تری آواز مکّے اور مدینے۔۔ ہارون الرشید

ہارون الرشید کالم

ہم سب قصور وار ہیں اور ہم سب کو اپنی اصلاح کرنا ہوگی۔ اللہ کے آخری رسولؐ کا فرمان یہ ہے : ”کلکم راعٍ و کلکم مسئول‘‘ تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اورسب کے سب جواب دہ۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کا تجزیہ اور تجاویز تو ایسی ہیں کہ سبحان اللہ۔ دل سے دعا نکلتی ہے: تری آواز مکّے اور مدینے۔مگر الفاظ ایک چیزہیں اور عمل دوسری۔ کیا وہ خواب پورا ہو سکے گا‘ جس کی آرزو میں ستّر برس بیت گئے۔
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غوّاص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

یکسوئی تو جج صاحب میں ایسی ہے کہ ہر خرابی اور ہر پیچیدگی پہ نگاہ ۔ عدل کے علیل نظام کا ایسا پوسٹ مارٹم انہوں نے کیا ہے کہ انشراحِ صدر میں کوئی کسر باقی نہ رہی۔ سوال یہ ہے کہ بلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔
پوری طرح یہ بات قابلِ فہم ہے کہ کارفرما عدالتی نظام میں‘ انصاف کا بروقت حصول ممکن نہیں۔ بے گناہ پھانسی پہ لٹک جاتا ہے تب عدالت قرار دیتی ہے کہ وہ بے گناہ ہے۔ جی ہاں چار کی بجائے‘ تین سطحوں پر یہ نظام قائم ہونا چاہئے۔ اب تو یہ ہے کہ اوّل مجسٹریٹ یا سول جج‘ پھر سیشن جج‘ اس کے بعد ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ۔ کیوں نہ سول جج سماعت کرے اور سیشن کورٹ نمٹا دے۔ خال ہی کوئی مقدمہ ہو سکتا ہے ہائی کورٹ کو جس کی سماعت کرنی چاہئے ۔ سپریم کورٹ میں اور بھی کم۔ سوڈان ایسے پسماندہ ملک میں تین چار دن میں قاضی کیس نمٹا دیتا ہے۔ خود پاکستان کی‘ خصوصی عدالتوں میں یہ تجربہ کامیاب رہا۔
خرابی کہاں ہے؟ اوّل تو ملزم کے وکیل‘ جو مقدمات لٹکاتے ہیں۔عدالتی اہلکار ان کے مددگار ہوتے ہیں۔ جھوٹے گواہ اوروکیلوں کے علاوہ تفتیش کرتی رشوت خور پولیس۔یہ ایک اتحاد اربعہ ہے۔ جھوٹی گواہی کے خلاف قانون سازی ہونی چاہئے۔ پولیس کی اصلاح درکار ہے۔ جیسا کہ چیف جسٹس نے کہا: التوا پر تلے وکلا کی ہرگز نہ سنی جانی چاہئے۔ فرمایا: انیس لاکھ مقدمات سرد خانے میں پڑے ہیں۔کل تین ہزار جج ہیں‘ چھتیس گھنٹے روزانہ ریاضت کریں‘ تب بھی تحلیل نہیں کر سکتے۔

سب سے پہلے تھانوں کی سطح پر مصالحتی کمیٹیوں کی تشکیل ہونی چاہیے۔ساٹھ ستر فیصد مقدمات وہیں فیصل ہو سکتے ہیں۔ وکلاحضرات کو اعتراض ہے اور کیوں نہ ہو‘ ان کی اہمیت فساد سے وابستہ ہے‘ انصاف سے نہیں۔ ججوں کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہئے۔ کم از کم تین گنا۔ جھوٹے گواہوں کو جب تک سزا کا خوف نہ ہو ‘ اس وبا کا خاتمہ ممکن نہیں۔ برّصغیر کے لوگ مزاجاً مقدمہ باز ہیں۔ محض مخالفین کو الجھانے اور اذیت دینے کے عادی مقدمہ بازوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ جرمانہ ہی نہیں سزا بھی۔

چیف جسٹس نے تجویز کیا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں‘ ججوں‘و کلا کے نمائندوں‘ پولیس افسروں‘ حتیٰ کہ خفیہ ایجنسیوں کے حکام کو صدرِ پاکستان مدعو کریں اور مستقبل کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیں ۔ یہ بھی کہ آئین کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ الگ ایک نظام وضع کرے۔حصولِ انصاف کے راستے میں سیاستدان بھی اتنی ہی بڑی رکاوٹ ہیں‘ جتنی کہ زرداروں کے وکیل۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ لاہور اور کراچی کے فلاں فلاں ہسپتال مرکزی حکومت کی تحویل میں رہیں گے۔ بلاول بھٹو اس پہ معترض ہیں‘ جس طرح کہ ان کے والدِ گرامی اپنے خلاف جے آئی ٹی کی تشکیل پر۔ بلاول نے کہا‘ دو تہائی اکثریت سے پاس کی جانے والی ترمیم کو دو آدمی کالعدم کر دیتے ہیں۔ حضور والا! اسی آئین میں لکھا ہے کہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ بدلا نہیں کیا جا سکتا۔اٹھارہویں ترمیم آئین کے بنیادی خطوط سے متصادم ہے۔ ثانیاً جہاں کہیں ضرورت ہو‘ اس کی تشریح عدالت کرے گی‘ کوئی لیڈر یا صوبائی حکومت نہیں۔

سیدنا عمر فاروقِ اعظمؓ کا عہد‘ عوامی بہبود‘ انتظامی سلیقہ مندی اور عدل کے اعتبار سے تاریخ کا سنہری دور ہے‘ ججوں کی تنخواہیں‘ گورنروں سے زیادہ ہوا کرتیں۔
ایک گھوڑا امیر المومنینؓ نے بدّو سے خریدا۔ سوار ہوئے تو انکشاف ہوا کہ لنگڑا ہے۔
سودا منسوخ کرنا چاہا تو بدّو ڈٹ گیا کہ یکطرفہ طور پہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ طے پایا کہ ثالث مقرر کیا جائے۔ شریح نام کے ایک صاحب کو یہ فرض سونپا گیا۔ دونوں کا مؤقف سننے کے بعد شریح نے امیر المومنین کے خلاف فیصلہ صادر کر دیا۔ جیسے ہی حکم صادر ہوا ان سے امیر المومنین نے سوال کیا: کیا آپ جج بننا پسند کریں گے؟ قاضی شریح کو معلوم تاریخ کے عظیم ترین ججوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انسانی نفسیات کا غیر معمولی ادراک‘ فہم و فراست‘ ریاضت کیشی مگر سب سے بڑھ کر انصاف عطا کرنے کا عزم۔ وہ اس کتاب کے قاری تھے‘ جس میں لکھا ہے کہ معاشرے کی بقا کا انحصار قصاص پہ ہوتا ہے‘ اللہ کی آخری کتاب۔ اُن پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ امتی تھے‘ ہر چیز سے زیادہ عدل کو جنہوں سے عزیز رکھا۔

چند برس پہلے حمو رابی نام کے ایک بادشاہ کی کچھ باقیات دریافت ہوئیں۔ پتھروں پر کندہ قوانین۔ ان میں سے ایک کی عبارت‘ حیرت انگیز طور پر قرآن مجید کی اس آیہ مبارکہ سے مشابہت رکھتی ہے۔ ولکم فی القصاص حیاۃیا اولی الالباب!
تین عشرے ہوتے ہیں‘ لاہور کی سڑکوں پہ ایک سیاہ پوش فقیر گھوما کرتا۔ وہ ایک بڑا شاعر تھا‘ زندگی سے ناتہ توڑ لیا۔ اس کے ایک شعر نے مگر دائمی زندگی پائی۔
جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

ملک کا ہر بیسواں شہری پولیس اور عدالت کا مارا ہے۔ غضب خدا کا انیس لاکھ زیر التوا مقدمات۔ پراپرٹی ڈیلر ایسے بھی ہیں‘ جو دراصل ٹھگوں کے ٹولے ہیں۔ جرنلسٹوں‘ ججوں اور جنرلوں کو استعمال کر کے جو کھرب پتی ہو گئے۔ افسر اور لیڈر جن کے گماشتے ہیں۔ جو سیاسی پارٹیوں کے تنازعات طے کراتے اور وزارتوں کے فیصلے کرتے ہیں۔ عمران خان نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک زہریلا مضمون ان کے خلاف چھپنے والا تھا۔ کسی نے ایک پراپرٹی ڈیلر سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔ کچھ دیر میں اس نے مطلع کیا کہ مضمون روک دیا گیا ہے۔ اس نے کہا: لاکھوں روپے ماہوار اسے میں دیتا ہوں۔ ایک مشہور‘ بہت ہی مشہور وکیل کے بارے میں اس نے کہا: میرا جہاز اس طرح استعمال کرتا ہے‘ جیسے پڑوسی کی بائیسکل۔ دو بار تو عمران خان صاحب نے بھی اس سے فیض پایا۔ ایک بار مہاتیر محمد کی آمد پر اس کا عطیہ قبول کیا۔ دوسری بار اس کے جہاز میں سوار بیرون ملک تشریف لے گئے۔ زرداری صاحب اور میاں محمد نواز شریف کا تو ذکر ہی کیا۔ وہ تو کرپشن کی کھلی چھٹی مانگتے ہیں۔
لاہور میں ٹھگوں کے جس ٹولے کو جسٹس ثاقب نثار نے نمٹایا‘ اس کے سربراہ کھلے عام کہا کرتے کہ جاتی امرا میں مہمان داری کے اخراجات وہ برداشت کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خراج میں محترمہ کلثوم نواز کے الیکشن کے اخراجات بھی انہی موصوف نے اٹھائے۔

نہیں جناب صرف اشرافیہ نہیں آوے کا آوا ہی بگڑ گیا۔ پورا سماج اخلاقی زوال کا شکار ہے۔ اخبار نویس این جی اوز بناتے ہیں۔ اپنے ممدوحین کی مدد سے ٹیلی ویژن اور اخبارات میں دانش بگھارنے کے مواقع حاصل کرتے ہیں۔ سبکدوش افسر ارب پتیوں کے نوکر ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک پراپرٹی ڈیلر افواجِ پاکستان کے اربوں روپے ہڑپ کر گئے۔ پاک فوج کے ایک سابق سربراہ سے بات کی تو انہوں نے کہا: کچھ روپیہ ہم نے وصول کر لیا ہے ‘ باقی بھی کر لیں گے۔ انہی کے عہد میں آئی ایس پی آر کے ایک سابق سربراہ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: فوائد سمیٹنے والے نظام سے باہر جا چکے‘ یعنی سبکدوش۔

ظلم ہے اور زندگی کے ایک ایک شعبے میں۔تمام تر نیک نیتی اولوالعزمی کے باوجود تنہا چیف جسٹس کچھ نہیں کر سکتے۔ حکمران اگر سنجیدہ نہ ہوں۔ اگر وکلا اپنے گریباں میں جھانکنے پر آمادہ نہیں۔ پولیس کی اگر نئی تشکیل نہیں ہوتی۔ عسکری قیادت اگر تعاون نہیں کرتی۔ میڈیا اگر اپنی اصلاح نہیں کرتا۔

ہم سب قصور وار ہیں اور ہم سب کو اپنی اصلاح کرنا ہوگی۔ اللہ کے آخری رسولؐ کا فرمان یہ ہے : ”کلکم راعٍ و کلکم مسئول‘‘ تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اورسب کے سب جواب دہ۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.