جنوبی ایشیا میں جمہوریت , طرز حکمرانی اور سیکورٹی کا بحران ۔۔۔سلمان عابد

alman abid

عمومی طور پر تعلیمی دانش گاہوں کا اصل کردار ہی ایسا علم , سوچ, فکر اور خیالات کو سامنے لانا ہوتا ہے جو موجودہ مسائل سے فکری بنیادوں پر سب کو نمٹنے میں مدد فراہم کرسکے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کا اصل حسن اس کا تعلیمی نظام ہوتا ہے ۔ ایسا نظام جو دلیل اور شواہد سمیت نئی نئی تحقیق او رجدید علم کے تقاضوں میں اپنے قومی مسائل کو سمجھ کر اس کا حل پیش کرسکے ۔جنوبی ایشیا کے تناظر میں جمہوریت, حکمرانی اور خاص طور پر سیکورٹی سے جڑے مسائل اس وقت سنگین نوعیت سے جڑے ہوئے ہیں ۔ یہ مسئلہ کسی ایک ملک یا ریاست کا نہیں بلکہ اس اس علاقہ میں موجود ان تمام ریاستوں کا ہے جو امن , ترقی اور خوشحالی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہیں ۔یہ کام کسی سیاسی تنہائی میں تو ممکن نہیں اس کے لیے علاقائی سطح پر تمام ممالک کو ایک دوسرے کے معاملات کو سمجھ کر تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا ہوگا او راسی میں ان سب ممالک کی ترقی او رخوشحالی کی کنجی جڑی ہوئی ہے ۔

پچھلے دنوں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات اور ساوتھ ایشین سٹڈی سنٹرکے زیر اہتمام دو روزہ دوسری عالمی کانفرنس” جنوبی ایشیا میں جمہوریت , طرز حکمرانی اور سیکورٹی “منعقد کی گئی ۔اس کانفرنس میں مختلف ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے اپنے اپنے مقالہ جات کی مدد سے ان اہم موضوعات جو جنوبی ایشیا او رپاکستان کی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں کو پیش کرکے مکالمہ کے کلچر کو فروغ دیا ۔ اس کانفرنس کے انعقاد پر جامعہ کے سربراہ ڈاکٹر نیاز احمد , ڈاکٹر عنبرین جاوید اور ڈین آف سوشل سائنسز ڈاکٹر اقبال چاولہ کو داد دینی ہوگی۔ کیونکہ اس طرزکی کانفرنسز سے ہمیں اپنے او رعلاقائی معاملات او راسے جڑ ے مسائل کو سمجھنے میں مد دملتی ہے ۔ کانفرنس میں جن اہم افراد نے اپنا اپنا مقالہ پیش کیا ان میں ڈاکٹر اقبال چاولہ,ڈاکٹر عنبرین جاوید, ڈاکٹر مریم کمال , ڈاکٹر ظفر نواز جسپال, ڈاکٹر ارم خالد, ڈاکٹر ریحانہ تنویر ہاشمی ,مہیش راج بھٹہ,ڈاکٹر رانا اعجاز احمد, ڈاکٹر مونس احمر, ڈاکٹر خوشبو اعجاز ,پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان , پروفیسر سجاد نصیر, ڈاکٹر وسیم احمد ڈاکٹر اعجاز احمد بٹ , پروفیسر شبیر احمد خان,ڈاکٹر گلشن مجیدسمیت عالمی اسکالرز نے بھی اپنا مقالہ پیش کیا ۔

کانفرنس کا ابتدائی سیشن خاص اہمیت کا حامل تھا ۔اس کانفرنس کے مہمان خاص سابق وزیر خارجہ خورشید احمد قصوری , سیکورٹی اور دفاعی امور کے ماہر تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی , سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان , ڈاکٹر اقبال چاولہ , ڈاکٹر عنبرین جاویدتھے , جبکہ نظامت ڈاکٹر ریحانہ ہاشمی کررہی تھیں ۔ڈاکٹر حسن عسکری رضوی , خورشید محمود قصوری او رشمشاد احمد خان نے موضوع پر بہت جاندار گفتگو کرکے پاکستان اور اس سے جڑے علاقائی سیاست اور ریاستوں کے مسائل اور ان کے انداز حکمرانی پر روشنی ڈالی ۔ ڈاکٹر عنبرین جاوید کے بقول اس کانفرنس کا بنیادی مقصد جنوبی ایشیا سے جڑے جمہوریت, حکمرانی او رسیکورٹی کے مسائل کو علمی اور فکری بنیادوں پر سمجھنا اور ایک متبادل فکر کو سامنے لانا ہے جو صرف پاکستان کو ہی نہیں بلکہ سب ممالک کو جوڑنے کا سبب بنے ۔اس کانفرنس کی مدد سے ان تمام امور کو سامنے لایا جائے گا جو جنوبی ایشیا کی سیاست میں ترقی او رامن میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری کے بہت اہم نکات اٹھائے ۔ ان کے بقول جنوبی ایشیا کی سیاست بہت پیچیدہ ہے او ر اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس نکتہ پر توجہ دیں کے ان علاقائی ممالک کے مسئلہ کا حل طاقت او رجنگوں سے نہیں جڑ ا۔ ان سب ممالک کو سیاست , سماج کو بہتر بنانے کے لیے کلچر, ثقافت,ڈپلومیسی کو بنیاد بنا کر سافٹ پاور کو استعمال کرنا ہوگا ۔کیونکہ آج کی جدید دنیا میں جہاں علم اور فکر کی بنیاد پر نئے نئے رجحانات اور تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں وہیں ہمیں سماجی , سیاسی اور معاشی فکر کو تیزکرنا ہوگا۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود اپنے سیاسی , جمہوری اور مشاورتی عمل عمل کو مضبوط بنائیں۔اس تناظر میں درس گاہوں کی بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے علم,فکر اور تحقیق سے نیا متبادل علم پیش کریں جو سب کو تنازعات میں الجھانے کی بجائے جوڑ سکے ۔ان کے بقول علاقے میں شامل تمام ممالک کو ریجنل سطح پر داخلی اور خارجی سیکورٹی کا مقدمہ باہمی مشاورت سے پیش کرنا ہوگاتاکہ تمام ممالک ایک دوسرے کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور تنازعات سے گریزکریں۔

ڈاکٹر حسن عسکری نے ایک اہم نکتہ یہ اٹھایا کہ اس وقت علاقائی ممالک اپنی اپنی داخلی اور خارجی سیکورٹی پر توجہ دے رہے ہیں لیکن علاقائی سیکورٹی جو باہمی ایجنڈا ہونا چاہیے اس پر سب کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ان کے بقول علاقائی سیاست او رامن میں تمام ممالک کا میڈیا ایک کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے ,لیکن اس وقت میڈیا میں بہت کچھ ایسا ہورہا ہے جس کو تبدیل ہونا چاہیے ۔ہمیں اپنے داخلی مسائل کو خارجی مسائل سے جوڑ کر حل کی طرف بڑھنا چاہیے او راس میں معاشی تعلقات او رتعاون کے امکانات کو زیادہ مضبو ط بنا کر علاقائی امن اور معاشی استحکام پر توجہ دینی چاہیے ۔

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی اہم نکات اٹھائے بالخصوص پاک بھارت تناظر میں ان کی گفتگو اہم تھی ۔ان کے بقول ہم اور ہمارے ہمسائے ممالک کو غربت, بے روزگاری , پانی , سیکورٹی , خوراک, منشیات او رآبادی کے بڑھاو کے سنگین بحران کا سامنا ہے ۔ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ہمیں باہمی تعاون کی پالیسی کے ساتھ چلنا ہے ۔ الزام تراشیوں پرمبنی سیاست سے کسی بھی ملک کا بھلا نہیں ہوگا بلکہ یہ حکمت عملی اور زیادہ بداعتمادی کو پیدا کرے گی جو مزید تنازعات کو جنم دینے کی سبب بنے گی ۔بھارت کی اس علاقائی سیاست میں اہم کردار ہے لیکن وہ مسلسل سار ک کانفرنس او راس سے جڑے سیاسی او رسماجی اداروں میں رکاوٹیں پیدا کرکے بات چیت او رتعاون کے امکانات کو محدود کررہا ہے ۔بھارت کو اپنے مجموعی کردار پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ مسائل کا حل بات چیت سے ہی جڑا ہے اور اس وقت پاکستان بات چیت کے عمل میں مسلسل پہل کررہا ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔اگر شہنگائی فورم کام کرسکتا ہے تو سارک فورم کی اہمیت سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ پاکستان , بھارت, افغانستان بھی ایک مستحکم سیاست کی طرف بڑھ سکیں۔

خورشید محمود قصوری نے مسئلہ کشمیر پر بھی توجہ دلائی اور ان کے بقول اس کشمیر کی صورتحال کافی خراب ہے اور بھارت کی جانب سے وہاں ہونے والی مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے مسئلہ حل نہیں بلکہ بگڑ رہا ہے ۔اس مسئلہ نے بھارت کا مقدمہ صرف جنوبی ایشیا ہی میں نہیں بلکہ عالمی دنیا میں بھی خراب کیا ہے ۔کشمیر کے مسئلہ کا حل ایسا سامنے آنا چاہیے جس میں کشمیری عوام کو برتری حاصل ہو اور وہ عمل پاکستان اور بھارت کو بھی قبول ہو۔خورشید قصوری نے خبردار کیا کہ کشمیر کے تناظر میں بھارت کو اس وقت سے ڈرنا چاہیے جہاں داعش جیسی تنظیمیں اپنی طاقت پیدا کریں ۔خود یشونت سہنا نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بھارت کے لیے ایک بڑا سنگین چیلنج بن گیا ہے او راس سے نمٹنا ہوگا۔

سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کے بقول جنوبی ایشیا میں جمہوریت او رطرز حکمرانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ان سب ممالک میں قیادت کا فقدان ہے ۔کیونکہ جب تک سیاسی قیادتیں اپنے ذاتی مفاد سے باہر نکل اپنے ملک اور علاقہ کی ترقی کو بنیاد نہیں بنائیں گی کو بھی حکمت کامیا ب نہیں ہوسکے گی۔ہمیں معاشی سیکورٹی کو تحفظ دینے کے لیے پہلے سیاسی سیکورٹی کو یقینی بنانا ہوگا۔جب کہ جوموجودہ جمہوری فکر ہے اس میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے کیونکہ ہم نے جمہوریت کے نام پر جو کچھ سجایا ہے وہ غیر جمہوری ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیے سب فریقین کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر اقبال چاولہ کے بقول اب وقت ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک جہاں اپنے سیاسی فورم کو مضبوط کریں وہیں ان میں باقاعدگی سے مکالمہ کے کلچر کو تقویت دیں ۔ ہمیں سیکورٹی کے بڑے مفہوم کو بھی سمجھنا چاہیے اور اس میں انسانی ترقی کو شامل کرنا ہوگا کیونکہ جب تک اس خطہ میں انسانوں پر سرمایہ کاری نہیں ہوگی , مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اصل مسئلہ جنوبی ایشیاکی سیاست او رجمہوریت کے تناظرمیں ایک باہمی اتفاق سے ایک ایسا سیاسی ,سماجی او رمعاشی چارٹر کا ہے جس کو بنیاد بنا کر سب ہی ملک جہا ں اپنے لیے ترقی کے مواقع پید ا کریں وہیں وہ دوسرے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات پیدا کرکے امن اور ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں۔یقینی طور پر جنوبی ایشیا میں بھارت کا کلیدی کردار ہے او رہمیں امید کرنی چاہیے کہ بھارت میں نئے انتخابات کے بعد جو بھی حکومت بنتی ہے وہ پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ علاقائی امن میں بھی اپنا کردار ادا کرے گی ۔ salmanabidpk@gmail.com بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.