تحریک انصاف نواز لیگ کی طرح حکومت نہ کرے۔۔ ڈاکٹر اجمل نیازی

ajmal niazi

چودھری پرویز الٰہی نے ایک اچھے سپیکر پنجاب اسمبلی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے حکومتی ممبران اور اپوزیشن کے لوگوں پر کوئی پابندی نہ لگائی۔ ممبران اسمبلی ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے کرتے تھک ہار گئے ہیں جبکہ اپوزیشن لیڈر ان کے روایتی مخالف حمزہ شہباز کم عمر ہیں اور پہلی مرتبہ اپوزیشن لیڈر بنائے گئے ہیں۔ مرکز میں شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں۔ حکومت کے علاوہ حزب اختلاف کی قیادت بھی شریف فیملی نے اپنے گھر میں رکھی ہوئی ہے۔ کیا قومی اور پنجاب اسمبلی میں کوئی پارلیمنٹیرین نہ تھا جو اس کا اہل ہوتا۔

قومی اسمبلی میں اس بار خورشید شاہ نے بھی تقریر کی۔ یہ لوگ اپوزیشن میں ہوں تو اپنے آپ کو بہتر سیاستدان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اقتدار میں اپنے آپ کو صرف حکمران ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دونوں کوششیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ وزیراعظم عمران نے ایک اچھا بلکہ ایک ہی اچھا کام کیا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کو سپیکر پنجاب اسمبلی بنایا ہے۔ اب اگر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بُزدار اُن سے مدد لیتے رہیں گے تو عمران کو پنجاب کے حوالے سے حوصلہ ہو گا۔

خورشید شاہ کی تقریر اچھی تھی۔ وہ اب کچھ کچھ قائد حزب اختلاف نظر آئے ہیں۔ مگر فواد چودھری کی جوابی تقریر سے اُن کا تاثر زائل ہو گیا ہے۔ جو کچھ شاہ صاحب نے تقاضا کیا اور ایک شاندار اور غریب دوست پاکستان کا نقشہ کھینچا۔ وہ فواد چودھری کی جوابی تقریر کے بعد سارا اچھا تاثر برباد ہو گیا۔ بلکہ شاہ صاحب کا مذاق بن گیا۔ کسی حکومت نے کبھی پاکستان اور پاکستان کے عوام کے لئے کچھ نہ سوچا۔ کچھ کرنے کا معاملہ تو بہت آگے کی چیز ہے۔ ایسی تقریریں ہوتی ہیں۔ جب وہ اختلاف کے بنچوں پر ہوتے ہیں اور جب وہ اقتدار میں ہوتے تو ….؟

30 دنوں کی کارکردگی کے لئے ہم عمران خان اور تحریک انصاف پر ناکامی کا الزام لگائیں اور سوچیں کہ ن لیگ 30 سال سے حکومت میں رہی تو اُس نے کیا کیا۔ ان کی کارکردگی کیا تھی۔ میں تحریک انصاف ن لیگ پیپلز پارٹی اور کسی پارٹی کے حق میں نہیں ہوں نہ خلاف ہوں، میری ذاتی دوستیاں سب پارٹی ممبران سے ہیں۔ وہ صرف ذاتی ہیں۔ میں بھٹو ، بے نظیر بھٹو اور زرداری صاحب کے لئے دوستانہ جذبات رکھتا تھا۔ بھٹو اور بی بی تو چلے گئے۔ اب برادرم آصف زرداری مجھے دوست سمجھتے ہیں یا نہیں۔ مجھے معلوم نہیں۔ نواز شریف سے ملاقات بھی نہیں ہے۔ البتہ چودھری پرویز الٰہی سے میری بہت دوستی ہے۔ اُن سے میرے روابط ذاتی ہیں۔

خورشید شاہ نے کہاکہ پاکستان ہم سب کا ہے مگر یہ لوگ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو پاکستان ان کی جاگیر ہوتا ہے اس حوالے سے ن لیگ شریف فیملی بہت معروف ہے۔ مریم نواز میرے خیال میں ایک متوازن سیاسی رویہ رکھتی ہیں۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو کے مقابلے کا وقت آ رہا ہے۔ جمائما بہت بڑی خاتون ہے۔ بشریٰ بی بی کے لئے بھی میرا خیال اچھا ہے ۔ عمران کی قسمت میں کوئی کامیابی ہوئی ہے تو اس کا کریڈٹ بشریٰ بی بی کو بھی جاتا ہے۔ بشارت عمران خان کا انتظار کر رہی ہے؟ برادرم ڈاکٹر بابر اعوان کا تحریک انصاف جائن کرنا بھی ایک بشارت کی طرح ہے۔

ضمنی انتخاب کے نتائج کی روشنی میں تحریک انصاف کی ناکامی کا طعنہ دینا اچھا نہیں مگر عمران کو غور کرنا چاہئے کہ ان کے مشیر کون ہیں۔ کس نے کہا تھا کہ ولید اقبال کی بجائے ایک جرنیل کے بیٹے کو ٹکٹ دیں۔ یہ اقدام ویسے بھی عمران کے لئے کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ ولید اقبال علامہ اقبال کا پوتا ہے۔ اس نے ہمیشہ تحریک انصاف اور عمران خان کی وکالت کی ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ تحریک انصاف کا ٹکٹ ولید اقبال کو ملا ہوتا تو نتائج مختلف ہوتے۔ خواجہ سعد رفیق کی کامیابی بھی میرے لئے خوشی کی بات ہے۔ کچھ ن لیگی ضمنی انتخاب میں اچھی کارکردگی کے لئے تاثر دے رہے ہیںکہ ن لیگ آنے والی ہے؟ یہ سیاسی رویہ نہیں ہے اس کی کیا وجہ ہے کہ عام انتخاب میں ن لیگی کارکردگی اچھی نہ تھی۔ عمران خان کو نواز شریف کا طرز حکومت نہیں اپنانا چاہئے۔ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.