بچوں کی ایمانداری سے تربیت کیسے کی جائے۔۔۔ رچرڈ لنڈا

child understand

والدین کو بچوں کے مسائل کے حوالے سے جو مسائل درپیش ہیں ان میں ایمانداری سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ماں باپ پریشان ہیں کہ ان کے بچے  ایمانداری کیسے بنیں؟ بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار نہایت اہم ہے۔ والدین کی تربیت کے بغیر بچے اچھے شہری کسی صورت نہیں بن سکتے۔
بچوں کو ایمانداری سکھانا اس لحاظ سے انتہائی مشکل کام ہے کہ وہ ہر روز اپنے اردگرد کی دنیا میں بے ایمانی کی مثالوں کا عملی مظاہرہ دیکھیں گے۔ تاہم آپ کی ذاتی مثال اور اپنے بچے کے طرز عمل پر مستقل ردعمل ظاہر کرنا، آپ کے بچے پر بھرپور اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اپنی مثال کے علاوہ دوسرے طریقے بھی بے حد مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں عمومی گائیڈلائن یہ ہو سکتی ہے۔

۱۔ آپ خود اپنے بچوں سے مکمل ایمانداری سے پیش آئیں۔ اس سے انہیں یہ پتہ چلے گا کہ اصول کس قدر قابل عمل ہیں اور وہ ان کے لیے آپ کی مستقل مزاجی کو اپنانے لگیں گے۔ ۲۔آپ سوالوں کا سچا اور حقیقی جواب دیں تاوقتیکہ ان کا سوال حد سے تجاوز نہ کرے۔ تب بھی انہیں آسان الفاظ میں اور ایمانداری سے بتائیں کہ آپ ان کے سوال کا جواب کیوں نہیں دیں گے۔ ۳۔ ان کے سامنے فون پر ’’چھوٹے موٹے جھوٹ‘‘ بھی مت بولیں۔ ۴۔ انہیں بھی اپنے لیے جھوٹ بولنے پر مجبور نہ کریں۔ (کہ ’’میری امی یا ابو گھر پر نہیں ہیں، حالانکہ آپ گھر پر موجود ہیں)۔ ان کے سامنے مبالغہ آمیزی نہ کریں۔ ۵۔ ان چیزوں کو کرنے کی جھوٹی دھمکیاں نہ دیں جو آپ کرنے کا حقیقتاً ارادہ نہیں رکھتے۔ اپنے بچوں کو جھوٹ بولتا ’’پکڑنے‘‘ کی فکر میں نہ رہیں،

اس کے بجائے ’’انہیں سچ بولتا ہوا پکڑیں‘‘ اور اس کے لیے ان کی تعریف کریں۔ اگر وہ کچھ ایسا کہیں (یا کہنا شروع کر یں) جو آپ کے نزدیک سچ نہیں تو ان کی بات کاٹ دیں اور کہیں۔ ’’بیٹا، ایک منٹ کے لیے غور کرو۔ یاد کرو کہ سچ بولنا بے حد ضروری ہے۔‘‘ پھر انہیں دوبارہ بات شروع کرنے دیں۔ اپنے بچوں کو ایمانداری اور بے ایمانی سے پیش آنے والے حالات اور نتائج سے آگاہ کریں۔ ایسی صورت حال اور واقعات کو (حقیقی زندگی میں، ٹی وی وغیرہ پر) تلاش کریں، جن میں لوگ بے ایمانی کے مرتکب پائے گئے ہوں۔ پھر ان کے عمل سے ہونے والے نقصان (اس شخص یا ادارے کے حوالے سے جسے دھوکا دیا گیا ہو یا نقصان پہنچایا گیا ہو) سے بچوں کو آگاہ کریں اور ساتھ ہی بے ایمانی کرنے والوں کے انجام کے بارے میں بھی بتائیں۔ اسی طرح ایمانداری کے واقعات اور عملی مثالوں کو تلاش کریں اور ان کے مثبت پہلوؤں اور نتائج، خصوصاً ان سے حاصل ہونے والے اندرونی سکون، اعتماد اور خود احترامی کے جذبات سے بھی بچوں کو آگاہ کریں۔

دور حاضر میں بچوں کی تربیت میں والدین کا کردارانتہائی حساس اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ والدین اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں جبکہ بچوں کی تربیت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے پاتے۔ جب بچے بگڑ جائیں تو کہتے ہیں کہ زمانہ ہی خراب ہے۔ جب وقت ہاتھ سے نکل جائے تو پچھتانے کا کیا فائدہ؟ضرورت اس امر کی ہے کہ والدی بچوں کی تربیت کرنے کے لئے وقت نکالیں تاکہ بعد میں انہیں پچھتانانہ پڑے۔ جب آپ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا شروع کر دیں گے تو بچوں کی اخلاقی تربیت بھی ساتھ ساتھ ہوتی رہے گی کیونکہ جو اچھی عادات ہیں، وہ آپ کے بچوں میں خود بخود منتقل ہوتی جائیں گی اور بچوں کی اخلاقی تربیت کا مسئلہ بھی درپیش نہ رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.