خود اعتمادی بڑھانے کے رہنما اصول ۔۔۔۔ نارمن ویسنٹ

self confidence

دور حاضرمیں ہو کوئی پر اعتماد دکھائی دینا چاہتا ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ اس کیلئے قارئین کو چند رہنما اصول بتاتے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر اپنی اس خوبی میں مزید نکھار پیدا کیا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اپنی صلاحیتوں پر بھرو سہ رکھیے۔ جب تک آپ میں یہ خوبی پیدا نہیں ہو گی، آپ کامیاب اور خوش و خرم نہیں ہو سکتے۔ ایک معقول خود اعتمادی ہی کامیابی کی طرف بڑھنے کی پہلی سیڑھی ہے۔ احساس کمتری اور شش و پنج کا شکار دماغ مستقبل کی کیا منصوبہ بندی کر سکتا ہے؟ لیکن خود اعتماد شخص اپنی صلاحیتوں سے مکمل آگاہ ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ کامیابی کیسے ملے گی۔ اس کی دماغی صلاحیت اور اندازِ فکر کی بلندی اسے سیدھا راستہ دکھا تی ہے۔ یہ ایک چونکا دینے والی حقیقت ہے کہ کئی باصلاحیت افراد کو خوف زدہ کر کے نکما اور قابل رحم بنا دیا گیا ہے اور اس طرح ان کو احساس کمتری کے آزار میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ مگر آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا حل درست علاج میں مضمر ہے۔ آپ اپنی ذہنی فکر و تردد کو بہتری کی جانب گامزن کر سکتے ہیں، اور اس یقین کے ساتھ کہ آپ ایسا کر کے رہیں گے۔ احساس کمتری کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں، اور ان میں سے چند ایک کی بنیاد بچپن ہی میں پڑ جاتی ہے۔

ایک اعلیٰ عہدے دار نے مجھ سے رابطہ قائم کیا کہ وہ ایک نوجوان کو اپنی کمپنی میں ایک خاص ذمہ داری سونپنا چاہتا ہے۔ اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’انتہائی اہمیت کے کام اور بات کو خفیہ رکھنے کی مناسبت سے اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا جس عہدے پر میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں، وہ فی الحال مشکل نظر آ رہا ہے۔ اس میں تمام اہلیت اور قابلیت موجود ہے، مگر وہ بولتا بہت زیادہ ہے اور اس کے اندر احساس ذمہ داری بالکل نہیں ہے کہ کون سی بات کس کے سامنے کہنی چاہیے اور کس کے سامنے نہیں۔‘‘ تجزیہ کرتے ہوئے میں نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ’’وہ بولتا بہت ہے۔‘‘ احساس کمتری کی یہ بھی ایک قسم ہے۔ اس طرح وہ دوسروں پر اپنی قابلیت کا رعب جمانا چاہتا ہے۔اس کا اٹھنا بیٹھنا ان لوگوں میں تھا جو اچھی مالی حیثیت کے افراد تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور خاندانی پس منظر بھی شاندار تھا۔ مگر یہ نوجوان غربت میں پلا بڑھا اور کالج کے افراد سے بھی زیادہ ملنا جلنا نہ تھا۔ چنانچہ اسے اپنی اس کمزوری کا شدت سے احساس تھا کہ اس کی تعلیم میں بھی کچھ کمی رہ گئی ہے اور خاندانی پس منظر بھی زیادہ بہتر نہیں ہے۔

اپنی خودی کو بلند کرنے کا اس کو یہی نسخہ سمجھ میں آیا کہ خوب بڑھ چڑھ کر باتیں کی جائیں۔ جب آجر کو معلوم ہو گیا کہ اس شخصیت کی خصلت کیا ہے، تو مہربان اور شفیق دوست کی حیثیت سے اس نے نوجوان کو کاروبار میں وہ مواقع فراہم کیے جہاں اس کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آنے لگیں۔ اس نے بھی واضح کیا کہ اس کی ذہنی کم مائیگی اور احساسات نے اس کے اعتماد کو زک پہنچائی تھی۔ اس خود شناسی نے مل جل کر اس کو کمپنی کا ایک سرمایہ بنا دیا۔ اس کی اندرونی صلاحیتیں اور قوتیں ابھر کر سامنے آنے لگیں۔ بہت سے نوجوان اپنی ذاتی ہمت اور توجہ سے احساس کمتری پر قابو پا لیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.