حکایت رومی :موت سے ملاقات

مولانا رومی

ایک بوڑھے شخص کا دنیا میں کوئی سہارا نہ تھا۔ بڑھاپے میں وہ اس طرح گزارا کرتا کہ جنگل میں لکڑیاں کاٹنے چلا جاتا سارا دن لکڑیاں کاٹنے اور چننے میں گزر جاتا۔ شام ہونے سے پہلے لکڑیاں بیچنے کا چارا کرتا اور انہیں بیچ کر روٹی کھاتا۔ایک دن اس کی طبیعت ٹھیک نہ تھی ۔اتنی کمزوری محسوس کر رہا تھا کہ اس سے چلانہ جاتا تھا۔لیکن مرتا کیا نہ کرتا ۔

لکڑیاں جنگل سے نہ لاتا تو روٹی کہاں سے کھاتا۔ لکڑ ہارا گرتا پڑتا جنگل میں پہنچا۔ بڑی مشکل سے لکڑیاں کاٹیں ۔ اس کے بعد سانس لیا ۔پھر گٹھا جو اٹھایا تو سرسے پاؤں تک کانپنے لگا ۔ بڑی مشکل سے گٹھا اٹھایا ۔ کمزوری تو پہلے ہی سے تھی۔ گٹھا اٹھا کر ابھی سینے تک لایا تھا کہ بازو جواب دے گئے ۔

گٹھا زمین پر آرہا۔ تھوڑی دیر پھر سانس لیا۔ گٹھا اٹھایا جو پھر گر کر زمین پر آرہا۔ لکڑہارا سر پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا اور درد کی شدت سے ہانپتے ہوئے آسمان کی طرف نظریں اٹھا کر کہنے لگا۔ ’’ خدا یا ! بڑھاپے میں کس طرح میں یہ مشقت کروں ۔مجھ سے تو اپنا آپ نہیں اٹھایا جاتا، بھاری گٹھا کیسے اٹھاؤں؟ میری قسمت کا ستارہ کب تک گردش میں رہے گا۔ اس جینے سے تو موت بہتر ہے۔ اے موت !مجھے اس دنیا سے اٹھالے۔‘‘ یہ سنتے ہی اچانک موت ایک طرف سے نمودار ہوئی۔ بولی مجھے کس واسطے جنگل میں پکارا ہے؟‘‘ موت کو دیکھ کر بوڑھے پر دہشت طاری ہو گئی ۔تھرتھر کانپنے لگا اور رک رک کر کہا ’’ میں نے تمہیں اس واسطے جنگل میں پکارا ہے کہ اس جنگل میں دور اور نزدیک کوئی نظر نہیں آرہا۔ یہ گٹھا اٹھا کر میرے سر پر ٹکا دو‘‘۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.