بڑھے پیٹ کا علاج

پیٹ بڑھنے کا علاج

ویسے تو توند کی چربی سے نجات ایک لاحاصل جدوجہد لگتی ہے مگر یہ صرف شخصیت کو ہی بہتر نہیں بناتی بلکہ طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جبکہ سنگین امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔یہاں کچھ ایسے گھریلو ٹوٹکے دیئے جارہے ہیں جو توند سے نجات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پروٹین کا استعمال:۔۔۔۔۔۔ پروٹین کا استعمال زیادہ جبکہ کاربوہائیڈریٹس سے دوری بغیر سخت ورزش کے توند سے نجات کا تیز ترین نسخہ ہے، پروٹین بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور انسولین کی سطح کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، انسولین وہ ہارمون ہے جو جسم کو چربی خاص طور پر پیٹ اور کمر کے ارگرد جمع کرنے کا سگنل بھیجتا ہے۔ سفید ڈبل روٹی کو چھوڑ کر اجناس، سیزن کے پھل، جڑوں والی سبزیاں وغیرہ کا استعمال معمول بنالیں۔

ناریل کے تیل کا استعمال:۔۔۔۔۔۔۔۔ ناریل کا تیل میڈیم چین triglycerides سے بنتا ہے جبکہ سبزیوں اور بیجوں کے تیل میں لانگ چین triglycerides ہوتے ہیں، طبی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ناریل کے تیل کا میڈیم چین سے بننا متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے، کیونکہ یہ آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے اور بہت تیزی سے غذا کو توانائی میں بدل دیتا ہے اور وہ چربی کی شکل میں جسم میں ذخیرہ نہیں ہوتی۔

چینی سے پرہیز:۔۔۔۔۔۔۔ چینی کا استعمال پیٹ اور کمر کے گرد چربی کے ذخیرے کی بنیادی وجہ بنتا ہے، چینی میں شامل گلوکوز اور دیگر اجزاءدوران خون میں تیزی سے جذب ہوکر توانائی میں بدل جاتے ہیں، تاہم مٹھاس کا بہت زیادہ استعمال اس توانائی کو چربی کی شکل میں بدل کر پیٹ کے گرد ذخیرہ کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ چینی بلڈ شوگر کو بڑھاتی ہے جس سے انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اگر تو آپ توند سے نجات چاہتے ہیں تو کچھ دن کے لیے چینی سے منہ موڑ لیں یا بہت کم کردیں اور اس کی جگہ تازہ پھل، شہد، کھجور اور ناریل وغیرہ کو اپنالیں۔

سبز چائے کو معمول بنائیں:۔۔۔۔۔۔۔۔ سبز چائے میں کمر کو گھٹانے والے اجزاءموجود ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیٹ کی چربی گھلانے کے لیے بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے، سبز چائے میں موجود اجزا میٹابولزم کی رفتار بڑھا کر جگر کو چربی گھلانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ طبی رپورٹس کے مطابق روزانہ یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے چار سے پانچ کپ سبز چائے کا استعمال ضروری وہتا ہے، تاہم اس میں چینی کو شامل کرنے سے گریز کریں۔

سیڑھیاں چڑھیں:۔۔۔۔۔۔۔ سست طرز زندگی متعدد امراض اور موٹاپے کا باعث بنتا ہے، آپ ورزش نہیں کرتے تو کوئی بات نہیں مگر سیڑھیاں چڑھنا، تیز چہل قدمی اور فون پر بات کرتے ہوئے بھی تیز چلنے جیسی عادتیں اپنا کر آپ توند کو تیزی سے کم کرسکتے ہیں۔



Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.