حقیقت سے زیادہ سٹنٹ۔ کالم عارف نظامی

arif nizami

ابھی تک جنو بی پنجاب مجوزہ صوبہ حقیقت سے زیادہ سٹنٹ لگتا ہے جس کا نعرہ لگا کرمرغ بادآموز سیاستدان عموماً عام انتخابات سے عین قبل اپنے مخصوص مفادات کی آبیاری کی خاطر سیاسی وفا داریاں بدلنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انتظامی بنیادوں پر جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ جائز نہیں ہے لیکن یہ نعرہ لگا نے والوں میں سے شاید ہی کوئی سیاستدان مخلص ہو، ستم ظریفی یہ ہے کچھ شخصیات کو چھو ڑ کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے اکثر جاگیرداروں اور خانوادوں کو عمومی طور پر موقع پرست سمجھا جاتا ہے اور انھیں اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے کے عوام کے ووٹ تو چاہیے ہوتے ہیں لیکن ان کی فلاح وبہبود سے زیادہ سروکار نہیں ہوتا۔

جنوبی صوبہ محاذ جو محض ایک ماہ کی مختصر مدت کے لیے قائم رہا اس کے مدارالمہام مخدوم خسرو بختیا ر تھے۔ نوجوان خسرو بختیارنے پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ (ق) میں شامل ہو کر بطور وزیر مملکت برائے خا رجہ امور اقتدار کے خوب بُلے لوٹے بعدازاں وہ بطور آزاد امید وار الیکشن جیت کر 2013ء میں برسراقتدار آنے والی جما عت مسلم لیگ(ن) میں شامل ہو گئے اور پھر قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ بن گئے۔ مقامی طور پر کبھی یہ صادق آباد کے فعال سیاستدان مخدوم احمد محمود کی زلف کے اسیر تھے ۔بعدازاں جب جہانگیر ترین اور ان کے برادر نسبتی احمد محمو د کے درمیان اختلاف ہوئے تو وہ علاقے کے ایک اور پا ور برو کر چوہدری منیر کی گود میں جا بیٹھے اب ماشاء اللہ وہ چو ہدری منیر کے بزنس پارٹنر بھی ہیں اور کئی شوگر ملز کے مالک بھی۔ مجھے یہ حیرانگی ہوئی کہ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے بزرگ سیاستدان بلخ شیر مزاری کو اس طول العمری میں جنوبی صوبہ محاذ والوں نے کیسے گھیر لیا اور اپنا رہبر بنا لیا ۔ بلخ شیرمزاری ایک انتہائی صاف ستھرے اور وضع دار شخص ہیں۔غالباً ان کے سوا کوئی اور کا لعدم محاذ میں شامل جنوبی صوبے کے کاز سے مخلص نہیں۔جنوبی پنجاب صوبہ بنانے میں کوئی سنجیدگی ہوتی تومحاذ بنا نے والے اسے قائم رکھتے۔

اب بقول خسرو بختیار محاذ تو پاکستان تحریک انصاف میں عملی طور پر ضم ہو گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی کے رکن طاہر بشیر چیمہ کا کہنا ہے کہ محاذ اب بھی قائم ہے۔ وہ تحریک انصاف میں ضم نہیں ہوئے بلکہ الحاق کیا گیاہے۔ عملی طورپر بھی صورتحال یہ ہے کہ اس دلآویز وعدے کے ساتھ کہ عمران خان اقتدار میں آ کر سو دنوں میں جنوبی صوبہ بنا دیں گے ،یہ نام نہاد محاذ اپنی طبعی عمر پوری ہونے سے پہلے ہی دم توڑ چکاہے اور اس کا اب کوئی وجود نہیں ہے۔ اگرچہ جنوبی پنجاب صوبہ کوانتخابی مہم میں نعرے کے طور پر استعمال کیا جا ئے گا لیکن اس کے حامی خود بھی واضح نہیں کر پائے کہ یہ انتظامی طور پر صوبہ ہو گایا لسانی بنیادوںپر ۔ مخدوم جاویدہاشمی جواب برملا طور پر پھرمیاں نواز شریف کے حامی بن چکے ہیں تحریک انصا ف کی سیا حت بھی کر چکے ہیں، وہ لسانی بنیادپر صوبے کے حق میں ہیں۔ ویسے جنوبی صوبے کے عوام غریب اور پسماندہ ہیں لیکن لیڈروں کے لحاظ سے یہ خطہ بڑا زرخیزہے۔قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے اس پسماندہ خطے کے لیڈر پاکستان کی سیاست پر غالب رہے ہیں۔صوبہ پنجاب کے دوسرے وزیر اعلیٰ وہاڑی سے تعلق رکھنے والے ممتاز دولتانہ تھے۔ 1954ء سے 1957ء تک پنجاب کے گو رنر مشتا ق احمد گورمانی جن کا تعلق مظفر گڑھ سے تھا، مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو یکجا کر کے ون یونٹ کی تجویز کے خالق جانے جاتے ہیں۔ گورمانی صاحب پاکستان کے وزیر داخلہ بھی رہے۔انہوں نے وزیر بے محکمہ ’کراچی معاہدہ‘ پر دستخط کئے تھے جس کے تحت کشمیر میں لائن آف کنٹرول معرض وجود میں آئی۔ یقینا ممتاز دولتانہ اور مشاق گورمانی جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے انتہائی فعال اور معتبر سیاستدان تھے لیکن گورمانی صاحب نے صوبہ بنانے کے بجائے پورے مغر بی پاکستان کو ہی ایک صوبہ بنا دیا تھااور دولتانہ نے بھی اس معاملے میں قطعاً دلچسپی نہ لی ۔ داستان یہاں ختم نہیں ہوتی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما ملک غلام مصطفی کھر پنجاب کے دو بار گورنر اور ایک باروزیراعلیٰ بنے۔ان کا شمار اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے با اعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ لیکن انھوں نے بھی یہ نعرہ لگانے سے گریز کیا ۔

1973ء سے 75 تک ملتان سے تعلق رکھنے والے صادق حسین قریشی گورنر رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں صادق قریشی کے کزن مخدوم سجاد حسین قریشی پنجاب کے گورنر رہے۔انہوں نے بھی سرائیکی صوبے کی کبھی حمایت نہیں کی تھی۔ ان کے صاحبزادے شاہ محمود قریشی پنجاب میں نواز شریف کی کابینہ میں شامل تھے۔ بعدازاں وہ پیپلزپارٹی میں بھی رہے اور وزیر خارجہ بنے ۔2002ء کی اسمبلی میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے انھیں پیپلز پارٹی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پرنامزدکیا لیکن انھوں نے جنوبی صو بے کے لیے کوئی موثر آواز نہیں اٹھائی۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ محاذوالوں کے ساتھ مل کر جنوبی صوبے کے لیے کیا کرتے ہیں؟۔ علاوہ ازیں ذوالفقار کھوسہ،لطیف کھوسہ،مخدوم احمد محمودجن کا تعلق اسی علاقے سے ہے گورنر پنجاب رہے ،موجودہ گورنر ملک رفیق رجوانہ کا تعلق بھی ملتان سے ہے ۔دوسری طرف اسی خطے سے عبدالحمید دستی،صادق حسین قریشی اور دوست محمد کھوسہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے ،سابق صدر مملکت فاروق لغاری بھی یہیں کے سپوت تھے۔سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن کو ’’انجوائے‘‘ کرنے والے اور محاذوں اورگٹھ جوڑ کی سیاست کے ماہر نوابزادہ نصراللہ خان پاکستانی سیاست میں نصف صدی سے بھی زائد عرصے تک فعال رہے لیکن وہ ہمیشہ قومی سیاست کرتے رہے۔حال ہی میں 2013ء تک جنو بی پنجاب کے ایک اور سیاستدان یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیر اعظم کبھی اس نعرے کو تقویت نہیں دی۔

یہاں یہ سوال پید اہوتا ہے کہ اتنی قد آور شخصیات جو اعلیٰ عہدوں پر فائز رہیں انہوں نے آ خر کیوں جنوبی پنجاب کے عوام کے بظاہر اس جا ئز مطالبے کو آگے نہیں بڑھایا۔ جہاں تک مخدوم خسرو بختیار کا تعلق ہے وہ تواس معاملے میں طفل مکتب لگتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروںکے تجزیوں کی روشنی میں لگتا ہے کہ شاید پورے جنوبی پنجاب کے عوامی نمائندوںنے مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ اگر ساہیوال کو جنوبی پنجاب میں شامل نہ کیا جائے تو ارکان اسمبلی کی42نشستیں بنتی ہیں اور اگر شامل کر لیا جائے تو 46نشستیں بنتی ہیں۔ یعنی 5ارکان قومی اسمبلی کے ٹوٹنے سے کوئی قیامت نہیں آ جائے گی اور نہ ہی حکمران جماعت کا جنوبی پنجاب میں ڈبہ مکمل گول ہو سکے گا۔ یقینا مجوزہ صوبہ بنانے کے لیے خاصی عرق ریزی اورمحنت کی ضرورت ہو گی لیکن محض چندارکان قومی اسمبلی کے دباؤ پر پنجاب میں الگ صوبہ نہیں بن سکے گا۔ بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.