توجہ اور مسٹر پرفیکٹ۔۔۔۔انتھونی رابنز

doctor

ہر کوئی مسٹر پرفیکٹ بننا چاہتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ وہ مسٹر پرفیکٹ کیسے بنے گا۔ اس کے لئے صرف اس کام پر خاص توجہ دینا ہو گی جو آپ فوری کرنا چاہتے ہیں۔ صرف اور صرف اسی کام پر توجہ۔آپ ابھی بیٹھے بیٹھے توجہ کی طاقت سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ ماضی کی کسی تلخ بات کو دماغ میں لائیں۔ فوراً اس سے متعلق تلخیاں، مصائب اور دکھ جو آپ نے اٹھائے تھے ایک دم سے تازہ ہو جائیں گے۔ آپ بالکل اسی ماحول، وقت اور کیفیت میں اپنے آپ کو محسوس کریں گے۔ نتیجہ، آپ افسردگی اور پریشانی میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس اچھی بات، اپنا کوئی کارنامہ اور حسین یاد آپ کو نہال کر دیتی ہے۔ ذرا غور کریں کہ آپ جب سوچتے ہیں تو دھیان مثبت باتوں کی جانب جاتا ہے یا منفی باتوں کی طرف۔ کیا آپ اپنی سوچ کو کنٹرول کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کے دماغ میں ماضی کی تلخیاں چھائی ہوئی ہیں یا کامیابیاں؟

آپ نے کیسے اپنا دھیان صحیح سمت میں لگانا ہے؟ ہم جس چیز کی جانب زیادہ توجہ دیتے ہیں وہی ہمارا حقیقت سے متعلق خیال بن جاتا ہے۔ تاہم ہمارا مرکز سوچ ایک سچی حقیقت نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف ایک حصہ دکھاتا ہے اور یہ حقیقت کا ایک ادراک ہوتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ کیمرے کا لینز۔

آپ جب کسی منظر کی تصویر کشی کرتے ہیں تو لینز سے وہ چیز نظر آتی ہے۔ جہاں پر فوکس ہے، وہی آپ کو نظر آ رہا ہے اور تصویر بھی اسی کی آئے گی۔ باقی منظر اوجھل رہے گا۔ آپ کسی صورت حال کو جب دیکھتے ہیں یا فوکس کرتے ہیں تو آپ بھی صرف اتنا ہی دیکھیں گے جو فوکس میں آئے گا۔ اسی کے بارے میں اب ہم رائے قائم کریں گے۔ اگر آپ کو ایسی تصویر دکھائی جائے جو ایک پارٹی کی ہو، اس تصویر میں آپ کو لوگ بحث کرتے، الجھتے نظر آ رہے ہوں۔ آپ فوراً رائے قائم کریں گے کہ پارٹی میں لڑائی جھگڑا ہوتا رہا۔ اگر تصویر میں لوگ ہنستے کھیلے، ڈانس کرتے دکھائی دیں تو آپ کی رائے بالکل الٹ ہو گی۔ یہاں مفکر ودالف والڈو ایمرسن کا قول بات کو مزید واضح کر دے گا۔ ’’ہم دوسروں میں وہی دیکھتے ہیں جو ہمارے دل میں ہوتا ہے۔‘‘ باتوں کا مطلب اکثر اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کیسے دیکھتے ہیں۔ آپ فرض کریں کہ ایک بزنس میٹنگ بلائی گئی ہے۔ آٹھ بجے سب کو پہنچنا تھا۔ آپ کے اہم دو دوست نو بجے تک نہیں آتے تو آپ سوچنے لگتے ہیں کہ یہ دونوں سنجیدہ نہیں۔ یہ لاپروا اور محض وقت برباد کرنے والے ہیں۔ اس سے آپ کا پارہ چڑھے گا اور آپ کا رویہ تبدیل ہو جائے گا۔

اس کے برعکس اگر آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے یہ سوچتے ہیں کہ شاید کوئی مسئلہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے یہ دونوں نہیں آئے تو معاملات بالکل کنٹرول میں رہیں گے۔ ہمیں بڑی احتیاط سے اس بات کا انتخاب کرنا چاہیے کہ کدھر توجہ دی جائے۔ فوکس اس بات کا تعین کرتا ہے کہ آپ اپنے لیے حقیقت کا ادراک کیسے کرتے ہیں، یہ آپ کو بری دکھائی دیتی ہے یا اچھی اور پھر آپ کا رویہ اسی کے زیر اثر سامنے آتا ہے۔ فوکس کے بارے میں مجھے اس وقت پتا لگا تھا جب میں نے ریسنگ کار چلانے کی تربیت حاصل کی۔ زبردست رفتار سے گاڑی کو چلانا اور اسے قابو میں رکھنا ایک بہت بڑا فن ہے۔ استاد نے مجھے بتایا کہ توجہ صرف اور صرف راستے پر رکھو اور بالکل دیوار کی جانب مت دھیان دو ورنہ سیدھا اس سے جا ٹکراؤ گے۔ ٹریننگ کے دوران مجھے ایک خاص گاڑی جسے سکڈکار کہتے ہیں، میں انسٹرکٹر کے ساتھ بٹھایا گیا۔ یہ گاڑی کمپیوٹر سے چلتی ہے۔ اب کیا یہ جاتا ہے کہ ایک دم سے اس کا ایک پہیہ انسٹرکٹر کے اشارے سے اٹھا دیا جاتا ہے۔ عام طور پر بالکل قدرتی بات ہے کہ ڈرائیور دیوار کی جانب دیکھے گا اور اس سے بچنے کے لیے بریک لگائے گا لیکن یہاں پر ڈرائیور کو ایک دم گاڑی موڑنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی جب ایسا کیا گیا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ گاڑی اب میرے کنٹرول سے بالکل باہر ہو چکی ہے۔ میں بڑے خوف سے دیوار کی جانب دیکھ رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ میں اب اس سے لازماً ٹکرا جاؤں گا۔ اسی لمحے انسٹرکٹر نے چیخ کر مجھے خبردار کیا اور میں گاڑی کا رخ تبدیل کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ یہ تجربہ مجھ پر بار بار دہرایا گیا۔ یہاں تک کہ میں دیوار کو بھول گیا اور آٹومیٹک طریقے سے گاڑی کا رخ بدلنے لگا۔ زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ آپ اپنی توجہ کے سہارے مستقبل کی راہیں متعین کرتے ہیں۔ فوکس کو کنٹرول کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ سے سوال کریں۔ غوروخوص کر کے ہم ہر سوال کا جواب حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلاً فلاں شخص مجھے کیوں نقصان پہنچا رہا ہے؟ اب آپ غور کریں گے تو کئی باتیں سامنے آئیں گی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ محض آپ کی سوچ ہو، ایسا حقیقت میں نہ ہو۔ اپنے آپ سے سوال کر کے ہم فوکس کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور غلط باتوں سے جان چھڑا کر مثبت طرزعمل اختیار کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.