دل و ذہنی سکون مگر کیسے؟

ذہنی تنائو

ذہنی سکون کیسے حاصل کیا جائے؟ یہ ہے وہ کروڑوں کا سوال جس کا جواب بہت آسان ہے لیکن ہم اس پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ذہنی مضبوطی اور اندرونی سکون کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ذہنی طور پر مضبوط افراد اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ زندگی کی اونچ نیچ سے نمٹ سکیں اور مشکلات میں سے اپنی راہ نکال سکیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں دکھ درد نہیں ہوتا یا وہ اداس نہیں ہوتے۔ وہ جذبات کا تجربہ زیادہ گہرا ئی سے کرتے ہیں۔ لیکن وہ سب اچھا ہونے کی توقع یا دوسروں کو بدلنے کی سعی لاحاصل نہیں کرتے۔

وہ اپنی سوچ، احساسات اور کردار پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اپنی ذات کو بہتر بنانا ان کی ترجیح ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بہتری کی گنجائش ہر وقت ہوتی ہے۔ وہ مندرجہ ذیل باتوں کو ترک کر دیتے ہیں جو ان کے اندرونی سکون یا داخلی آسودگی کو تباہ کر سکتی ہیں۔ ضرر رساں لوگوں سے تعلق: آپ کے ارد گرد لوگ آپ کی سوچ، احساسات اور کردار کو متاثر کرتے ہیں۔ جھوٹ بولنے والے، فضول گو، ستانے والے یا دھوکا دینے والے سے تعلق آپ کی آسودگی و فلاح کو متاثر کرتا ہے۔ ذہنی طور پر مضبوط افراد ایسے ضرر رساں افراد پر اپنی توانائیاں ضائع نہیں کرتے۔ خود کو ملامت کرنا: یہ سوچنا کہ ہر معاملے کے سو فیصد ذمہ دار آپ ہیں… چاہے یہ کسی رشتے کے متعلق ہو یا حادثے کے… اپنی ذات اور اردگرد کے بارے میں رائے کو متاثر کرتا ہے۔ آپ غلط چیزوں کو ہمہ وقت نہیں روک سکتے۔ ذہنی طور پر مضبوط افراد مناسب حد تک احتساب کرتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ جو فیصلے انہوں نے کیے ان کے ذمہ دار وہ خود ہیں، لیکن وہ ان عوامل کو بھی تسلیم کرتے ہیں جو ان کے بس سے باہر ہیں، جیسے معیشت کی صورت حال، موسم یا دوسرے افراد کے فیصلے۔ خوشی کا پیچھا: یہ سوچنا کہ آپ کو ہر لمحہ خوشی کی ضرورت ہے، الٹ پڑ سکتا ہے۔

ذہنی طور پر مضبوط افراد اطمینان اور آسودگی پانے کے لیے سخت محنت کو تیار ہوتے ہیں۔ وہ فوری یا عارضی اطمینان پر اکتفا نہیں کرتے اور اس کی خاطر ہار نہیں مان لیتے۔ وہ طویل المدت مقاصد طے کر کے مستقبل روشن کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ پُرآسائش ماحول: پُرآسائش ماحول میں رہنا اچھا لگتا ہے۔ لیکن بے آرام نہ ہونے کا بالآخر نقصان ہوتا ہے۔ ذہنی طور پر مضبوط افراد اپنے خوف پر قابو پاتے ہیں، کھوج میں رہتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو ہر ممکن حد تک آزماتے ہیں۔ مظلوم بننا: ایسی سوچ کا حامل فرد خیال کرتا ہے کہ یہ دنیا اسے آگے بڑھنے سے روکنے کے درپے ہے۔ اگر آپ اپنے تمام مسائل کا ذمہ دار بیرونی عوامل کو قرار دیں گے تو آپ زندگی میں خود کبھی ذمہ داری نہیں لیں گے۔ ذہنی طور پر مضبوط افراد اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، چاہے ان فیصلوں کے نتائج کتنے ہی برے نکلیں۔ وہ ان معاملوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں جنہیں وہ کنٹرول کر سکتے ہوں۔ متاثر کرنا: دوسروں کی نظر میں خود کو پسندیدہ فرد ثابت کرنے کی کوشش میں زندگی کا بہت سا وقت ضائع ہو سکتا ہے۔

دوسروں سے اچھے الفاظ سننے کی خواہش سے آپ گویا خود کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ذہنی طور پر مضبوط افراد اپنی صلاحیتوں سے مطمئن رہتے ہیں۔ وہ اس امر پر پریشان نہیں ہوتے کہ ان کے فیصلے کو دوسرے رد کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ اپنی طے کردہ اقدار کے مطابق زندگی بسر کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔ کمالیت کا حصول: شاندار کارکردگی کی کوشش کرنا صحت مندانہ رجحان ہے۔ لیکن کمالیت یا پرفیکشن کا حصول کٹھن ہوتا ہے۔ اگر آپ ناممکن کی حدود کو چھونے والے اہداف طے کریں گے تو کبھی اچھا محسوس نہیں کریں گے۔ ذہنی طور پر مضبوط افراد تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ناکام بھی ہو سکتے ہیں اور غلطیاں بھی کر سکتے ہیں۔ وہ اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ بغض: آپ سوچتے ہوں گے کہ بغض کسی دوسرے کے نقصان کا سبب بنتا ہو گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ غصے اور نفرت پر مبنی یہ جذبہ آپ کی اپنی زندگی کم کرتا ہے۔ ذہنی طور پر مضبوط افراد بغض اور کینہ رکھنے کے بجائے اپنی توانائیاں اچھے مقاصد پر صَرف کرتے ہیں۔ مادی اشیا کی لالچ: سرمایے کے انبار، بڑے سے بڑا گھر، اچھی سے اچھی کار یا مہنگا لباس ذہنی سکون کا باعث نہیں بن سکتے۔ ضروری نہیں ذہنی طور پر مضبوط افراد کم سے کم پر گزارہ کرنے والے ہوں، لیکن وہ مادی اشیا ہی کو خوشی اور اطمینان کا باعث نہیں سمجھتے۔ مکمل خود انحصاری: اپنے سارے کام خود کر کے ہم عظیم نہیں بن جاتے۔ وقتاً فوقتاً مدد طلب کرنا اہم ہوتا ہے۔ ذہنی طور پر مضبوط افراد مدد طلب کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ یہ پیشہ ورانہ مدد بھی ہو سکتی ہے اور ضرورت کے وقت دوست کی معاونت بھی۔ یہ مان لینے سے کہ ہر سوال کا جواب ہمارے پاس نہیں ہوتا، ہمیں اندرونی سکون میسر آتا ہے۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.