خلائی مخلوق کے اثرات۔ کالم طیبہ ضیا چیمہ

tayybia

امریکہ کی ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سوویت یونین کے آخری صدر گورباچوف نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اڑن طشتریاں کوئی خیالی چیز نہیں ہیں بلکہ یہ خلائی مخلوق درحقیقت اپنا وجود رکھتی ہیں اور ہمیں ان کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے‘لیکن کسی نے سنجیدگی سے نہ سوچا البتہ تھرڈ ورلڈ کے ایک ملک کے سابق حکمران نے خلائی مخلوق کی کھوج لگا لی ہے۔ خلائی مخلوق کے قصے کہانیاں تو ہم سب نے بہت پڑھ سن رکھی ہیں اور فکشن فلمیں بھی دیکھی ہیں ، مگر سوال یہ ہے کہ خلائی مخلوق کوئی خیالی چیز ہے یااپنا کوئی وجود رکھتی ہے؟پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ خلائی مخلوق حقیقت میں موجود ہے اور اس کا کنٹرول سسٹم امریکہ کے پاس موجود ہے۔سابق وزیر اعظم کا دعویٰ ہے کہ ان کی سیاست کی بنیاد بھی اسی خلائی مخلوق نے رکھی تھی۔اس خلائی مخلوق کی مہربانیوں سے1981ءمیں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے۔ خلائی مخلوق کی حمایت سے وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، اور خلائی مخلوق کے زیر شفقت دو مرتبہ وزیر اعظم بنے۔ ملک بدر کر دئیے گئے تھے لیکن خلائی مخلوق کی مدد سے ملک واپسی ممکن ہو سکی اور تیسری مرتبہ بھی وزارت عظمیٰ ملنے میں خلائی مخلوق نے بھر پور تعاون کیا۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصہ سے خلائی مخلوق سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ جبکہ مغرب میں ایک سائنس دان کا کہناہے کہ گذشتہ دوسال سے وہ ایک خلائی مخلوق سے رابطے میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ عرصے پہلے خلائی مخلوق سے رابطہ میں ہیں اور ان کے ماہرین اس اجنبی زبان اور علامتوں کو سمجھنے اور پڑھنے کی کوشش کررہے ہیں۔سائنسدان کہتے ہیں کہ خلائی مخلوق ہمارے آس پاس ہے اور ہر وقت ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ان کا خیال ہے کہ خلائی مخلوق ہمارے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتی بلکہ وہ ہماری مدد کرنا چاہتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا علم محدود ہے اور ہم ان کی زبان سمجھ نہیں پارہے۔عشروں کی ریاضت اور خلاء میں کیے جانے والے تجربات کے بعد کسی خلائی مخلوق کا کھوج نہ ملنے کے باوجود فلکیات کے ماہرین کی ایک بڑی تعداد کو یقین ہے کہ خلائی مخلوق اپنا وجود رکھتی ہے مگر ہمارا علم اور ہماری موجودہ صلاحیتیں ان کا پتا چلانے اور ان سے تعلق قائم کرنے سے قاصر ہیں۔ناسا کے ایک سائنس دان کا کہناہے کہ خلائی مخلوق کے حوالے سے ہم عموماً اسے اپنے پیمانے میں جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ کسی اور شکل کی ہو اور اس کا جسمانی نظام کسی اور طرح کام کرتا ہو۔ناسا ہی کے ایک اور سائنس دان کا خیال ہے کہ ہمارے نظام شمسی سے باہر زیادہ تر سیاروں کی مخلوق اپنے سیارے کے تمام وسائل استعمال کرچکی ہے اور وہ اب اپنے سیارے جیسی کسی زمین کی تلاش میں ہیں جسے اپنی کالونی بنا سکیں۔ناسا کے ایک خلاباز ایڈگر مچل نے جو 1971ءکے چاند پر جانے والے اپالو14 کے مشن میں شامل تھے، 2009 ءکی سالانہ کانفرنس میں کہاتھاکہ خلائی مخلوق کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں مگر امریکی حکومت انہیں چھپا رہی ہے۔زیادہ امکان یہی ہے کہ جب کبھی بھی انسانوں اور خلائی مخلوق کے درمیان تعلق قائم ہوا تو دونوں فریق خیرسگالی کے جذبات اور تعاون کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔امریکہ کی جدید سائنسی تحقیق بھی خلائی مخلوق کی کھوج لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکی جبکہ تیسری دنیا کے ایک ترقی پذیر ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے سیاستدان کے خلائی مخلوق سے روابط انکشاف سے کم نہیں لیکن خلائی مخلوق نے جس روز سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے، موصوف نے اپنی نا اہلی سے ملک کے تمام مسائل اور ناکامیوں کا ذمہ دار خلائی مخلوق کو ٹھہرا دیا ہے۔ موصوف نے اب خلائی مخلوق سے انتقام لینے کا عزم کر لیا ہے۔ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.