حکایت سعدی۔۔ بزرگ کی نصیحت

شیخ سعدی

حاکمِ شیراز تکلہ بن زنگی نے ایک دن ندیموں کی مجلس میں یہ اعلان کیا کہ میں تختِ حکومت چھوڑ کر باقی عمر یادِ خدا میں بسر کروں گا۔ بادشاہ کی یہ بات سنی تو ایک روشن ضمیر بزرگ نے ناراض ہو کر کہا کہ اے بادشاہ! اس خیال کو ذہن سے نکال دے۔ دنیا ترک کر دینے کے مقابلے میں تیرے لیے یہ بات کہیں افضل ہے کہ تو عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرے اور اپنے اچھے کاموں سے خلقِ خدا کو فائدہ پہنچائے۔ یاد رکھ! عبادت خلقِ خدا کی خدمت کے سِوا کچھ نہیں۔ تسبیح و سجادہ تو یہ مقصد حاصل کرنے کے ذریعے ہیں۔ صاحبِ دل بزرگوں کا یہ دستور رہا ہے کہ گو ان کے جسم پر بہترین قبا ہوتی تھی لیکن وہ قبا کے نیچے پرانا کُرتا پہنتے تھے۔ تُو بھی یہی طریق اختیار کر۔ صدق و صفا کو اپنا اور شیخی اور ظاہر داری سے بچ۔ عبارت ہے دیں خدمتِ خلق سے نہ تسبیح و سجادہ و دلق سے خوشی سے تو کر زیبِ سر اپنا تاج مگر حُسنِ اخلاق کو دے رواج بزرگانِ دین کا یہی ہے طریق قبا جسم پر، دل میں گدڑی رفیق اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے دنیا اور اہل دنیا کے تعلق کے بارے میں صحیح اسلامی تصور پیش کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان دنیا سے کنارہ کش نہ ہو۔

ترک دنیا کے بغیر بہت سے ایسے کام کیے جا سکتے ہیں جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ہوں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جاسکتی ہے۔ دراصل اسلام میں حقوق العباد پر بہت زور دیا گیا ہے۔ انہیں پورا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں موجود افراد کا خیال رکھیں اور انہیں کسی قسم کی گزند نہ پہنچائیں۔اگر انسان کے پاس اختیار ہے تو اسے اللہ کی مخلوق کے فائدے کے لیے استعمال میں لانا چاہیے اور اس اختیار کو یہ سوچ کر ترک نہیں کرنا چاہیے کہ کسی بوجھ یا گناہ کا باعث بنے گا۔ اگر اللہ پاک توفیق بخشے تو تاجِ شاہی سر پر رکھنا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اپنے دل کو تقویٰ کے نور سے منور رکھنا ضروری ہے۔ نیز خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنایا جائے۔ رہبانیت اور اللہ پاک کی نعمتوں کو اپنے اوپر حرام کر لینا درست طریقہ نہیں۔ اس سے گریز کی جو نصیحت مذکورہ بزرگ نے کی وہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.