بات ادھوری کرتی ہو پھر بھی شکوے ہزار کرتی ہو ۔ اسما طارق

isma tariq columnist

بات ادھوری کرتی ہو پھر بھی شکوے ہزار کرتی ہو 
چاند سے کتنا دور رہتی ہو پھر بھی پاس رہتی ہو 
چپ چاپ  سب سہتی ہو پھر بھی ہستی مسکراتی رہتی ہو 
زبان پہ لاکھ قفل سجائے رکھتی ہو پھر بھی سب کہہ دیتی ہو 
محبت اچھی کرتی ہو پھر بھی چھپائے رکھتی ہو 
پر کٹے رکھتی ہو پھر بھی اڑان بھرتی ہو 
چھپکلی سے ڈرتی ہو پھر بھی حوصلہ کمال رکھتی ہو 
ہزار زخم لیے پھرتی ہو پھر بھی خواب سجائے رکھتی ہو 
اے پاگل لڑکی !تم بھی نہ حد کرتی ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.