حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ۔۔ پیرمختار احمد تونسوی

شیخ عبدالقادر گیلانی

پیرانِ پیرحضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ المعروف سیدنا غوثِ اعظمؒ وہ عظیم ہستی اور بزرگ ہیں کہ جو کسی تعارف کی محتاج نہیں، آپؒ کی ولادت باسعادت یکم رمضان المبارک 470ھ کو قصبہ جیلان میں ہوئی۔ آپؒ ابھی چھبیس برس ہی کے تھے کہ آپؒ نے علمِ قرات، علمِ تفسیر، علمِ فقہ، علمِ حدیث، علمِ ادب، علمِ کلام، علمِ لغت، علمِ نحو، علمِ عروض، علمِ مناظرہ اور دیگر علوم پر عبور حاصل کرلیا تھا۔ آپؒ نے حصولِ علم کے سلسلہ میں بہت زیادہ اساتذہ کرام اور علماء وفضلاء سے استفادہ کیا۔
آپؒ نے جس کسی کے ساتھ بھی علمی تشنگی بجھانے کیلئے چند لمحے گزارے اور کوئی بات سیکھی تو آپؒ اسے اپنے اساتذہ میں شمار کرتے اور ان کا ادب و احترام بجا لاتے تھے۔جب آپؒ نے اتنی چھوٹی سی عمر میں فتویٰ دینا شروع کیا تو علمائے ظاہر جنہیں اپنی تعلیم وعمل پر بڑا ناز تھا ،حسد کی آگ میںجلنے لگے۔ اور ان کی صفوں میں ہلچل مچ گئی اور بالآخر علماء نے فتویٰ جاری کردیا کہ چھبیس سالہ نوجوان علمِ شریعت کی گہرائیوں کو نہیں سمجھ سکتا اور یہ اعتراض کیا کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے فتویٰ جاری کرنے کی سند کہاں سے حاصل کی،جبکہ آپؒ کے اساتذہ زیادہ تر تو گوشہ نشین اور درویش تھے جنہیں شاہی دربار میں کوئی خاص تقرب نہیں تھا، اور یہ کہ شرعی مسائل کا حل پیش کرنا کوئی کارِ طفلاں نہیں ہے۔ علمائے ظاہر کا یہی طرزِ عمل تھا کہ جس کی وجہ سے آپؒ دل گرفتہ ہو کر دشت نوردی اختیار کرتے۔ لیکن جب آپؒ کے عقیدت مندوں نے آپؒ کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ حضوریہ لوگ اسی بات کو بہانہ بنالیں گے کہ یہ حقائق سے ناآشنا ہے اس لیے روپوشی اختیار کرتا ہے، آپؒ نے فرمایاکہ میں اللہ وحدہ لاشریک کے علاوہ کبھی کسی سے نہیں ڈرتا۔ پھر آپؒ علماء کے اس اجتماع میں تشریف لے گئے جہاں انہوں نے آپؒ کو دعوت دی، ان کا مقصد تھا کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا امتحان لیا جائے، آپؒ سے پہلے وہ تمام علماء جو آپؒ سے خائف اور حسد کرتے تھے،انتہائی خوب صورت اور مہنگی ترین عبائیں زیبِ تن کیے آنکھوں میں علم وآگہی کا خمار لیے آپؒ کے لیے سراپاء انتظار تھے۔ جبکہ آپؒ ایک معمولی سا لباس اپنے بدنِ اطہر پہ سجائے، جھکی نظروں میں وہاں پہنچے اور قدرے خاموشی کے بعد آپؒ نے فرمایا کہ میں اس قابل تو نہیں کہ کسی امتحان سے گزر سکوں، اگر رسمِ دنیا یہی ٹھہری تو بسم اللہ !کہہ کر آپؒ نے ان امتحان لینے والے علماء کو غور سے دیکھا، بس یہی ایک نظرباکمال تھی کہ جو سب کا کام تمام کر گئی،دنیائے قلب بدل گئی ،ایک ہی نظر میں سب کی کایا پلٹ گئی تھی اور سب کے سب علماء سربہ گریبان ہو کر رہ گئے تھے وہ اس صورت میں بھلاآپؒ کا کیا امتحان لیتے؟ ان کے اپنے پاس کچھ نہ بچا تھا۔ کافی دیر خاموش بیٹھے رہنے کے بعد علماء کہنے لگے کہ سوال کیا کریں یوں لگتا کہ ہمارے ذہنوں سے سب کچھ رخصت ہوگیا ہے۔ آپؒ نے فرمایا کہ پھر مجھے اجازت دیجئے۔

وہ سبھی بولنے لگے کہ حضور ! خدارا ہم پر مہربانی اور شفقت فرمایئے ہم تو خالی مشکیزہ کی طرح ہو کر رہ گئے ہیں۔اس وقت چشمِ فلک وچشمِ عالم نے ایک عجیب منظر دیکھا کہ امتحان لینے والے خود امتحان سے دوچار ہوگئے اور اساتذہ خود ایک شاگرد سے بخشش و عطا کا سوال کرنے لگے شیخ جمال العارفین ابو الوفاء فرماتے ہیں کہ ’’میں نے غوث الثقلینؒ کے بارے میں حضرت خضر علیہ السلام سے پوچھا تو آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے غوث الثقلینؒ کو تمام سلاسل سے اعلیٰ مرتبہ دیا ہے۔ اور سب سے اعلیٰ اور عمدہ شربت اپنی محبت کا چکھایا ہے۔ آپؒ کے وعظ وارشادات سننے کیلئے لوگ ہزاروں کی تعداد میںمجلس میں ہوا کرتے تھے۔اور آپؒ کے ارشادات کو قلمبند کرنے کیلئے چار چار سو دوات بھی شمار کی گئی ہیں۔ اور آپؒ کی مجالس میں ستر ہزار تک لوگ شمار کیے گئے ہیں۔ اور آپؒ کے معتقدین ومریدین ایسے مواقع پر سوچا کرتے تھے کہ متلاشیانِ حق سرکار غوث اعظمؒ کے وعظ وارشادات سے کس طرح مستفیض ہونگے۔ مگر آپؒ کا کمال تصرف اور کرامت تھی کہ مجلس میں شامل ہر بندہ کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ غوثِ اعظمؒ کے فرامینِ مقدس کو قریب سے سماعت کر رہا ہے اور شیخ عبدالقادرؒ قریب ہی جلوہ فرما ہیں۔آپؒ ہمیشہ وجد وجذب اور استغراق والہام کے عالم میں وعظ فرماتے اور مجلس میں موجود تمام افراد اس طرح ہمہ تن گوش ہوتے کہ جیسے مر چکے ہوں اور بعض اوقات صرف سانسوں کی آواز سنی جاتی تھی۔ آپؒ کے وعظ و تقاریرسے کئی کتابیں بھی لکھی گئیں ،جن میں یہ کتابیں زیادہ مشہور ہیں (۱)فتوح الغیب (۲)فتح الربانی (۳) رسالہ الغوثیہ۔ آپؒ کی خدمت اقدس میں طویل عرصہ رہنے والے حضرت شیخ ابوالمظفرآپؒ کے اخلاقِ کریمانہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’آپؒ سے زیادہ بلند اخلاق، فراخ حوصلہ،کریم النفس۔ نرم دل،عہد و دوستی کو نبھانے والا اور مہربان شخص میری نظر سے نہیں گزرا، آپؒ اپنی جلالت شان،بلند مرتبہ اور وسعت علم کے باوجود بچوں کے ساتھ ٹھہر جاتے، بڑوں کی عزت کرتے، سلام میں پہل فرماتے،کمزوروں کے پاس اٹھتے بیٹھتے اور غریبوں کے ساتھ عاجزی وانکساری سے پیش آتے حالانکہ آپؒکسی سربرآوردہ شخصیت یا رئیس کیلئے تعظیماً کھڑے نہیں ہوئے اور نہ کبھی کسی وزیر یا بادشاہ کے دروازے پر گئے۔‘‘

گیارہویں کے حوالہ سے حضرت شاہ عبدالعزیزؒ (ملفوظات عزیزی) میں فرماتے ہیں کہ ’’حضرت غوثِ اعظمؒ کے روضہ مبارک پر گیارہویں تاریخ کو بادشاہ وغیرہ شہر کے اکابر جمع ہوتے، نمازِ کے بعد مغرب تک کلام اللہ کی تلاوت کرتے اور حضرت غوثِ اعظمؒ کی مدح اور تعریف میں منقبت پڑھتے، مغرب کے بعد سجادہ نشین درمیان میں تشریف فرما ہوتے اور ان کے گرد مریدین اور حلقہ بگوش بیٹھ کر ذکرِ جہر کرتے اسی حالت میں بعض پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی۔

اس کے بعد طعام شیرینی جو نیاز تیار کی ہوتی،تقسیم کی جاتی اور نمازِ عشاء پڑھ کر لوگ رخصت ہوجاتے۔‘‘ آپؒ کے فیض کا یہ روحانی چشمہ قیامت تک جاری رہے گا جس سے متلاشیانِ حق اپنی پیاس بجھاتے رہیں گے۔اور فیض پاتے رہیں گے۔ آپؒ نے اس دنیائے فانی سے 91برس کی عمر میں 11ربیع الثانی 561ھ کوکو چ فرمایا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خرافات سے بچتے ہوئے آپؒ کی تعلیمات اور فرمودات کی روشنی میں زندگی کے شب وروز گزارنے کی توفیق وہمت عطا فرمائے۔تاکہ ہم اپنی زندگی کے اصل مقصد کو پاسکیں۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.