بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا چیلنج ۔۔۔ سلمان عابد

salman abid logo

پاکستان کا ایک بڑا چیلنج ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے ۔بالخصوص نئی نسل کے پاس وہ معاشی مواقع نہیں جو ان کو اور ان سے جڑے خاندان کو معاشی بدحالی سے بچاسکیں ۔یہ مسئلہ محض پڑھے لکھے نوجوانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ افراد جو تعلیم حاصل نہیں کرسکے یا وہ جن کو کچھ نہ کچھ فنی مہارتیں حاصل ہیں وہ بھی معاشی جکڑ بندی , بدحالی یا روزگار نہ ہونے کے بحران سے گزررہے ہیں ۔ بالخصوص دیہی یاچھوٹے شہروں میں بھی معاشی سرگرمیاں نہیں جو ان کو ہر صورت میں روزگار کے مواقع میسر کرسکے ۔یہ جو پڑھے لکھے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی ہم فوج در فوج ڈگریوں سمیت پیدا کررہے ہیں ان کو کیسے معاشی مواقع فراہم کرنے ہیں وہ خود ایک بڑا بحران ہے ۔کیونکہ اس بحران نے عملی طور پر نوجوان طبقہ میں مایوسی , غیر یقینی اور ریاستی و حکومتی نظام پر عدم اعتماد سمیت لاتعلقی کے احساس کو مضبوط کرکے ان میں بھی او رمعاشرے میں بھی انتشار کی کیفیت کو نمایاں کیا ہے ۔

جب یہ نکتہ پیش کیا جاتا ہے کہ نئی نسل ہماری سیاسی ,سماجی اور معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں تو ان کو کیسے معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنایاجائے ۔ اس تناظر میں ہمیں ریاستی , حکومتی اور ادار ہ جاتی سطح پر منصوبہ بندی سمیت سیاسی او رمعاشی حکمت عملیوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ہمارے سیاسی او رمعاشی ماہرین چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر کوئی بھی ایسا ٹھوس منصوبہ نہیں پیش کرسکے جو لوگوں میں اور بالخصوص چھوٹے طبقوں میں معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقعوں میں تیزی پیدا کرسکے ۔ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہمارے پاس تربیت یافتہ افرادیا فنی تعلیم سے جڑے لوگوں کی کمی ہے ۔ یہ بات وزن رکھتی ہے ,لیکن کیا وجہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام اس فنی تربیت سے کٹا ہوا ہے جو ہماری ضرورت بنتا ہے ۔ جس نظام تعلیم کو بنیاد بنا کر ہم ہم معاشی جنگ جیتنا چاہتے ہیں , کیا یہ ممکن ہے ۔

وفاقی ادارہ شماریات نے لیبر فورس سروے رپورٹ 2017-18جاری کی ہے ۔اس رپورٹ کے مطابق ملک میں کل 37لاکھ 90ہزار افراد بے روزگاری کا شکار ہیں ۔پنجاب میں 23لاکھ 90ہزار, سندھ میں 7لاکھ پچاس ہزار,خیبر پختونخواہ میں 5لاکھ پچاس ہزاراور صوبہ بلوچستان میں 1لاکھ 10ہزار افراد بے روزگاری کا شکار ہیں ۔اگرچہ اس رپورٹ میں یہ دعوی بھی موجود ہے کہ2015-16کے مقابلے میں 2017-18میں بے روزگاری کی شرح 5.9فیصدسے کم ہوکر 5.8فیصد ہوگئی ہے ۔ان اعداد وشمار سے ہٹ کر مجموعی طور پر ملک میں روزگار کے مواقعوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ بہت کم ہیں ۔ یہاں بحران محض نئے روزگار کا ہی نہیں ہے بلکہ پہلے جو لوگ کسی نہ کسی روزگار سے جڑے ہوئے ہیں ان کو بھی معاشی بدحالی کے باعث ملازمتوں سے جبری بنیادوں پر نکالا جارہا ہے ۔

جو لوگ روزگار رکھتے ہیں یا جن لوگوں کے پاس روزگار موجود ہی نہیں ہیں دونوں سطحوں پر معاشی عدم تحفظ موجود ہے ۔ حکومت کے مطابق جو کم ازکم تنخواہ کا قانون ہے اس پر بھی مکمل شفافیت کے ساتھ اطلاق موجود نہیں ۔ فیکٹریاں چلنے کی بجائے بند پڑی ہیں اور وہاں سے مزدور طبقہ کی بے دخلی نے نچلے طبقہ میں زیادہ بحران پیدا کیا ہے ۔جو لوگ ڈگریاں رکھتے ہیں ان کو کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس کوئی بھی ایسی تربیت نہیں کہ ان کو ہم روزگار دے سکیں ۔والدین جو بچوں اور بچیوں پر تعلیم کے نام پر معاشی سرمایہ کاری کرتے ہیں ان کو اس سرمایہ کاری کے نتیجہ میں اپنے بچوں اور بچیوں کی بے روزگاری دیکھنی پڑتی ہے ۔ ہمارے پاس شرح خواندگی کم ہے اور بچے بچیوں کو سکول بھیجنے کا رواج یا شوق کم ہے اس کی وجہ بھی والدین کی غربت او رمعاشی ناہمواریاں ہیں ۔چھوٹے بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے نام پر مختلف کاموں میں ڈالنے کی وجہ بھی والدین کی غربت ہے ۔عورتوں کی سطح پر جو گھریلو صنعت موجود تھی وہ بھی ماضی کے مقابلے میں کمزور ہوئی ہے ۔مختلف علاقوں میں لڑکوں او رلڑکیوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سمیت دیگر اداروں سے تعلیم حاصل کرلی , مگرمعاشی تحفظ نہیں مل سکا۔

ایک طرف حکومت کے بقول اب ہر فرد کو حکومتی سطح پر روزگار دینا ان کے بس میں نہیں اور دوسری طرف نجی شعبہ کا محدود ہونا او راس کے اپنا داخلی بحران نے دونوں سطحوں پر نئی نسل میں عدم تحفظ پیدا ہوا ہے ۔ عمومی طور پر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ معاشی ترقی کا بڑا نکتہ ملک میں سیاسی استحکام اورمضبوط سیاسی و معاشی پالیسیوں سے جڑا ہوتا ہے ۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ہماری ریاست اور سیاست کا نظام سیاسی او رمعاشی طور پرعملا مستحکم نہیں ہوسکا ؟ٹیکس کا غیر منصفانہ نظام, داخلی اور خارجی سرمایہ کاری , نئی صنعت کا عدم فروغ او رپہلے سے موجود صنعتوں کا داخلی بحران , آبادی کا پھیلاو, فنی تربیتی اداروں کی کمی , چھوٹی صنعت یا گھریلو صنعت کا محدود ہونا , آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی , بجلی اور گیس کا بحران , آئی ایم ایف کی سخت شرائط,فرسودہ تعلیمی نظام اور نصاب ,نج کاری پر مبنی پالیسیاں, کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی سیاست , ادارہ جاتی عمل کا کمزور ہونا , عدم میرٹ پالیسی ایسے مسائل ہیں جس نے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو کافی حد تک محدود کیا ہے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشی ماہرین جو خود کو عالمی معیشت او راس سے جڑے اداروں کے فرئم ورک او ران ہی کی پالیسیوں کے اندر رہ کر کام کرنے کے عادی ہیں وہ کیسے روائتی معاشی پالیسیوں سے باہر نکل سکیں گے۔ہمارے سیاسی او رمعاشی ماہرین کو اپنے معروضی حالات میں رہ کر ایک ایسی سیاسی او ر معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جو ریاست, حکومت اورعوام کے درمیان تعلق کو مضبوط او رمستحکم بنا کر ملک میں معاشی ترقی کے عمل کو تیز کرسکے ۔روائتی طور طریقوں سے بے روزگاری کے خلاف جنگ کو جیتنا ممکن نہیں ۔ہمیں نئی نسل میں اس سوچ او فکر کو بھی اجاگر کرنا ہوگا کہ وہ خود بھی ملازمتوں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے کام کی طرف توجہ دیں او راس کا کام کا آغاز چھوٹی سطح سے کیا جائے ۔ اس کام میں حکومت کو نئی نسل کے ساتھ نہ صرف معاونت کرنی ہوگی بلکہ ان کے ساتھ عملی طور پر کھڑا ہونا ہوگا۔ ہمیں ایسی سیاسی اور معاشی پالیسیاں درکار ہیں جو نئی نسل کو خود سے اپنے قدموں پر کھڑی کرسکے ۔

جب حکومتی سطح پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اس کے پاس ہر کسی کو ملازمت دینے کا مواقع موجود نہیں او رنہ ہی ریاست یا حکومت یہ کام کرسکتی ہے ۔مگر حکومت کی عملی ذمہ داری ایک ایسا معاشی ماحول اور مواقعوں کو پیدا کرنا ہوتا ہے جو ملک میں معاشی سرگرمیوں کو نہ صرف تیزکرتا ہے بلکہ اس میں سرکاری او رنجی شعبہ میں زیادہ سے زیاد ہ مواقع پیدا کرکے نئی نسل کو موقع دیتا ہے کہ وہ معاشی طور پر مستحکم ہوسکیں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب حکومت کے پاس ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہو او رحکومت کئی طرح کے حکمرانی کے بحرانوں میں گھری ہو تو پھر معاشی پالیسی کا ایجنڈا بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔

تحریک انصاف او ر عمران خان کی حکومت نے ایک کڑور ملازمتوں کا نعرہ دیا ہے ۔ یقینی طور پر اس نعرے کے پیچھے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نظر نہیں آتی ۔بظاہر یہ ایک سیاسی نعرہ ہے ۔اس وقت کاروباری ماحول بھی معاشی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کرنے کی بجائے اس میں غیر یقینی کی کیفیت کو پیدا کررہا ہے ۔اس نئی حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہی معاشی بحران سے نمٹنا ہے ۔ حکومت نے جو اقتصادی ماہرین پر مشتمل کونسل تشکیل دی ہے وہ کس حد تک اس بحران سے نمٹ سکے گی , خود ایک بڑاسوالیہ نشان ہے ۔عمران خان کی حکومت کی ایک وجہ نئی نسل کی ان کو حمایت ہونا بھی ہے ۔ اس لیے نئی نسل میں جو معاشی عدم تحفظ ہے یہ اس کی اہم ترجیح ہونی چاہیے تاکہ وہ واقعی نئی نسل کی توقعات پر پورا اترسکیں۔یہ سمجھنا ہوگا کہ اس وقت اس معاشی بحران یا بے روزگاری کا بڑھتا ہوا عمل نئی نسل میں انتہا پسندی اور دہشت گردی سمیت مجرمانہ جرائم میں اضافہ کرتا ہے ۔

یہ جو عالمی معیشت کا نظام ہے ہم عملی طور پر اس میں جکڑے ہوئے ہیں , پاکستان سمیت دنیا بھر میں بے روزگاری او رمعاشی ناہمواریاں بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔ یہ مالیاتی نظام دنیابھر میں چیلنج بھی ہورہا ہے او راس کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت بھی بڑھ رہی ہے ۔ اگرچہ ہم فوری طور پر اس بڑے عالمی مالیاتی نظام سے باہر نہیں نکل سکتے ,لیکن ہمیں داخلی سطح پر اپنے معاشی بحران کا درست ادراک ہونا چاہیے ۔ روزگار پیدا کرنا او راس کا ماحول بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور عملی طور پر حکومت اس نکتہ پر جوابدہ بھی ہے ۔ salmanabidpk@gmail.com۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.