تمباکوکا تاریخی پس منظر….محمد اسلم پرویز

smoking

تمباکو کا شمار ان پودوں میں ہوتا ہے جنہوں نے انسان کی عادات و اطوار، تہذیب، سماجی ساخت اور حکومتوں کو بدلا ہے۔ انسانی سماج کی تاریخ میںجن پودوں کو عہدساز کہا جا سکتا ہے، ان میں تمباکو بھی شامل ہے۔ تمباکو کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ جلد ہی ہو گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس کا چلن بڑھتا ہی گیا۔ 1492ء کے اواخر میں کولمبس کا جہاز کیوبا کے ساحل پر لنگر انداز ہوا۔ اس نے اپنے ترجمان کو ایک رقعہ کے ساتھ خان اعظم کی خدمت میں روانہ کیا۔ اس نے اپنے خط میں گزارش کی تھی کہ وہ اس کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کر لے۔ کولمبس کے ساتھی جب شہر میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ سبھی باشندوں کے منہ میں لمبی لمبی نلکیاں لگی ہوئی تھیں جن کے سرے کو وہ منہ میں چبا رہے تھے۔ دوسرے سرے سے دھواں نکل رہا تھا۔ مختلف لوگوں سے بات کرنے پر ان کو بتایا گیا کہ ان نلکیوں کے استعمال سے رنج و غم اور تکالیف نیز تھکان کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ کولمبس کیوبا سے تجارتی تعلق تو قائم نہ کر سکا لیکن وہاں سے اس کو بطور تحفہ وہ دھویں والی نلکیاں حاصل ہو گئیں۔ جن کو لے کر وہ سپین واپس لوٹ آیا۔

قدیم چٹانوں پر کھدی ہوئی تصاویر اور دیگر آثارِ قدیمہ کی مدد سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کولمبس کے زمانے سے ایک ہزار سال قبل بھی تمباکو بطور دوا اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے وقت استعمال ہوتا تھا۔ مایا قبائل کے مذہبی پیشوا بارشیں لانے کے لیے تمباکو پیا کرتے تھے۔ مریضوں کو روحانی علاج کے واسطے تمباکو کی دھونی دی جاتی تھی۔ مقامی قبیلے کے لوگ تمباکو کی پتیوں کو لپیٹ کر جو گول نلکیاں بناتے تھے ان کو وہ ’’ٹباکا‘‘ کہتے تھے۔ اسی لفظ سے انگریزی میں ’’ٹوباکو‘‘ بنا، جس نے اردو میں تمباکو کی شکل اختیار کر لی۔ شمالی امریکا کے انڈین قبائل میں تمباکو کی اتنی اہمیت تھی کہ وہ بطور کرنسی استعمال ہوتا تھا۔ تمباکوکی اچھی پتی اور اچھی قسم کے بدلے میں کوئی بھی چیز خریدی جا سکتی تھی۔ چودہویں اور پندرہویں صدی کے سیاحوں کی تحریروں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس وقت تمباکو کو بطور نسوار ناک میں رکھا جاتا تھا۔ اس کی پتیاں منہ میں چبائی بھی جاتی تھیں اور بطور سگار بھی اس کا دھواں استعمال ہوتا تھا۔ ان سیاحوں نے اپنی تحریروں میں دو اقسام کے تمباکو کا ذکر کیا ہے، جن میں سے ایک کی پتیاں ملائم اوردھواں ہلکا ہوتا تھا۔ جب کہ دوسری قسم کی پتیاں سخت ہوتی تھیں اور دھواں بہت تلخ اور سخت ہوتا تھا۔ کولمبس کے ذریعے تمباکو کی پتیاں سپین پہنچیں تو وہاں بھی اس کا رواج چل نکلا۔ تاریخی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ 1531ء تک سپین میں باقاعدہ دونوں اقسام کے تمباکو کی کاشت شروع ہو چکی تھی۔ شروع شروع میں اس کا استعمال بطور دوا ہوا۔ ہسپانوی جہازوں کے انگریز، فرانسیسی اور ولندیزی عملے میں تمباکو کی پتیاں درد اور تھکان دور کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں اور ان کو ’’مقدس سمجھا جاتا تھا۔ سیاحوں اور تاجروں کی مدد سے یہ پتیاں یورپ کے علاقوں میں پھیلنے لگیں۔ اگرچہ اس وقت کافی کوشش کی گئی کہ ان پتیوں پر صرف معالجوں کا قبضہ رہے، لیکن عوام میں ان کا چلن بڑھنے لگا۔ سولہویں صدی کے وسط میں ایک سیاح برازیل سے تمباکو کے بیج لے کر فرانس پہنچا۔ اس کے چند برس بعد پرتگال میں موجود سفیر فرانس یاں نکوٹ نے تمباکو کے بیج کیتھرائن میڈیسی کی خدمت میں یہ کہہ کر پیش کیے کہ یہ ملکہ کا خاص پودا ہے۔ سفیر کے ذریعے تحفے میں دیے گئے بیج وہاں بہت مقبول ہوئے اور تمباکو کا استعمال عام ہو گیا۔

تمباکو کو پھیلانے میں نکوٹ کے کردارکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب پودوں اور جانوروں کے سائنسی نام رکھے گئے تو تمباکو کا نام ’’نکوٹیانا‘‘ رکھا گیا۔ سرجان ہاکن نے انگلینڈ میں تمباکو کی کاشت شروع کرائی۔ ملکہ الزبتھ اول کے دربار میں سر والٹر ریلی نے تمباکو پیش کیا اور مقبولیت دلائی۔ باوجود مقامی کاشت کے انگلینڈ میں استعمال ہونے والے تمباکو کی بڑی مقدار سپین ہی سے آتی تھی۔ اس وقت تمباکو چاندی کے ہم وزن بکتا تھا، پھر بھی یہ لوگوں میں مقبول تھا۔ اس مقبولیت کی وجہ سے حکام کو پریشانی لاحق ہوئی کیونکہ اس طرح چاندی ملک سے باہر جا رہی تھی اور سپین کے خزانے کو بھر رہی تھی۔ شاہ جیمز اول نے اس چلن کو روکنے کے لیے تمباکو کی خرید پر ٹیکس لگا دیا۔ مگر تمباکو کا استعمال نہ رک سکا۔ پرتگالیوں نے تمباکو چین میں متعارف کرایا۔ چین میں اس کا استعمال اتنی تیزی سے پھیلا کہ تنگ آ کر چیانگ مملکت کے بادشاہ کانگ سائی نے تمباکو بیچنے والوں کے سر قلم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس وقت تک تقریباً تمام دنیا میں تمباکو کی پتیاں پھیل چکی تھیں۔ عوام میں پھیلنے والی اس لت سے حکمران پریشان تھے۔ خلافت عثمانیہ کے شاہ مراد رابع تمباکو پینے والوں کو قتل کرا دیتے تھے۔ ایک زار روس نسوار استعمال کرنے والوں کے نتھنے کٹوا دیتا تھا۔ لیکن لوگ چھپ چھپ کر پیتے رہے اور اس کی تجارت جاری رہی۔ پرتگالی اور ہسپانوی سیاحوں نے رفتہ رفتہ سبھی علاقوں میں تمباکو رائج کرا دیا۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.