حاملہ گائےاورانسانی ضمیر کی یورپ سے ٹکر

pregnant cow

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) یورپی قانون کہتا ہے کہ ایک صحت مند لیکن حاملہ گائے کو ہلاک کر دیا جائے مگر انسانی ضمیر اور ہمدردی اس ’تلفی‘ کے آڑے آ گئے ہیں۔ یورپی یونین کو اب ایک ایسا عجیب مسئلہ درپیش ہے، جس میں قانونی تقاضے ضمیر سے ٹکرا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب بلغاریہ کی سربیا کے ساتھ قومی سرحد کے قریب ایک گاؤں میں کئی مویشی گھاس چر رہے تھے اور ان میں سے ایک گائے باقی ماندہ ریوڑ سے بچھڑ کر سرحد پار کر کے سربیا میں داخل ہو گئی۔

معاملہ صرف بلغاریہ اور سربیا کے درمیان ہوتا تو شاید کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ لیکن بلغاریہ کی سربیا کے ساتھ قومی سرحد بلقان کے علاقے میں یورپی یونین کی بیرونی سرحد بھی ہے اور یونین کے قوانین کے مطابق کسی جانور کو اس بلاک سے رخصتی کے بعد واپس نہیں لایا جا سکتا۔

اب اس گائے کو، جو بلغاریہ یعنی یونین کے علاقے سے سربیا میں داخل ہوئی تھی۔ سربیا کے ایک کسان کی طرف سے، جسے وہ ملی تھی، واپس اس کے مالک کسان کو لوٹایا جا چکا ہے۔ بات ایک سرحدی گاؤں میں تھوڑے سے فاصلے کی تھی۔ یہ گائے گزشتہ قریب چھ ماہ سے حاملہ ہے اور جلد ہی اپنے بچے کو جنم دینے والی ہے۔

بلغاریہ واپس پہنچنے پر مقامی حکام نے شروع میں اس گائے کو اپنے قبضے میں لے لیا اور کہا کہ یورپی یونین کے سرحدی قوانین کے مطابق اسے ہلاک کر دیا جانا چاہیے تاکہ اس کے ساتھ آنے والی ممکنہ بیماریوں سے یورپی یونین کے جانوروں اور مویشیوں کو بچایا جا سکے۔

اس گائے کے مالک بلغارین کسان ایوان خارالامپاییف کا کہنا ہے کہ اب اس گائے کو، جس کا میں نے نام پَینکا رکھا ہوا ہے، اس وجہ سے تلف کر دیا جائے گا کہ یورپی یونین کے ضابطے اس بلاک میں جانوروں کی واپسی کی اجازت نہیں دیتے۔

بلغاریہ کے سرحدی گاؤں کوپیلووتسی میں اس گائے کے سربیا کی قومی حدود میں داخل ہو جانے کا واقعہ مئی کے وسط میں یعنی قریب دو ہفتے قبل پیش آیا تھا۔ سربیا کے جس کسان کو یہ گائے ملی تھی، اس نے اسے اس کے اس شناختی ٹیگ کی وجہ سے پہچان لیا تھا، جو بلغاریہ کے حکام نے اس جانور کے لیے جاری کیا تھا اور اس گائے کے ایک کان پر لگا ہوا تھا۔

اب پَینکا کو عبوری طور پر واپس اس کے اصلی مالک کے حوالے تو کیا جا چکا ہے لیکن ملکی حکام اس بات پر مصر ہیں کہ اس جانور کو انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ’تلف‘ کرنا پڑے گا کیونکہ ’یورپی سرحدی قوانین اور جانوروں کی درآمد یا واپسی کے ضوابط کا تقاضا یہی ہے‘۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.