روشنی کے ان مینار وں کو مستحکم کرنا ہوگا۔سلمان عابد

Salman-Abid

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر اس ملک میں فلاحی اور خدائی خدمت گا رادارے نہ ہوتے تو اس ملک کے کمزور اور محروم طبقہ کو اور زیادہ سنگین نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا۔ کیونکہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اچھی ریاست اور اچھی حکومت سے محروم طبقہ ہیں ۔ جس معاشرے میں اچھی ریاست او رحکومت نہ ہو تو اس کا سب سے بڑا بوجھ بھی اسی طبقہ پر پڑتا ہے جو معاشرے کا محروم طبقہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ اچھی حکومت او رادارے کا ہونا کمزور طبقات کا سب سے بڑا سہارا ہوتا ہے ۔ مگر ہمارا کمزور طبقہ اس بنیادی حق سے محروم ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس معاشرے میں موجود سیاسی ، سماجی ، معاشی اور قانونی تفریق اور تعصبات سمیت خطرناک طبقاتی تقسیم نے معاشرے کو کمزور اور تقسیم کردیا ہے ۔خا ص طو رپر بنیادی سہولتوں تعلیم اور صحت کی نج کاری نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنادیا ہے ۔

لیکن اللہ کی اس بستی میں ایسے افراد موجود ہیں جو ریاستی جرائم کے باوجود اس ریاست اور اس میں رہنے والے عام اور کمزور طبقات کے بارے میں درد دل رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ محض درد دل ہی نہیں رکھتے بلکہ عملی طور پر اپنے محدود وسائل اور طاقت کے کچھ نہ کچھ کرنے کا جنون بھی رکھتے ہیں ۔ اس جنون ہی کے تحت معاشرے کے یہ اعلی افراد ہمیں کمزور طبقوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اگرچہ ان کے نزدیک یہ بوجھ نہیں بلکہ ان کمزور لوگوں پر اپنا حق اور ذمہ داری سمجھ کر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ معاشرے کے مخیر حضرات ان کی کاوشوں کے ساتھ کھڑے بھی نظر آتے ہیں ، اگرچہ یہ افراد یا ان کے قائم کردہ ادارے متبادل ریاست نہیں اور نہ ہی یہ حکومت کا متبادل ہوسکتے ہیں ۔لیکن ان کی یہ عملی کوششیں معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو جنجھوڑنے او رکچھ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

عبد الستار ایدھی کاایدھی ٹرسٹ ، عمران خان کا شوکت خانم ہسپتال ، ادیب رضوی کا کراچی میں شعبہ صحت میںسندھ انسٹی ٹیوٹ یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ ہسپتال ،جماعت اسلامی کا الخدمت فاونڈیشن اور ڈاکٹر امجد ثاقت کا ادارہ اخوت، ڈاکٹر عامر عزیز کی نگرانی میں چلنے والا گھرگی ہسپتال، حافظ سعید کی فلاح انسانیت فاونڈیشن واقعی وہ ادارے ہیں جن پر بطور قوم ہم فخر کرسکتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ادارے مجموعی طور پر اس ملک اور دیار غیر میں موجود پاکستانیوں کے اپنے دیے گئے فنڈ سے چلتے ہیں ۔ ان اداروں کی ساکھ اور شفافیت پر بھی کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔اصولی طور پر پاکستان اور پاکستان سے باہر موجود لوگوں کو فخر کرنا چاہیے کہ ان کا یہ معاشرہ ابھی بھی ایسے لوگوں سے بھرا ہوا ہے جو درد دل رکھتے ہیں ۔ ہمیں کسی بھی صورت میں ان بڑے حوصلہ مند افراد اور ان کے اداروں کی اس امیدکو کبھی مرنے نہیں دینا کہ ہم ان کے ساتھ نہیں ۔ ہم جس حد تک بھی ان اداروں کی مدد کرسکتے ہیں ہمیں کرنی چاہیے ۔ خود بھی اور دوسروں کو بھی ترغیب دینی چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنی ذمہ داری سمیت اپنا حق ان اداروں کی ترقی پر لگائیں ، کیونکہ یہ محض ان اداروں کی ترقی نہیں بلکہ کمزور طبقات کی ترقی اور خوشحالی کا ایجنڈا ہے جو ہماری مدد کے منتظر رہتے ہیں ۔

عمران خان نے اپنی محنت اور استقامت سے جس انداز سے شوکت خانم کی بنیاد رکھی اور اس کو نہ صرف دیگر شہروں تک پھیلایا وہ کینسر جیسے موزی مرض سے نمٹنے میں عام شہریوں کی شراکت کا عملی نمونہ ہے ۔اگرچہ ان کے سیاسی مخالفین ان پر خوب تنقید بھی کرتے ہیں اور شوکت خانم کو متنارعہ بناتے ہیں ، مگر اس کے باوجود لوگ ان پر پہلے سے زیادہ بھروسہ کرکے ان کے اعتماد کو اور زیادہ بڑھاتے ہیں ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک عورت کی مالی مدد سے کیے گئے منصوبے کو آج اس ملک کا غربت کو ختم کرنے کا بڑا پروگرام بنادیا ہے او راس کی شہرت عالمی سطح کی بھی ہے ۔ اب اخوت یونیورسٹی کا منصوبہ بھی ان طالب علموں کے لیے اہم ہے جو مالی طور پر مستحکم نہیں ۔الخدمت کے سربرا ہ ڈاکٹر عبدالشکور اور احسان اللہ وقاس جس محنت اور لگن سے دور افتاد علاقوں میں محروم طبقوں کو طاقت دے رہے ہیں اس پر یقینی طور پر فخر کیا جاسکتا ہے اور ایسے علاقے جہاں کوئی جانے کے لیے تیار نہیں وہاں الخدمت پیش پیش ہوتی ہے ۔

اسی طرح تعلیم کے میدان میں دور دراز علاقوں اور خالصتا غریب بچوں اور بچیوں سمیت معذور افراد اور اقلیتی بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے میں دو اور ادارے کلیدی کردار ادا کررہے ہیں ۔ ان میں بڑا نام غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا ہے ۔ برادرم عامر جعفری اپنی ٹیم کے ساتھ جس لگن ، شوق اور محنت کے ساتھ ان بچوں او ربچیوں کو تعلیم کی فراہمی کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں ۔ اس وقت سات سو اسکولوں اور 45ہزار بچے اور بچیوں کو تعلیم دینے کے بڑے نیٹ ورک کے ساتھ کام کرنے والا یہ ادارہ تعلیم کے پھیلاو میں بڑا کام کررہا ہے ۔اسی طرح ہمارے بزرگ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی او ران کے ساتھی خالد ارشاد صوفی کاروان علم فاونڈیشن کی مدد سے ان بچے اور بچیوں کو وضائف اور تعلیمی اخراجات ادا کرتے ہیں جو امتحانات میں اعلی پوزیشن او رنمبر ز لیتے ہیں ، لیکن آگے پڑھنے کے لیے ان کے پاس مالی وسائل نہیں ہوتے ۔ان میں انجینرز، ڈاکٹرز جیسے شعبہ کے لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہوتی ہیں ۔ اچھی بات یہ ہے کہ دور دراز کے علاقوں میں ذہین بچوں پر توجہ دینے والا یہ ادارہ اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ ہے ۔اسی طرح گوجرانوالہ کہ علاقہ قلعہ دیدار سنگھ کے گاوں نواں پنڈ میں لڑکوں او ربالخصوص لڑکیوں کو مفت تعلیم دینے کے عمل میں صادق چوہدری کا نام بھی نمایاں ہے ۔ محدود وسائل کے ساتھ صادق چوہدری نے اس چھوٹے سے گاوں میں جو علم کی شمع جلائی ہے وہ یقینی طور پر روشنی کا ایسا مینار ہے جس پر اس علاقہ کہ لوگ فخر کرسکتے ہیں۔

صحت کے شعبہ میں دو افراد کا زکر کرنا ضروری ہے ۔ڈاکٹر عامر عزیزہیں جو گھرگی ہسپتال لاہور سے منسلک ہیں اور ہڈیوں کے حوالے سے انہوں نے ایک اسٹیٹ آف آرٹ ادارہ بنایا ہوا ہے ۔کئی غریب اور نادار لوگوں کے علاج میں ڈاکٹر عامر عزیز اور ان کا ادارہ پیش پیش ہوتا ہے ۔مجھے ان کے ہسپتال کا دورہ کرنے او رمعلومات کا معلوم ہے اور واقعی یہ ادارہ قابل قدر ادارہ سمجھا جاتا ہے ۔ ہمارے دوست ڈاکٹر انتظار بٹ کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ بنیادی طو رپر آنکھوں کے ڈاکٹر ہیں ۔ انہوں نے پی او بی کے نام سے بصارت سب کے لیے بلا امتیاز ، بلاتفریق ، بلامعاوضہ اپنی ٹیم کی مدد سے شاندار کام کررہے ہیں ۔اب تک ان کا ادارہ ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد مریضوں کے آپریشن اورمصنوعی عدسہ کی پیوند کاری سمیت 13لاکھ سے زیادہ مریضوں کا معائنہ کرچکے ہیں ۔نوجوان ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم گاوں گاوں اور چھوٹے شہروں میں خود جاکر علاج ومعالجہ کرتے ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ادارہ دوسرے غریب ملکو ں میں بھی جاکر اپنی خدمات انجام دیتا ہے ۔اب اس ادارے نے لاہور، کراچی ، پشاورمیں آنکھوں کے بلامعاوضہ آپریشن کے لیے بڑے ہسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

یہ کچھ ادارے ہیں جن کا میں نے خا ص طور پر زکر کیا ہے ۔ جبکہ ہمارے اردگرد ایسے کئی ادارے موجود ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت محلہ اور گاوں کی سطح پر انسانوں کی عملی خدمت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اس لیے صرف وہی ادارے نہیں جن کا میں نے زکر کیا بلکہ سب ہی ادارے ہماری توجہ کے مستحق ہیں ۔ پاکستان ان خوش قسمت ملکوں میں شمار ہوتا ہے جہاں لوگ خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ان کی طرف سے دی گئی امداد سالانہ سالانہ 80سے 90ارب روپے بنتی ہے ۔اگر یہ رقم زیادہ منظم اور شفاف انداز میں ایسے اداروں کے زریعے خرچ ہوتو عام او رکمزو ر طبقات کی زیادہ مدد ہوسکتی ہے ۔ اصولی طور پر تو خود ریاست کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر ان اداروں کی سرپرستی کرے ، مالی امداد دے تاکہ یہ ادارے حکومتی مدد کے ساتھ بھی وہ کام کرسکیں جو بنیادی طور پر خود حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے۔

رمضان المبارک کا یہ مہینہ بنیادی طور پر نیکیوں کو سمیٹنے کا موسم ہے ۔ ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کو حاصل کرے ۔ اللہ کی رضا کے حصول کا ایک بڑا زریعہ اس کی مخلوق کی خدمت کرنا بھی ہے ۔ اس لیے آگے بڑھیں اور اس نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالیں اور رمضان میں دی جانے والی آپ کی امداد براہ راست اللہ کی خوشنودی کا سبب بھی بنے گی ۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.