بُنگا بُنگا پارٹیاں اورماڈل کا قتل

bunga bunga party details

بُنگا بُنگا پارٹیاں اورماڈل کا قتل قصہ کیا ہےـ اٹلی کے سابق وزیراعظم 82 سالہ سلویو برلسکونی کی جانب سے مہمانوں کے لیے منعقد کی جانے والی فحش پارٹیوں میں شامل ہونے والی مراکشی نژاد 34 سالہ ماڈل ایمان فدیل کے پراسرار قتل کا واقعہ اٹلی میں اہمیت اختیار کر گیا۔ ایمان فدیل رواں ماہ کے آغاز میں اٹلی کے ایک ہسپتال میں چل بسی تھیں، انہیں انتقال سے کئی دن قبل تشویش ناک حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

اٹلی کے سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی کی جانب سے 2012 سے قبل مہمانوں کے لیے منعقد کی جانے والی فحش پارٹیوں جنہیں ’بُنگا بُنگا پارٹیاں‘ بھی کہا جاتا تھا، ان پارٹیوں میں ایمان فدیل بھی شریک ہوئی تھیں۔سلویو برلسکونی پر ان پارٹیوں کے ذریعے کم عمر لڑکیوں سے جسم فروشی کروانے سمیت ان کا استحصال کرنے کے الزامات ہیں۔

سلویو برلسکونی پر ان پارٹیوں میں درجنوں کم عمر لڑکیوں سے جسم فروشی کروانے کے تحت مختلف عدالتوں میں کیسز بھی چل رہے ہیں۔

ان کیسز میں ایمان فدیل عینی گواہ کے طور پر عدالت میں بھی پیش ہوچکی تھیں اور اب تک کی وہ اس ہائی پروفائیل کیس کی واحد چشم دید گواہ تھیں، جنہیں پراسرار طریقے سے ہلاک کردیا گیا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں اٹلی کی نیوز ایجنسی ’انسا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکام نے ماڈل ایمان فدیل کی پراسرار ہلاکت کا بطور قتل تفتیش کا آغاز کردیا۔ رپورٹ کے مطابق 34 سالہ ماڈل کو جب ہسپتال لایا گیا تھا اس وقت انہوں نے اپنے بھائی اور وکیل کو بتایا تھا کہ انہیں زہر دیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والی ماڈل کے بھائی اور وکیل کے بیانات کے بعد اٹلی کے حکام نے ایمان فدیل کی ہلاکت کا بطور قتل تفتیش کا آغاز کردیا اور ابتدائی طور پر سامنے آنے والی تفتیش کے مطابق ماڈل کو زہر دیا گیا۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایمان فدیل کو مختلف زہریلے مادوں سے تیار کیا گیا خطرناک زہر دیا گیا، جس نے فوری طور پر ماڈل کے جسم کو متاثر کرنا شروع کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایمان فدیل کی ہلاکت رواں ماہ کے آغاز میں ہوئی، تاہم ہسپتال انتظامیہ نے ان کے علاج اور ہلاکت کی خبر کو عوام اور حکام سے خفیہ رکھا۔

اے پی کی رپورٹ کے مطابق رواں برس کے آغاز میں ایمان فدیل کے وکیل نے بتایا تھا کہ ان کی مؤکل کو ’بُنگا بُنگا پارٹیوں‘ سے متعلق خاموشی اختیار کرنے پر بھاری رقم کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔

بعد ازاں ایمان فدیل نے بھی خاموش رہنے کے لیے بھاری رقم کی پیش کش کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی جان کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ماڈل نے اٹلی کی میڈیا کو بتایا تھا کہ انہیں اس کیس میں اپنی زندگی گنوانے کا خدشہ ہے۔

ایمان فدیل ’بُنگا بُنگا پارٹیاں‘ کیس میں سلویو برلسکونی کے خلاف متعدد بار عدالت میں پیش ہوچکی تھیں اور انہوں نے عدالت کو اہم معلومات فراہم کی تھیں۔ایمان فدیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ سلویو برلسکونی نے 2012 میں اپنے گھر میں فحش پارٹیوں کا انعقاد کیا تھا، جن میں متعدد خواتین نے سرعام نازیبا حرکتیں کی تھیں۔

ایمان فدیل کے مطابق سلویو برلسکونی کے گھر میں قائم کی گئی ایک پارٹی کے دوران ایک خاتون راہبہ کے لباس میں جلوہ گر ہوکر سامنے آئیں اور سب کے سامنے پول ڈانس کرنے لگیں۔ماڈل نے عدالت کو بتایا تھا کہ اسی پارٹی میں ایک اور خاتون سیاستدان کا لباس پہن کر نمودار ہوئیں اور مہمانوں کے بیچ آکر انہوں نے اپنا لباس اتار پھینکا۔

ماڈل نے بتایا تھا کہ راہبہ کی طرح جلوہ گر ہونے والی خاتون کا انداز ہولی وڈ فلم ’سسٹر ایکٹ‘ کی طرح تھا۔اگرچہ ایمان فدیل ان پارٹیوں میں شریک ہوئیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہوں نے خود بھی ان پارٹیوں میں کوئی نامناسب اور فحش کام کیا تھا یا نہیں۔بعض رپورٹس کے مطابق ان پارٹیوں میں شریک ہونے والی زیادہ تر ماڈلز کی عمریں 12 سے 15 برس کے درمیان ہوتی تھیں، جو بیک وقت سب کے سامنے مختلف انداز دکھاتی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.