اہلِ دانش کا اضطراب۔۔ خورشید ندیم

khurshid nadeem logo

اہلِ دانش کا اضطراب روز افزوں ہے۔ اس کو تھامنا اور کسی مثبت قوت میں بدلنا ہی دانش کا اصل امتحان ہے۔

کچھ تو وہ ہیں‘ جن کے دماغ میں اخلاص ہی پایا جاتا ہے۔ ان سے اظہارِ ہمدردی کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کچھ وہ ہیں جو سیاسی حرکیات کو سمجھتے اور جانتے ہیں کہ سیاست تاریخ کے کسی دور میں بھی سماجی حقائق سے لا تعلق اور بے نیاز نہیں رہی۔ سیاست میں مثالیت پسندی سے بڑا دھوکہ کوئی نہیں۔ اُن کو خبر ہے کہ ہم انسانوں کی بستی میں زندہ ہیں، فرشتوں کے شہر میں نہیں۔ یہاں انسانوں کی تقسیم بھی ایسی نہیں کہ صالحین ایک طرف کر دیے گئے ہوں اور شیاطین دوسری طرف۔ پھر یہ کہ نہ کوئی سراپا شر ہے اور نہ کوئی سراپا خیر۔ کہیں شر غالب ہے اور کہیںخیر۔ شر اور خیر کی صورتیں بھی مختلف ہیں۔
دانش ور وہی ہے جو سوچتا ہے۔ جو سوچتا ہے، وہ دوسروں سے اختلاف بھی کرتا ہے۔ جو دوسروں سے اختلاف کرتا ہے، وہ ان کو بھی یہ حق دیتا ہے کہ وہ اس سے اختلاف کریں۔ اگر اس بات کا عملی مظاہرہ ہو تو اختلاف کو ایک صحت مند مکالمے میں بدلا جا سکتا ہے۔ دانش مند معاشروں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ دانش فکری تعصبات سے بلند ہوتی اور اختلاف سے اتفاق کی طرف بڑھتی ہے۔
مصر اور پاکستان کے حالات میں ایک حد تک یکسانیت ہے۔ بیسویں صدی میں مسلمانوں کے فکری و سیاسی احیا کا زیادہ تر کام ان دو ملکوں ہی میں ہوا۔ مصر میں اگر محمد عبدہ اور رشید رضا تھے تو یہاں سر سید اور ابوالکلام آزاد۔ وہاں حسن البنا اور سید قطب تھے تو یہاں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ وہاں ناصر تھے تو یہاں بھٹو۔ مصر کی سیاست پر فوج کا غلبہ رہا اور اہلِ پاکستان کا زیادہ وقت بھی مارشل لا کے سائے میں گزرا۔ دونوں کو مذہبی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تجربہ البتہ مصر میں ایسا ہوا جو یہاں نہیں ہو سکا۔

1990ء کی دہائی میں، مصر کے اہلِ علم جمع ہوئے۔ ان میں شیخ غزالی اور یوسف القرضاوی جیسے علما، طارق بشری جیسے صحافی اور مالک ابوالنجد جیسے قانون دان شامل تھے۔ انہوں نے اپنے نظری اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ‘الوسطیہ‘ کے نام سے ایک فکری محاذ بنایا‘ اور قوم کی اصلاح کے لیے ایک منشور ترتیب دیا۔ اس منشور میں تعلیم، آرٹ، خارجہ پالیسی، معیشت اور سیاست سمیت بہت سے مسائل پر ایک سوچا سمجھا موقف قوم کے سامنے رکھا گیا۔ مثال کے طور پر یہ منشور اسلامی بینکنگ تجویز کرتا ہے‘ لیکن ساتھ ہی مغربی طرز کی بینک کاری کو بھی گوارا کرتا اور تدریجی اصلاح کا قائل ہے۔
یہ تجربہ بہت کامیاب نہیں ہوا۔ اس کی ایک بڑی وجہ مصر کی سیاست میں فوج کی مداخلت تھی‘ جس کا ناگزیر نتیجہ سیاسی و سماجی عدم استحکام ہوتا ہے۔ فوج کی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ مداخلت سیاسی عمل کو منجمد کر دیتی ہے؛ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصر کے اہلِ دانش نے اپنی ذمہ داری ادا کی۔ انہوں نے ایک نازک موقع پر قوم کی راہنمائی کی جب ایک فکری اور سیاسی انتشار اس کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ انہوں نے زبانِ حال سے بتا دیا کہ وہ اپنے تعصبات اور مفادات سے بلند ہو سکتے اور بحران میں اپنا فکری توازن برقرار رکھ سکتے ہیں۔

پاکستان کے اہلِ دانش میں اس نوعیت کی تحریک کبھی نہیں اٹھی۔ یہاں ایک حادثہ یہ ہوا کہ دانش کی تعریف ہی بدل گئی۔ جو آدمی اخبار میں چند سطریں لکھ لیتا ہے یا ٹی وی سکرین پر سب سے بلند آہنگ سنائی اور دکھائی دیتا ہے، ریاست اور معاشرہ، اسے دانش ور سمجھ لیتے ہیں۔ دانش یہاں پبلک ریلیشننگ کا ایک کھیل بن گیا۔ سابقہ دور حکومت میں، میں نے دیکھا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں جب دانش وروں کی فہرست بنتی تھی تو ایک ٹی وی چینل سے شروع ہوتی اور کسی دوسرے چینل پر تمام ہو جاتی۔ اب ٹی وی سکرینوں پر جو دانش جلوے دکھا رہی ہے، اس سے وزیر اعظم ہائوس کے افسر واقف ہوں نہ ہوں، عام آدمی تو واقف ہے۔
یہ صرف حکومت تک محدود نہیں، دیگر شعبوں میں بھی دانش کو ماپنے کا پیمانہ یہی ہے۔ پہلے تو میں خیال کرتا تھا کہ یہ کوتاہ نظری کی دلیل ہے۔ اب اندازہ ہوتا ہے کہ دانستہ ہے۔ کسی کو دانش سے کوئی دلچسپی نہیں۔ سب کو اپنی ساکھ کی فکر ہے اور انہیں ایسے لوگوں کی تلاش ہوتی ہے‘ جو ان کے حق میں پروپیگنڈا کر سکیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ ایک سیاست دان جب حکومت سے باہر ہوتا ہے تو اس کے گرد کچھ اور طرح کے دانش ور دکھائی دیتے ہیں اور جب وہ حکومت میں جاتا ہے تو کچھ اور طرح کے۔

اس کے باوجود، کچھ لوگ رضا کارانہ طور پر عقل کی بات کر رہے ہیں۔ وہ دیانت داری کے ساتھ اصلاحِ احوال کے لیے مشورے دے رہے ہیں۔ اصولی بات کہہ رہے ہیں۔ ریاست ان کی طرف متوجہ ہے نہ معاشرہ۔ سیاسی جماعتوں میں بھی سنجیدہ غور و فکر کی روایت دم توڑ چکی۔ ن لیگ میں مشاہد حسین سید نام کے ایک آدمی شامل ہوئے تھے‘ جو دانش ور کی ہر تعریف پر پورا اتر تے ہیں۔ کوئی ایسی شہادت موجود نہیں کہ وہ اپنی پارٹی کو کسی دانش سے نواز رہے ہیں یا نواز لیگ کو ان کی دانش کی کوئی حاجت ہے۔

ان اہلِ دانش کو اب انفرادی ابلاغ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انہیں آگے بڑھ کر اجتماعی دانش کا کوئی مظہر، کسی منشور یا میثاق کی صورت میں سامنے لانا چاہیے‘ اور اس کے لیے اجتماعی ابلاغ کی تحریک اٹھانی چاہیے۔ پاکستان کے قومی مسائل الجھتے جا رہے ہیں۔ تقسیم کا عمل کئی جہتوں میں جاری اور آگے بڑھ رہا ہے۔
ایک حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ حساس لوگوں میں نظری بُعد کے باوجود، قومی مسائل کی تفہیم میں اتفاق پیدا ہو رہا ہے۔ ادارہ تعلیم و تحقیق کی ایک مجلس میں، میں نے پہلی بار وجاہت مسعود اور حفیظ اللہ نیازی کو ہم آواز دیکھا۔ غمِ الفت کے احسانات نے انہیں اتفاق پر مجبور کر دیا۔ درد کا اشتراک، فکری اختلاف سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے۔
اسی اشتراک کی بنیاد پر اہلِ دانش کو مل بیٹھنا چاہیے۔ مصر کی ‘الوسطیہ‘ کی طرز پر، قوم کو ایک منشور دینا چاہیے۔ یقیناً اس گروہ میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہونے چاہئیں جن کا تعلق میڈیا کے ساتھ ہو‘ لیکن اس کے باوجود، دانش سے بھی رسم و راہ رکھتے ہوں۔ جیسے مصر کے طارق بشری ایک کالم نگار ہیں‘ جو اس تحریک کا حصہ تھے اور انہوں نے اپنے کالموں کے ذریعے الوسطیہ کے منشور کی تشہیرِ عام کی۔
یہ لوگ خود کسی منصب کے طلب گار ہوں اور نہ کسی حکومت کا حصہ بنیں۔ وہ یہ خدمت رضا کارانہ طور پر سر انجام دیں اور حکومت کو بھی اپنی خدمات پیش کریں‘ اگر وہ اس کی ضرورت سمجھے۔ بصورتِ دیگر، وہ عوام تک اپنی بات پہنچائیں اور ایک سوشل پریشر بڑھائیں تا کہ حکومت اور ریاستی ادارے ان کی آواز پر کان دھرنے پر مجبور ہو جائیں۔ میڈیا کے ذمہ داران کو بھی قائل کریں کہ وہ ایک وقت اس منشور کی تشہیر اور ابلاغ کے لیے وقف کریں۔

اہلِ دانش کا غم و غصہ ایک مثبت قوت میں بدل سکتا ہے، اگر وہ خود چاہیں۔ وہ عوام کے ردِ عمل کو یہ سوچ کر نظر انداز کر دیں کہ وہ ایک ایسا بیمار بچہ ہے جو کڑوی دوا پلانے والے سے ناراض ہو جاتا ہے اور یہ جانتا نہیں کہ یہ اس کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ یہ اہلِ دانش ہی تھے جنہوں نے سیاست میں ایک انتہا پسندانہ سوچ پیدا کی ہے۔ اب اگر وہ خود اس کا شکار ہوئے ہیں تو انہیں ناراض نہیں ہونا چاہیے۔

آج قوم کو ایک متبادل بیانیے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک طویل عمل ہے لیکن کچھ کام ایسے ہیں جو فوری طور پر کیے جا سکتے ہیں۔ اہلِ دانش کو قوم کی راہنمائی کرنی ہے۔ یہ کام غصہ دلانے یا غصہ کھانے سے نہیں ہو گا۔ اس کے لیے فکری ریاضت کے ساتھ، صبر کی بھی ضرورت ہے۔ یہ دونوں کام مشکل ہیں لیکن ان سے گریز کے نتائج بھی بہت بھیانک ہیں۔ کاش کوئی اس کا بیڑا اٹھا سکے۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.