ذوالفقارعلی بھٹو،ایک کرشماتی شخصیت: سید مشرف کاظمی

zulfiqar ali bhutto

پانچ جنوری 1928ء کو سر شاہنواز کے ہاں ایک ایسے فرزند نے جنم لیا جو کہ نہ صرف ان کا سیاسی جانشین ثابت ہوا بلکہ پاکستان کا مقبول حکمران بھی بنا ۔ سر شاہنواز ایک منجھے ہوئے سیاستدان تھے جن کا متحدہ ہندوستان کی سیاست پر گہرا اثر تھا ۔ تحریک پاکستان کے وقت شاہنواز بھٹو ممبئی کابینہ کے اہم وزیر بنے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے والد نے اپنے بیٹے کی پرورش اور تربیت،دینی اور دنیاوی تعلیم کی ابتدا کیلئے المرتضیٰ میں وقت کے قابل ترین اتالیق مقرر کیے۔

چھ سال کی عمر میں کراچی بشپ ہائی سکول میں داخل کروایا۔ 1937ء میں آپ کا خاندان ممبئی منتقل ہوگیا جہاں انہیں کتھیڈر ل ہائی سکول میں داخل کروایا۔ 1947ء کے اوائل میں یونیورسٹی آف ساؤدرن کیلیفورنیا اور پھر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں اعلیٰ تعلیم کیلئے داخلہ دلوایا ۔ سیاسیات میں آئرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے کرائسٹ چرچ کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ تعلیم و کھیل کے علاوہ تاریخ ، فلسفہ ، سیاست اور شخصیات پر لکھی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے۔ اس مطالعہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو انسانیت دوست بننے میں کافی مدد دی۔ ذوالفقار علی بھٹو بچپن سے ہی کمزور پر ظلم برداشت نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے فکر و عمل کی راہیں اپنی صلاحیتوں، سوچ اور محنت سے خود تربیت دیں۔ وہ ابھی سکول میں زیر تعلیم تھے جب خاندان کے بزرگوں نے خاندانی رسم و رواج کے مطابق ان کی شادی سردار احمد خان بھٹو کی بیٹی امیربیگم، جو عمر میں ان سے بڑی تھیں، کردی۔ انہوںنے دوسری شادی اپنی پسند پر 1951ء میں ایرانی وزیر لطیف مرزا کی بیٹی نصرت بھٹو سے والدین کی اجازت سے کی ۔ پہلی بیوی امیر بیگم سے کوئی اولاد نہ ہوئی جبکہ نصرت بھٹو کے بطن سے چار بچے بینظیر ، مرتضیٰ، صنم اور شاہنواز پیدا ہوئے ۔

1971ء میں نامساعد حالات میں بھٹو نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ۔ انہوں نے نہایت پامردی اور ہمت سے اپنے فرائض سرانجام دیئے ۔وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکا عہد حکومت 20دسمبر 1971ء سے 4جولائی 1977ء تک محیط تھا۔ انہوں نے ملکی ترقی کا سفر پیچھے سے شروع کیا اور صرف چھ سال کے قلیل عرصے میں اسے بام عروج تک پہنچا دیا ۔ ملکی ترقی کے بہت سے منصوبے شروع ہوئے اور پایہ تکمیل کو پہنچے ۔ مملکت خداداد کے متعدد کلیدی ادارے بھٹو کے عہد حکومت میں ہی تشکیل پائے ۔ ان کے منصوبوں میں سر فہرست پاکستان کا جوہری پروگرام، پاکستان سٹیل ملز، معیشت کی بحالی، تعلیمی اداروں کا وسیع جال، میڈیکل کالجز، زرعی اصلاحات، انگریزی خطابات کا خاتمہ، محنت کشوں کا تحفظ، عوامی سیاسی شعور کی بیداری اور افرادی قوت کی بیرون ملک برآمد ہیں۔ ان کے دور حکومت میں ہی مملکت کو ایک متفقہ آئین نصیب ہوا ۔ آپ کے دور حکومت میں قادیانی آئین پاکستان کی رو سے غیر مسلم قرار پائے ۔ ملک عزیز میں پہلی بار شناختی کارڈ کا اجرا کیا گیا۔ عوام کو پاکستانی شناخت دی گئی ۔ الغرض ملکی تعمیر و ترقی کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔ قائد عوام جناب بھٹو خارجہ امور کے بہترین ماہر تھے ۔ وہ عہد شباب میں پاکستان کے وزیر خارجہ بن گئے ۔ ذہانت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ ماہر سیاست دان اورزبردست مقرر تھے ۔ انہوں نے متعدد بار پاکستان کی نمائندگی کی۔ امریکہ چین تعلقات کو بہتر بنانے میں خصوصی کردار ادا کیا۔ پاک چین لازوال دوستی کا آغاز انہی کے عہد میں ہوا ۔ انہوں نے مسلم امہ کی یک جہتی کیلئے انتھک کوشش کی ۔ عرب دنیا کو تیل کی دولت کی افادیت بتائی ۔ سعودی عرب سے خصوصی تعلقات قائم کیے۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کی کامیابی کیلئے بہت جد و جہد کی ۔

1974ء میں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا کامیاب انعقاد کرایا ۔ مسٹر بھٹو کے عہد حکومت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی انتہائی کامیاب اور عروج پر تھی۔ جناب بھٹو بہت ہی کم عرصے میںملکی اور بین الاقوامی سطح کے لیڈر اور سیاست دان بن گئے۔ اپنی سیاسی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کی تشکیل کے صرف ڈھائی سال بعد وہ پاکستان کے مقبول ترین سیاست دان اور رہنما بنے ۔

1970ء کے عام انتخابات میں ان کی جماعت نے مغربی پاکستان میں بے مثال کامیابی حاصل کی۔قائد عوام کے کروڑوں چاہنے والے آج بھی ہیں ۔ ان کے مخالفین بھی ان کے مزار پر جا کر ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ آج ذوالفقار علی بھٹو ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں اور کارنامے ہمیشہ تاریخ کے اوراق میں زندہ رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.