بادشاہوں کےالقابات

king

ہم نے ’’عظیم‘‘ بادشاہوں کے بارے میں سن رکھا ہے مثلاً سکندراعظم، مغل اعظم وغیرہ۔ لیکن ان کے بارے میں کیا خیال ہے جو ’’عظیم‘‘ نہ ٹھہرے۔ کچھ کے مخالف انہیں مضحکہ خیز القابات دے دیا کرتے اور ایسا بھی ہوتا کہ یہ ان کے نام کے ساتھ جڑ جاتے ۔ ذیل میں چند ایسے ہی القابات کا ذکر ہے جو بادشاہوں کے نام سے چپک گئے۔ بندگوبھی، زارِ بلغاریہ ایوایلو: ایوایلو کسی کہانی کے کردار کی طرح غریبی سے امیری تک پہنچا۔

وہ ایک کسان تھا اور اسے بلغاری لقب ’’بندگوبھی‘‘ سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ 1277ء میں اس نے شمال مشرقی بلغاریہ میں ایک سرکشی کو منظم کیا اور اس کی سپاہ نے بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔ ایک جنگ میں اس کی فوج نے زار کونسٹاٹین کو مار ڈالا اور پھر وہ بلغاریہ کا نیا زار قرار پایا۔ اس نے کم ہی عرصہ حکمرانی کی اور 1280ء میں کسی سیاسی مخالف نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ کچھ نہ کرنے والا، شاہ فرانس لوئس پنجم : کارونجی سلسلہ شاہی کے آخری بادشاہ لوئس پنجم کو اس کے مایوس کن اور مشکلات بھرے دور کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسے والد کی زندگی میں ہی بادشاہ نامزد کر دیا گیا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد وہ بادشاہ بنا۔ ’’کچھ نہ کرنے والا‘‘ لوئس پنجم بس نام ہی کا بادشاہ رہا۔وہ 20 برس کی عمر میں شکار کرتے ہوئے ایک حادثے میں ہلاک ہو گیا ۔اس کا کوئی وارث نہ تھا۔ گنجا، شاہ فرانس و مقدس رومی سلطنت چارلس دوم: مقدس رومی سلطنت اور فرانس کے بادشاہ چارلس دوم کو خاندانی اراضی کے تنازعات کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔

اپنے والد لوئس اول سے اراضی وصول کرنے کے بعد سوتیلے بھائیوں سے اس کا تنازعہ ہوا اور خانہ جنگی ہوئی۔ البتہ اس امر پر تاریخ دانوں میں گرما گرم بحث ہوئی ہے کہ آیا وہ گنجا تھا بھی یا نہیں۔ بعض کے نزدیک وہ گنجا نہیں تھا لیکن کسی اور وجہ سے اسے یہ لقب دے دیا گیا۔

خونیں، ملکہ برطانیہ میری اول،: میری اول ہنری VIII اور کیتھرائن آف اراگون کی بیٹی اور برطانیہ کی پہلی حکمران عورت تھی۔ سولہویں صدی کے وسط میں اپنے اقتدار کے آغاز کے ساتھ ہی وہ انگلستان میں کیتھولزم کی فتح کے لیے سرگرم ہو گئی۔ سر تھامس ویاٹ کی قیادت میں پروٹسٹنٹوں کی ایک بغاوت شروع ہوئی جسے ملکہ کے حامیوں نے دبا دیا۔ اس کے نتیجے میں قتل عام ہوا۔ ہولناک، زار روس ایوان IV: اختیار پانے کے بعد ایوان IV نے جو اصلاحات کرنے کی کوشش کی اس میںوراثتی اشرافیہ کی قوت کو ختم کرنے کا جنون شامل تھا۔ وہ اراضی سرکاری اشرافیہ کو دینا چاہتا تھا۔ مؤخرالذکر اشرافیہ وہ تھی جسے اراضی زار عطا کرتا تھا۔ اس کے لیے اس نے جو دہشت قائم کی اس کی وجہ سے اسے ایوان ہولناک کا لقب دیا گیا۔ اس کے زیرعتاب شاہی خاندان بھی آیا۔ 1581ء میں اس نے اپنے ہی بیٹے کو قتل کر دیا جو تاج کا وارث تھا۔ بُرا، شاہ سسلی ولیم اول: چاہے لقب ’’برا‘‘ تھا لیکن ولیم اول نے سسلی میں مؤثر اور اچھے انداز میں حکمرانی کی۔

اس کے دور میں سائنس اور ادب نے ترقی پائی۔ اس نے مذہبی رواداری کا بھی مظاہرہ کیا۔ تاہم اس نے مرکزی طاقت بڑھانے کے لیے سسلی کے روسا کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ قوت حاصل کرنے کے باوجود 1160ء تک وہ سسلی کی افریقہ نوآبادیوں کو کھو بیٹھا اور اس کی اپنی سلطنت میں بھی بغاوتیں ہوئیں۔ پاگل، شاہ فرانس چارلس VI: شاہ فرانس چارلس VI تاج پر 1380ء میں بیٹھا۔ اس وقت وہ 11 برس کا تھا۔ وہ ملک کا آٹھ سال تک اکلوتا حاکم رہا۔ انگلستان کے ساتھ ایک تنازعے کے دور میں اس پر ’’پاگل پن‘‘ کا دورہ پڑا ۔ ایسے دورے اسے مزید 43 بار پڑے جو تین سے نو ماہ تک جاری رہتے۔ اسی وجہ سے اسے پاگل کا لقب ملا۔ (رضوان عطا)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.