بچوں کی تربیت کیسے کی جائے؟..رچرڈ، لنڈا آئر

kids education

ایسے خاص طریقے اور مہارتیں موجود ہیں جو اخلاقی اقدار سکھانے کے لیے انتہائی مؤثر اور موزوں ہیں۔ آئیے ان میں سے چند ایک سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔ تصورات پر تبادلہ خیال: اس کے تحت بچے مختلف اصولوں اور اخلاقیات کے تصورات کے بارے میں اپنی ذہنی استطاعت کے مطابق بات کرتے ہیں اور والدین ان کی دلچسپی اور صلاحیت کی تعمیر کے لیے درست بات کرنا سکھاتے ہوئے بچوں کی مدد کرتے ہیں۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اخلاقی اقدار اور والدین کے ساتھ گفتگو میں گزارے وقت کا براہ راست تعلق ہے۔

جوں جوں ہم بچوں سے تبادلہ خیال کرتے اور انہیں تربیت دیتے ہیں، ہماری اپنی اقدار دھیرے دھیرے بچوں میں منتقل ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ تعریف کے ساتھ پختگی: یہ دراصل ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے با اخلاق طرزعمل کو مستقل اور شعوری عادت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ڈیوک آف ولنگٹن سے بستر مرگ پر ایک بار پوچھا گیا کہ اگر اسے دوبارہ زندگی ملے تو کس چیز کو بدلنا چاہے گا۔ ’’میں زیادہ تعریف و توصیف کروں گا!‘‘ اس کا جواب تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ناکامی سے حالات تبدیلی نہیں ہوتے اس سے ندامت پیدا ہوتی ہے اور انسان کو کمتری کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اصل تبدیلی بچوں کو اچھا کام کرتے پکڑنے (احساس دلانے) اور پھر ان کی تعریف کرنے اور اس طرح کے طرزعمل کی حوصلہ افزائی کرنے سے آتی ہے۔ اعترافی انعامات و اعزازات: انعامات، اعزازات اور ایسی ہی دوسری حوصلہ افزائی پر مبنی اعترافی اشیا جو اچھے کام کی تعریف کے ساتھ مل کر اخلاقی اقدار پر مبنی مستقل طرز عمل کا سبب بن جاتی ہیں دینی چاہئیں۔ مختلف قسم کے انعامات کے ساتھ (کسی خاص اخلاقی قدر کے حوالے سے بہت اچھی کاوش کرنے کے صلہ میں دیا جانے والا) ایک خاص انعام بھی شامل کیا جا سکتا ہے جو بچوں کو اس اخلاقی قدر کی طرف مائل کرنے کا بہترین سبب بھی بن سکتا ہے۔ دوسرا موقع: اگر بچہ کسی قدر کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے دوسرا موقع دیا جا سکتا ہے۔ دوسرا موقع دینے اور ازسر نو آغاز کرنے جیسے طریقہ کار اپنا کر والدین نہ صرف بچوں کے کردار کی درستگی کا کام لے سکتے ہیں بلکہ سزاؤں اور تنقید جیسے منفی ہتھکنڈوں کی بجائے ان طریقوں سے مؤثر طور پر بچوں کو اخلاقیات اپنانے کی یاددہانی کرا سکتے ہیں۔ ذہن نشین کرانا: اس طریقے میں والدین ایسے مختصر تصور، جملوں یا بامقصد فقروں کو جو کسی خاص اخلاقی قدر کو ظاہر کرتے ہوں، بچوں کو ذہن نشین کرا سکتے ہیں۔

یہ کسی اچھے تصور کو بچوں کے ذہن میں پختہ کرنے کا انتہائی مؤثر طریقہ ہے۔ اخلاقی قدر اور اس کے برخلاف انجام: یعنی یہ بتایا جائے کہ کیا چیز انسان کے کام آتی ہے اور کس سے اسے تکلیف پہنچتی ہے۔ بچوں کو ہر اخلاقی قدر کی الٹ چیز کے بارے میں آگاہ کر کے آپ بچوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا چیز تکلیف دیتی ہے اور کیا ان کے کام آتی ہے۔ مثلاً جھوٹ تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح بچے میں یہ احساس پختہ ہوگا کہ اسے اس چیز کو اپنانا چاہیے جو انسان کے کام آتی ہے۔ مثبت طرز عمل کا اقرار، منفی طرز عمل کو نظر انداز کرنا: بچے توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں، اور اکثر یہ ہوتا ہے کہ والدین ان کی منفی باتوں پر تو بہت توجہ دیتے ہیں اور اس کے بدلے انہیں ڈانٹنا اور تنقید کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔

جب کہ ان کی اچھی باتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ہم ’’ٹھیک باتوں‘‘ کو چھوڑ دیتے ہیں اور ساری توجہ غلط باتوں کی درستگی کی طرف مبذول رکھتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں الٹ کرنا چاہیے اور انہیں اچھے کام کرتے ہوئے پکڑنا چاہیے، یعنی جس طرح ہم ان کی برائیوں کو پکڑ کر ڈانٹ ڈپٹ اور تنقید کرنے پر خاص توجہ دیتے ہیں اسی طرح ان کے اچھے کاموں کو خاص توجہ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرنے پر بھی دھیان دینا چاہیے۔ ذہنی کھیل: ناٹک اور مختلف قسم کے ذہنی کھیل بے حد معاون ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ان سے بچوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ خود کو حقیقتاً مختلف صورتوں اور حالات میں پائیں اور مختلف قسم کے طرزعمل اور برتاؤ کے نتائج اور اثرات کو دیکھ سکیں۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.