفت کا سامنا ہو گا۔ وہ تو مریم کو مانتے ہی نہیں کہتے ہیں وہ ابھی بچی ہے۔ ہر آدمی پہلے بچہ ہی ہوتا ہے۔ مجھے شفیق الرحمن کا یہ جملہ نہیں بھولتا۔
بچے بہت اچھے ہوتے ہیں مگر ان میں ایک خرابی ہے کہ وہ بڑے ہو جاتے ہیں۔ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.