بزدار بدل رہا ہے؟ …روف کلاسرا

روف کلاسرا

وزیراعلیٰ بزدار کا انکشاف کہ وہ تو واک بھی گورنر ہاؤس میں کرتے ہیں‘ جہاں وہ کبھی کبھار گورنر سے ملاقات بھی کر لیتے ہیں‘ سب کو حیران کر گیا۔ حیرانی کی وجہ واضح تھی کہ کل پرسوں تو یہ ویڈیو چل رہی تھی جس میں پرویز الٰہی اور طارق بشیر چیمہ ‘ جہانگیر ترین پر رعب ڈال رہے تھے کہ اگر آپ نے صوبہ چلانا ہے تو گورنر سرور کو روکو۔ اس ویڈیو سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وزیراعلیٰ بزدار بھی یہ محسوس کررہے ہیں کہ انہیں گورنر نہیں چلنے دے رہے۔ بزدار نے یہ بات چوہدری پرویز الٰہی سے شیئر کی ہوگی۔ طارق بشیر چیمہ کو کہا ہوگا کہ وہ ترین سے ملاقات کے وقت یہ کہہ دیں کہ گورنر سرور مسائل پیدا کررہے ہیں۔ یوں یہ تاثر پیدا ہوا کہ اگرچوہدری پرویز الٰہی اور طارق بشیر چیمہ بزدار کے حق میں جہانگیر ترین کو کچھ کہہ رہے تھے تو وزیراعلیٰ اور گورنر کے درمیان تعلقات اچھے نہیں۔

اس ویڈیو سے یہ واضح ہورہا تھا کہ چوہدری‘ چیمہ اور بزدار ایک کیمپ ہیں اور گورنر دوسرے کیمپ میں ‘ اور یہ تینوں ”مظلوم‘‘ مل کر گورنر کے کیمپ کا مقابلہ کررہے تھے ۔ اب جب جہانگیر ترین اپنی بہن کی سینیٹ کی سیٹ کے لیے ووٹ مانگنے گئے تو چیمہ اور چوہدری نے شکایتوں کے انبار لگادیے کہ وزیراعلیٰ کو نہیں چلنے دیا جارہا۔
اس پس منظر میں جب وزیراعلیٰ بزدار نے یہ کہا کہ ان کا تو کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں اور وہ سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ اور اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے بزدار نے یہ انکشاف کیا کہ وہ تو روز گورنر ہاؤس میں واک کرتے ہیں اور گورنر سے ملاقات بھی ہوتی ہے تو سب کا حیران ہونا بنتا تھا کہ کہیں کی اینٹ‘ کہیں کا روڑا اکٹھا کر کے عمران خان نے یہ کیسا بھان متی کا کنبہ جوڑ لیا ہے ۔ ہمارے چہروں پر پھیلی حیرت دیکھ کر بزدار کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ہم تو بزدار کو سادہ سمجھ بیٹھے تھے‘ وہ تو راج نیتی کا اپنا پورا کھیل کھیل رہے تھے۔ وہ چوہدریوں اور چیمہ کے ساتھ بھی فٹ تھے ‘جو اپنے تئیں بزدار کو سادہ لوح سمجھ کر اختیارات لے کر دے رہے تھے‘ جبکہ خود بزدار چپکے سے شام کو گورنر سے بھی ملاقاتیں کررہے تھے ‘جس کا پرویز الٰہی کو شاید علم نہ تھا۔بزدار نے دونوں‘ جٹوں اور آرائیوں کو مطمئن رکھا ہوا تھا ۔ وہ جٹوں کے کہنے پر ان کے من پسند افسران کے تبادلے کررہے تھے تو گورنر سرور کو اپنی برادری کا آئی جی پولیس لگوانے میں مدد بھی دی ۔

چوہدری اور چیمہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ’ بچہ جمہورا‘ وزیراعلیٰ ان کے ہاتھ میں ہے اور گورنر سرور سے بہت مزاحمت کا سامنا ہے‘حالانکہ اب پتہ چل رہا تھا کہ بزدار کو گورنر سرور سے کوئی مسئلہ نہیں۔ دونوں جٹ آرائیں ایک دوسرے کے دشمن ‘ لیکن بزدار سے دونوں خوش ہیں۔

ویسے گورنر سرور کیمپ کی بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ خود بزدار چند ماہ پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی اور چیمہ تحریک انصاف سے نہیں ۔ صوبہ تو وہ تین لوگ اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں جن کا تحریک انصاف سے براہ راست تعلق نہیں ‘ گورنر سرور اکیلے ہیں جو تحریک انصاف سے ہیں ۔ اگر گورنر کا رول بھی ختم کرنا ہے تو پھر تحریک انصاف تو پنجاب میں کارنر ہوگئی۔ ‘گلیاں سنجیاں ہوں جہاں چیمہ‘ چوہدری اور بزدار پھریں اور تحریک انصاف کا کسی جگہ کوئی کردار نہ ہو‘۔ میں کافی دیر سے یہ سب سن رہا تھا‘ پھر بول پڑا: بزدار صاحب آپ کو تو یہ سب کچھ سوٹ کرتا ہے کہ چوہدری‘ چیمہ‘ جٹ‘ آرائیں ایک دوسرے سے لڑتے رہیں اور آپ آرام سے ان کی لڑائی انجوائے کریں۔ اگر چیمہ‘ چوہدری یا جٹ ‘آرائیں اکٹھے ہوگئے تو آپ کی تو چھٹی۔ آپ کا مفاد تو اس میں ہے کہ یہ سب لڑتے رہیں اور آپ راج نیتی کرتے رہیں ۔ بزدار صاحب نے میری طرف غور سے دیکھا اور مسکرا کر رہ گئے۔
خاور گھمن نے بلدیاتی الیکشن پر پوچھا ۔

ایک اور سوال یہ پوچھا گیا کہ خبریں آرہی ہیں کہ دوبارہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ترقیاتی فنڈز دیے جارہے ہیں۔ بزدار نے سمجھداری سے بات گھمائی اور کہا: فنڈز ایم این ایز کونہیں دیے جا رہے۔ ضلع کی سطح پر ایک کمیٹی بنے گی جس کا سربراہ ڈپٹی کمشنر ہوگا ۔ یہ فنڈ اس کو جائیں گے ۔ ایم این اے اور ایم پی اے اپنی ترقیاتی سکیمیں دے سکیں گے۔ اس پر میں نے کہا: جناب پہلے بھی یہی ہوتا تھا‘ کسی ایم این اے کی جیب میں براہ راست پیسے نہیں ڈالے جاتے تھے بلکہ ایم این اے کا حصہ ضلع میں بھیج کر اس کی مرضی کے ٹھیکیدار کو وہ ٹھیکہ دیاجاتا اور اس میں سے نقد حصہ بقدر جثہ ایم این اے یا ایم پی اے کو ملتا ۔ پیپلز پارٹی دور میں ایم این ایز اور سینیٹرز نے ایک کروڑ کے ترقیاتی فنڈز پر بیس سے پچیس لاکھ روپے کمیشن لیا تھا۔ مطلب بڑا واضح تھا کہ آخر کار عمران خان‘ جو ساری عمر ترقیاتی فنڈز کے خلاف تقریریں کرتے رہے اور اسے سیاسی کرپشن کہتے رہے‘ بھی پارٹی کے لوگوں کے ہاتھوں مجبور ہوگئے کہ وہ جو الیکشن پر خرچ کرچکے ہیں اب اپنا حصہ وصول کرنا چاہتے ہیں۔ وہی پرانا نظام لوٹ رہا تھا۔ سوال یہ تھا کہ اگر ایم این ایز اور ایم پی ایز نے ہی ضلع کی ترقیاتی سکیمیں شروع کرنی ہیں تو پھر بلدیاتی نظام کا کیا فائدہ؟ مطلب صاف تھا کہ آخر کار یہ بلدیاتی ادارے بھی ڈمی بن کر رہ جائیں گے‘ جیسے شریف دور میں ہوا۔ بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنے کی کہانی فراڈ نکلی ۔

بزدار سے آخر وہ سوال پوچھ ہی لیا گیا کہ عمران خان نے ان میں کیا خاص بات دیکھی کہ فوراً وزیراعلی ٰبنا دیا؟ حامد میر کا پکا خیال تھا کہ وہ ایک گروپ کے ساتھ عمران خان سے ملنے گئے تھے اور دوران ملاقات عمران خان سے ہسپتال مانگا تو عمران خان متاثر ہوگئے۔ لیکن یہ بات کسی کو ہضم نہیں ہورہی تھی کہ عمران خان نے اپنی پارٹی کو چھوڑ کر ایک گمنام بندے کو وزیراعلیٰ بنا دیا‘ جسے پارٹی میں کوئی جانتا تھا اور نہ ہی شخصیت اتنی زبردست تھی کہ سب ان کے رعب میں آجاتے۔ بزدار کی سادہ شخصیت اور سادہ مزاج ہی ان کا دشمن بن گیا ۔ ہمارا خیال تھا کہ بزدار خود پر ہونے والی تنقید پر سخت ردعمل دیں گے لیکن وہ بولے : ان کا کوئی بڑا بیک گراؤنڈ نہیں اور نہ ہی اس پر انہیں کوئی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کے بچے لاہور ان سے ملنے آتے ہیں تو وزیراعلیٰ ہاؤس میں کئی کمرے ہونے کے باوجود وہ علیحدہ سونے کی بجائے ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں ‘ بچے فرش پر بستر بچھا کر لیٹ جاتے ہیں۔الیکشن کے دنوں میں کہیں سونا پڑ گیا تو انہوں نے سر کے نیچے پتھر رکھ کر نیند پوری کر لی تھی۔ وہ بتاتے رہے کہ جن علاقوں سے وہ آئے ہیں وہاں کیا حالت ہے اور کس طرح لوگ زندگی گزارتے ہیں۔ وہ تو جب کھانا کھاتے ہیں تو اپنے ڈرائیور کو بھی ساتھ بٹھا کر کھا لیتے ہیں ۔

بزدار اپنے علاقے کی پس ماندگی اور غربت کی کہانی اور اپنی سادگی کو بیان کررہے تھے ‘جبکہ ہم سب کی دلچسپی اس میں تھی کہ آخر عمران خان نے بزدار ہی کو کیوں چنا ؟ ہم نے تو سن رکھا تھا کہ عمران خان سے عثمان بزدار نے ہسپتال مانگا تو عمران خان بہت متاثر ہوگئے ‘ کسی نے بتایا کہ دراصل احسن جمیل گجر اور ان کی بیگم فرح نے بزدار کو وزیراعلیٰ لگوایا اور انہوں نے بشریٰ بی بی کو کہہ کر عمران خان کے کانوں میں یہ بات ڈلوائی کہ عثمان نام کا بندہ انہیں بہت سوٹ کرے گا ‘ یوں عمران خان نے کہا: پورے پنجاب میں ڈھونڈو عثمان کون ہے۔ کچھ دیر رک کر عثمان بزدار نے ہم سب پر نظر دوڑائی اور پوری کہانی سنانی شروع کی کہ وہ وزیراعلیٰ کیسے بنے ۔ جو مختلف کہانیاں ہم نے اب تک ان کے متعلق سن رکھی تھیں‘ وہ ان سب سے مختلف‘ انوکھی اور سنسنی خیز۔ جب بزدار سنسنی خیز کہانی سنا چکے تو ہم سب نے ایک دوسرے کی طرف بے یقینی سے دیکھا۔ واقعی دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے‘ معجزے بھی ہوتے ہیں۔ اب بھی لوگ اس طرح وزیر اعلیٰ بنتے ہیں جیسے بزدار صاحب بتا رہے تھے؟ واقعی؟ (جاری) بشکریہ روزنامہ دنیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.