ایم بی اے پاس مزدور۔۔۔ ڈاکٹر شاکرہ نندنی

Dr Shakira

عرفان کواس وسیع و عریض شہر کی خاک چھانتے ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ ہو چکا تھا۔ کس قدرامیدوں سے یہا ں آیا تھا۔ بڑی کوٹھی والے صاحب کا خط بھی کوئی مدد نہ کر سکا ایک ہی جواب تھا۔ ابھی ہمارے پاس گنجائش نہیں ساری نوکریوں پر بندے رکھے جا چکے ہیں۔ آپ اپنے کاغذات کی کاپی جمع کروادیں ضرورت ہوگی تو بلالیں گے۔

بس اتنا ہوا کہ بڑی کوٹھی کے چودہری صاحب کی بیٹی کے کوارٹر میں ایک چارپائی اور ایک وقت کا کھانا مل جاتا۔ اسے اماں کی محنت مشقت بُری طرح یاد أرہی تھی ۔ دوسرے محنت کشوں کے بچوں کی طرح اماں نے ہمیشہ اسے محنت مزدوری سے باز رکھا ۔” بیٹا ابھی تُو پڑھ …. جب پڑھ لکھ جائے گا بڑا آدمی بنے گا میرا بیٹا اور یہی میرا صلہ ہے.

اسی طرح اپنی غریبی میں اسے پڑھاتے ہوئے اچھی یونیورسٹی سے اسے ایم بی اے کروایا۔ وہ قابل اور محنتی تھا وظائف بھی ملے اور یوں ڈگریاں تو حاصل ہوگئی لیکن ملازمت کی کوئی امید نہیں بن پا رہی تھی۔
لائی ہوئی رقم بھی ساتھ چھوڑے جا رہی تھی ۔ اس نے جائزہ لیا بمشکل ڈیڑھ سو روپے باقی تھے ۔ وہ سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے مزدوروں کو آتے جاتے دیکھتا تھا ۔
آخر اُس نے فیصلہ کر ہی لیا ۔
” بھائی یہ کُھدال کتنے میں بیچوگے؟”
اَسِی روپے میں سودا طے ہوا ۔ اسی دوران ایک گاڑی رکی ،بیگم صاحبہ کو کھدائی کے لئے مزدور چاہئے تھے ۔ پانچ سو روپے کی دیہاڑی طے ہوئی اور عرفان اپنی پہلی نوکری پر روانہ ہوا ۔

نوٹ۔ ادارے کا کالم نگار/بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.