دنیا کی بلند ترین عمارت تائی پی 101۔۔۔عبدالوحید

tai pay 101

دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک کا اعزاز تائیوان کے دارالحکومت تائی پی میں واقع عمارت تائی پی 101 کو حاصل ہے۔ اسے 2004ء میں دنیا کی بلند ترین عمارت قرار دیا گیا اور 2010ء میں دبئی میں برج خلیفہ کی تعمیر تک یہ بلند ترین عمارت رہی۔

اسے ماحول دوست عمارت بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی بلندی 508 میٹر ہے اور اس کی ایک سو ایک منزلیں ہیں۔ جب یہ بنائی گئی تو یہ دنیا کی بلند ترین عمارت تھی اور اس سے قبل ملائیشیا کے پیٹروناس ٹاورز کو بلند ترین عمارت کا اعزار حاصل تھا۔ دور سے دیکھیں تو یہ عمارت شیشے اور سٹیل سے بنی بانس کا ایک درخت محسوس ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بانس کی بیرونی سطح گول ہوتی ہے اور یہ چوکور ہے۔ اس عمارت میں دنیا کی انتہائی تیز رفتار لفٹیں لگائی گئی ہیں جو ایک منٹ میں 1010 میٹر کا فاصلہ طے کرتی ہیں۔ ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والی اس عمارت کو تعمیراتی شاہکار تصور کیا جاتا ہے۔ چینی باشندے بانس کو بہت پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ مضبوط اور لچکدار ہونے کے علاوہ اندر سے کھوکھلا بھی ہوتا ہے۔ چینی فلسفے کے مطابق ہمیں بھی اندر سے نرم اور رحم دل ہونا چاہیے۔

یہ عمارت اس انداز سے ڈیزائن کی گئی ہے کہ برس ہا برس تک زلزلے کے جھٹکوں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور یہ ایک محفوظ ترین عمارت ہے۔ کنکریٹ کے 380 ستون اسے سہارا فراہم کرتے ہیں جن میں سے ہر ستون کو زمین کے اندر 80 میٹر گہرائی تک اتارا گیا ہے۔ 92 ویں منزل سے ایک بہت بڑا دھاتی گولا جھول رہا ہے جس کا وزن 606 میٹرک ٹن ہے اور اسے طلائی رنگ دیا گیا ہے۔ اس ’’ڈیمپر‘‘ کا مقصد شدید سمندری طوفان یا طوفانی ہواؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے عمارت کو محفوظ رکھنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.