بڑے شہروں کی حکمرانی کا نظام۔ کالم سلمان عابد

salman abid logo

پاکستان میں منصفانہ، شفاف اور عوامی خواہشات و توقعات کے تناظر میں حکمرانی کا نظام ہمیشہ سے متنازعہ اور بداعتمادی کا شکار رہا ہے ۔اچھی اور بہتر حکمرانی کی تعریف بنیادی طور پر عام لوگوں کی ترقی، خوشحالی ، انصاف، روزگار، تحفظ، امن ، سلامتی، وسائل کی منصفانہ تقسیم ، خود احتسابی ، جوابدہی، درست ترجیحات کا تعین ،اداروں کی فعالیت، نقل وحمل، صحت، تعلیم، صفائی ، پانی ،تجاوزات کا خاتمہ ،ٹریفک اور ایک سازگار ماحول سے جڑا ہوتا ہے ۔لیکن اگر ہم اپنے حکمرانی کے نظام کا مجموعی طور پر جائز ہ لیں تو اس میں سنگین نوعیت پر مبنی مسائل اور حکمران طبقات کی عدم ترجیحات اور بدنیتی کے کئی پہلو نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔
آج کل ایک بڑا مسئلہ حکمرانی کے نظام میں بڑے شہروں کی حکمرانی و نظم نسق کا نظام ہے ۔ عمومی طور پر دنیا کے تمام ممالک میں بڑے شہروں جن کو عمومی طور پر میٹروپولیٹن سٹی کا نام دیا جاتا ہے کا نظام چھوٹے شہروں سے بالکل مختلف اور منفرد ہوتا ہے ۔کیونکہ بڑے شہروں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے حکمران طبقات کو غیر معمولی اقدامات او رایسی تھوس پالیسیاں بنانی پڑتی ہیں جو شہری زندگی کو زیادہ آسان اور پرامن بناسکے ۔پاکستان میں اس وقت آبادی کے تناسب سے کراچی ، لاہور، پنڈی، پشاور اور کوئٹہ سمیت کئی اور شہر بڑے شہر سمجھے جاتے ہیں۔ ان بڑے شہروں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ہم نے ان شہروں میں مقامی حکومتوں کے نظام کے تحت میٹرو پولیٹن پر مبنی حکمرانی کا نظام متعارف کروایا ہے ،تاکہ حکمرانی کے نظام کو موثر انداز سے نمٹا جاسکے ۔
پاکستان میں کیونکر جذباتی اور خوشنما سیاسی نعروں کا ہمیشہ سے غلبہ رہا ہے ۔ہمارے سیاسی حکمران ان بڑے شہروں کی ترقی کو ہمیشہ نیویارک، پیرس، لندن ، ترکی جیسا بنانے کا خواب دکھاتے ہیں ۔جس بھی حکمران قیاد ت کو دیکھیں تو وہ ہی یہ نعرہ لگاتا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ان بڑے شہروں کو پیرس، لندن ، ترکی یا نیویارک بنادے گا۔لیکن یہ ہمارے شہر کیسے دنیا کے بڑے ممالک کے بڑے شہروں کا مقابلہ کرسکیں گے یا اس جیسا بن سکیں گے اس کا کوئی سیاسی ، انتظامی فہم حکمران طبقات کے پاس موجود نہیں جو بڑا المیہ ہے ۔

اس وقت پاکستان کے بڑے شہری اپنی حکمرانی کے نظام میں جو بدترین منظر پیش کررہے ہیں وہ قابل توجہ ہے ۔خدارا حکمران طبقات ہمیں پیرس، نیویارک، استنبول ، لندن جیسے شہر دینے کی بجائے ہمیں کراچی ، لاہور، پشاور، پنڈی اور کوئٹہ ہی لوٹا دیں تو یہ ان کی بڑی نواز ش ہوگی ۔بنیادی طور پر ہمارے یہ شہر تاریخی حوالے سے اپنی ثقافت کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں ۔لیکن ہم نے نام نہاد ترقی کے نام پر ان شہروں کو برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔بڑے شہروں کو دیگر شہروں کے تناظر میں کچھ معاملات پر فوقیت ہوتی ہے ۔ اول آبادی کا پھیلاو، دوئم روزگار اور کاروبار کے مواقع، سوئم چھوٹے شہروں کے مقابلے میں بہتر اداروں کا نظام ،چہارم ان بڑے شہروں کو صوبائی ہیڈ کواٹر کی حیثیت،پنجم بہتر تعلیم اور صحت کی سہولتیں جیسے امور شامل ہیں۔
بڑے شہروں میں چھوٹے شہروں سے جو لوگ مستقل بنیادوں پر منتقل ہورہے ہیں اس نے ہماری شہری نظام کو کافی برباد کردیا ہے ۔ لیکن کیونکہ چھوٹے شہروں میں حکمرانی کا نظام یا نظم و نسق موثر اور شفاف نہیں جو خود لوگوں کو بڑے شہروں کی طرف منتقل ہونے کا سبب فراہم کرتا ہے ۔اگر مقامی سطح پر حکمرانی کا نظام موثر ہواور لوگوں کو وہ تمام سہولتیںجن میں تعلیم صحت، علاج، روزگار، انصاف ، ٹرانسپورٹ، کھیل ، تحفظ ،صاف پانی میسر ہوں جو شہروں میں موجود ہیں تو لوگ کیونکر اپنا علاقہ چھوڑ کر بڑے شہروں کی طرف منتقل ہونگے ۔دنیا میں بڑ ے شہروں سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے مقامی حکومتوں کو نظام کو مضبوط او رموثر بناکر حکمرانی اور عوام کے درمیان ایک مضبوط رابطہ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔یہ عمل بنیادی طور پر ملک میں حکمرانی کے نظام میںمرکزیت کو ختم کرکے عدم مرکزیت یعنی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے نظام کو موثر بناکر لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے ۔
ہمارا حکمران طبقہ دنیا کے بڑے شہروں کی مثالیں دے کر اس جیسابننے کی خواہش تو دکھاتا ہے ، لیکن ان بڑے شہروں کے معاملات میں بڑے ممالک نے کیسے سب کچھ حاصل کیا اس سے سیکھنے کے لیے ہمارا حکمران طبقہ تیار نہیں ۔دنیا کے بیشتر بڑے شہروں نے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنا کر اپنے حکمرانی کے نظام کو موثر بنایا ہے ۔لیکن اس کے برعکس ہمارا حکمران طبقہ جس نظام کے ساتھ سب سے زیادہ استحصال کرکے اس کو کمزوربناتا ہے وہ مقامی نظام حکومت ہے ۔ حالانکہ 1973کے آئین کی شق140-Aصوبائی حکومتوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ آئینی ، سیاسی ، انتظامی او رمالی خود مختاری کو یقینی بنا کر مقامی نظام کو مضبوط بنائیں ۔

لیکن اس کے برعکس ہماری صوبائی حکومتیں صوبے سے بیٹھ کر ضلعی نظام کو کمزور بنیادوں پر چلا کر عملی طور پر مقامی حکمرانی سمیت بڑے شہروں کے نظام کو برباد کرنے کا سبب بن رہی ہیں ۔ پنجاب سمیت کچھ صوبوں میں حکمرانی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے کمپنیوں اور اتھارٹیوں کا نظام بنایا گیا جو عملا مقامی نظام میں براہ راست مداخلت بھی ہے او راس عمل نے زیادہ کرپشن، بدعنوانی اور اقرا پروری کو طاقت فراہم کی ہے ۔اس وقت بڑے شہروں میں بھاری ٹریفک، صاف پانی ، سیوریج،ناجائز تجاوزات، بجلی ،پارکس، تفریح کے معاملات، نقل و حمل کی سہولتیں او رموثر ٹرانسپورٹ کا نظام نے لوگوں کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کردیا ہے ۔بڑے بڑے میگا منصوبوں کا جال بچھایا گیا ہے ، لیکن بنیادی نوعیت پر مبنی مسائل کو یکسر نظرانداز کیا جارہا ہے ۔ لاہور جہاں میٹرو اور اورنج ٹرین کا بڑا چرچہ ہے ، لیکن عملی طو رپر پورے شہر کے نقل و حمل یا ٹرانسپورٹ کا نظام غیر قانونی چنگ چی رکشہ نے لی ہوئی ہے ۔ آپ ایک دن کے لیے چنگ چی کو بند کردیں تو پورے شہر مفلوج ہوجائے گا او رلوگ اپنی مطلوبہ جگہ نہیں پہنچ سکیں گے ۔ہر فرد جب گاڑی لے کر سڑکوں پر آئے گا تو شہر میں ٹریفک کا نظام بھی بدتر ہوگا اور شہری زندگی بھی مفلوج ہوگی ۔
میٹروبس ، ٹرین یقینی طور پر اچھے منصوبے ہونگے ۔لیکن کیا ان منصوبوں کو بنیادی نوعیت کے منصوبوں سے الگ کرکے دیکھا جاسکتا ہے ۔کراچی میں جو صفائی، سیوریج اور پانی بجلی جیسے مسائل ہیں اس نے پورے شہر کے نظام کو مفلوج کردیا ہے ۔ لاہو رمیں آپ کو سڑکوںکا جال نظر آتا ہے لیکن فٹ پاتھ، سایکل چلانے والوں کے لیے کوئی نظام نہیں جو سروس لائین بنائی گئی ہیں وہ پارکنگ او رتجاوزات میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ان بڑے شہروں میں لوگوں کے لیے تفریح کے مواقع بھی کمرشلائزیشن کا شکار ہوگئے ہیں ۔ بچوں او ربچیوں کے لیے کھیلنے کے میدان نجی شعبہ میں دے کر پیسے بنانے کی مشین کے طو رپر چلایا جارہا ہے ۔لاہور ،کراچی ، پنڈی میں آپ کو بڑی سڑکیں تو خوبصورت نظر آئیں گی ، لیکن گلیوں او رمحلو ں کی سطح پر گلیوں ، پارکوں ، سڑکوں ، پانی اور سیوریج جیسے مسائل کا انبار نظر آئے گا۔ بڑے شہروں میں صاف پانی بس ایک خواب بن کر رہ گیا ہے اور نجی کمپنیاں عوام کو بے دردی سے لوٹ رہی ہیں ۔
یہ جو سوچ ہے کہ ہم بڑے بڑے پلازہ، سڑکیں ، پل ، انڈرپاس اور کمرشل بلڈنگیں کھڑی کرکے شہروں کو خوبصورت او رپر کش بناسکتے ہیں ، غلط سوچ ہے ۔ شہروں کو پارکوں، پھولوںاور بہتر ماحولیات کے ساتھ خوبصورت بنایا جانا چاہیے اور خاص طور پر شہر کا پرانا ثقافتی کلچر کو بحال کرنا چاہیے ۔شہروں میں درخت لگانا تو کجا جو موجود ہیں ان کو بھی ختم کرنے کا کھیل جاری ہے ۔گھروںمیں ہونے والی تعمیر میں پارک بنانے اور پھول لگانے کا رجحان کم ہوگیا ہے ۔ کسی بھی سیاسی جماعت اور حکمران طبقات کے پاس شہری نظام کو موثر بنانے کا کوئی واضح اور شفاف یا پائدار نظام نہیںجو بتاسکے ، بڑے شہروں کے نظام سے کیسے نمٹنا ہے ۔بڑے شہر عمومی طور پر مقامی حکومت اور شہریوں کے درمیان ایک مضبوط رابطہ کاری اور ایک دوسرے کے واضح موثر کردار اور عملدرآمد کے نظام سمیت شہریوں کی موثر شمولیت سے جڑ ا ہوتا ہے۔
ہمیں دنیا کے تجربات سے سیکھنا ہوگا کہ جیسے انہو ں نے چھوٹے شہروں سے بڑے شہروںمیں لوگوں کی منتقلی کو مربوط مقامی نظام کی مدد سے روکا اورزیادہ سے زیاد ہ مقامی نظام کو بااختیار بنا کر حکمرانی کے نظام کو چلایا ہے وہی ہماری بنیادی نوعیت کی ترجیحا ت ہونی چاہیے ۔لیکن یہ سب کچھ اسی صورت ممکن ہوگا جب عوام اور سول سوسائٹی سمیت میڈیا حکمران طبقا ت پر ایک بڑے دباو کی سیاست کو پیدا کرے او رمجبور کرے کہ وہ بڑے شہروں میں حکمرانی کے نظام کو روائتی انداز سے نمٹنے کی بجائے وہ جدید طریقے او رنئے انداز اورحکمت عملیاں اختیار کریں جو آج بڑے شہروں کی ضرورت بنتا ہے۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.