روپیہ بے لگام ہے یا پھر…؟خورشید ندیم

khurshid nadeem

روپے کی باگ اب حکومت کے نہیں، مارکیٹ کے ہاتھ میں ہے۔ سامنے ڈھلوان ہے اور روپیہ بھاگ رہا ہے۔ ایسی بے بسی ہم نے کب دیکھی تھی؟سنجیدہ حلقوں میں حکومت کی نا اہلی اب کوئی مشتبہ بات ہے نہ اختلافی۔ آئے دن شواہد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عمران خان صاحب کی معلومات سطحی ہیں اور تجزیہ خیالی۔ جغرافیہ کا فہم یہ ہے کہ جاپان اور جرمنی کو ہمسایہ بنا دیا اور تاریخ کا رخ کیا تو قائد اعظم کو سرطان کا مریض بتا دیا۔ فلسفہ و تصوف کی دنیا میں قدم رکھا تو روحانیت کو سپر سائنس کا پیش رو بتایا۔ مثال کبھی چین سے لائی گئی اور کبھی ایتھوپیا سے۔ اس پر یہ زعم کہ خود کو ایک وژنری راہنما سمجھتے ہیں۔

اپنا تقابل ہمیشہ تاریخ کی برگزیدہ شخصیات سے کرتے ہیں۔ قیادت کی سطح پر، میں نے پراگندگیٔ فکر کا ایسا مظہر کم ہی دیکھا ہے۔ ‘القادر یونیورسٹی‘ کا سنگِ بنیاد رکھا تو ایک عالمانہ خطبہ دیا۔ سننے کی تاب نہیں تھی؛ تاہم اسے حرف حرف پڑھا۔ دو جملوں میں بھی باہمی تعلق دریافت نہ کر سکا۔ متفرق اقوالِ زریں کا مجموعہ۔ سوال یہ ہے کہ اس زادِ راہ کے ساتھ آنے والی منزلوں کا سفر کیسے طے ہو گا؟ اضطراب عام آدمی کے گھر تک پہنچ چکا۔ اس نے زندہ رہنا ہے مگر اس کے پاس جینے کا کوئی سامان نہیں۔ وہ اگر صدقِ دل سے یہ مان لے کہ یہ سب کچھ گزشتہ حکومتوں کا کیا دھرا ہے، تو بھی اسے اسبابِ زندگی، حکومتِ وقت ہی کو فراہم کرنے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعتیں اگر چاہیں بھی تو اس صورتِ حال سے لا تعلق نہیں رہ سکتیں۔ اگر وہ عوام کے جذبات کی نمائندگی نہیں کریں گی تو وقت یہ فریضہ کسی اور کو سونپ دے گا۔اس وقت ہمارے سامنے چار حل ہیں:1۔ اس حکومت کو عوام نے پانچ سال کے لیے منتخب کیا ہے۔ (اس جملے میں ‘عوام‘ کے لفظ پر مجھے اعتراض ہے لیکن سر دست میں اس سے صرفِ نظر کرتا ہوں) اسے یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ بروئے کار آئے۔ حکومت کے رہنے یا جانے کا فیصلہ اب پاکستان کے عوام کریں گے اور وہ بھی پانچ سال بعد۔2۔ پانی سر سے گزر چکا۔ اب حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک اٹھا دینی چاہیے۔ مسائل کا حل نئے انتخابات ہیں۔3۔ ملک نئے انتخابات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اگر کوئی تبدیلی آئے تو پارلیمان کے اندر سے آنی چاہیے۔ اکثریتی پارٹی نیا قائدِ ایوان منتخب کرے جو نئی ٹیم کے ساتھ زمامِ کار سنبھالے۔ 4۔ ایک قومی حکومت بنانی چاہیے جس میں سب جماعتوں کی نمائندگی ہو۔ سیاسی جماعتیں ایک میثاقِ معیشت پر اتفاق کر لیں اور پارلیمان کے باقی ایام میں مل کر ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی سعی کریں۔ 

پہلا حل ہی بہتر ہے اور اصولی بھی۔ سیاست کا معاملہ مگر یہ ہے کہ اس کی باگ اصولوں کے ہاتھ میں کبھی نہیں رہی۔ اس کی مہار وقت کے ہاتھ میں ہے۔ وہی اس کا رخ متعین کرتا ہے۔ اگر حکومت بالفعل بے بس ہو جائے اور معاملات اس کے ہاتھ سے نکل جائیں تو عوام اور ملک کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ نوشتۂ دیوار یہی ہے اور اسے سب پڑھ رہے ہیں۔ اس لیے پانچ سال کا انتظار نہ عوام کر سکتے ہیں نہ ملک۔دوسرا حل بھی زیادہ قابلِ عمل نہیں۔ جہاں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا یہ عالم ہو وہاں احتجاجی تحریکیں تباہ کن ہوتی ہیں۔ رہا سہا بھرم بھی قائم نہیں رہتا۔ خاکم بدہن، پھر انجام خانہ جنگی ہوتی ہے یا مارشل لا۔ ہمیں دونوں سے پناہ مانگنی چاہیے۔تیسرا حل بھی اس لیے قابلِ فہم نہیں کہ تحریکِ انصاف عمران خان ہی کا نام ہے۔ اگر وہ وزیر اعظم نہ رہے تو کسی دوسرے نام پر اتفاق مشکل ہو جائے گا۔ پارلیمان کے اندر اگر کسی طرح سے یہ ممکن ہو بھی جائے، عوام میں اس نظام کو قبولیت نہیں ملے گی۔ تحریکِ انصاف کا عوامی چہرہ ایک ہی ہے اور وہ عمران خان ہیں۔ عوامی لیڈر کو مصنوعی طور پر سیاسی عمل سے الگ کرنا نئے عدم استحکام کو آواز دینا ہے۔چوتھا حل ہی ممکن ہے اور یہی ملک کو استحکام دے سکتا ہے۔ اسی سے عوام اور سرمایہ کار میں اعتماد پیدا ہو گا اور اسی سے عالمی قوتوں کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں معاملہ کیا جا سکے گا۔ کیا یہ حل ممکن ہے؟ اس کے لیے کچھ مقدمات pre requisites ہیں۔ ایک تو یہ کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی تائید کے بغیر قومی حکومت کا قیام ممکن نہیں۔ یہ تائید احتساب کے اس عمل کی موجودگی میں میسر نہیں آ سکتی۔ اگر اسی طرح احتساب ہوتا رہا تو اپوزیشن حکومت سے کوئی تعاون نہیں کرے گی۔دوسرا یہ کہ اس کے لیے عمران خان صاحب کو ”چھوڑوں گا نہیں‘‘ جیسی سیاست سے رجوع کرنا ہو گا۔ اپوزیشن جماعتوں سے اس اسلوبِ سیاست کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی۔ تیسرا یہ کہ اس بندوبست کو مقتدر حلقوں کا اعتماد حاصل ہو۔ درست تر الفاظ میں وہی اس کے ضامن ہوں تو اس حل کے لیے عملی پیش رفت ممکن ہے۔کیا یہ ممکن ہو گا؟

مجھے مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ یہ ہو سکتاہے کہ احتساب کے اس عمل پر نظر ثانی ہو اور سیاسی جماعتیں اس کے کسی نئے انتظام سے اتفاق کر لیں۔ لیکن کیا عمران خان اپنے سیاسی طرزِ عمل میں تبدیلی لا سکتے ہیں؟ اور اگر لائیں تو کیا ان کے سیاسی زوال کو روکنا ممکن ہو گا؟ قومی حکومت کا قیام دراصل ان کی ناکامی پر مہرِ تصدیق ثبت کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کی سیاست ختم ہو جائے گا۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ وہ آخری درجے میں قومی حکومت کے قیام کی مزاحمت کریں گے۔اس صورت میں یہ ہو سکتا ہے کہ مقتدر حلقے اپنی تائید سے ہاتھ کھینچ لیں اور عمران خان بے یار و مددگار ہو جائیں۔ یہ ان کی حقیقی سیاست کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے۔ پھر ممکن ہے کہ نواز شریف صاحب کی تاریخ کرداروں کی تبدیلی کے ساتھ دھرائی جائے۔ حسنِ انتخاب سے آزادانہ پرواز تک کے مراحل میں آدمی کا اصل امتحان اس کا آخری مرحلہ ہے۔ نواز شریف اس دور سے گزر رہے ہیں۔ اگر عمران خان اس کی ہمت کر سکیں تو ان کے ہم سفر بن سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر شوکت عزیز بننے کا انتخاب تو ان کے پاس موجود ہے ہی۔سیاست ممکنات کا کھیل ہے۔ میں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ اس وقت کیا ممکن ہے۔ انسان کا معاملہ مگر یہ ہے کہ و ہ افتادِ طبع ہی کا نہیں، مفادات کا بھی اسیر ہوتا ہے۔ ذات اور پھر گروہ اس کی ترجیحات میں مقدم ہوتے ہیں۔ سیاست میں اگر ایک فریق اس سے بلند ہو جائے اور دوسرا نہ ہو تو بھی حالات تبدیل نہیں ہوتے۔ اس وقت بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ جن کے ہاتھ میں اقتدار کی باگ ہے، وہ شخصی ا ور اداراتی مفاد سے بلند تر ہو کر دیکھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔حل ایک ہی ہے۔ فطرت کے مطالبات کو تسلیم کرنا اور تاریخی عمل کو سمجھنا۔ ہم جو بھی فیصلے کرتے ہیں، اس کا زمانی سیاق و سباق ہوتا ہے اور مکانی بھی۔ اس سے ماورا ہو کر کوئی فیصلہ نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ میرا احساس ہے کہ ہمارے ملک میں جو طبقات فیصلے کرتے ہیں، انہیں اس کا جزوی ادراک ہے۔ ہمارا معاشرہ بھی ابھی پسماندہ ہے۔ اس میں آج بھی جہالت کا راج ہے یا کم علمی کا۔ یہ وقت سے بچھڑا ہوا سماج ہے۔

طاقت ور حلقے اسی کا فائد اٹھاتے ہیں۔ اس سے ممکن ہے کہ کوئی گروہی مفاد حاصل کیا جا سکے مگر اس سے قوم کی منزل کھوٹی ہو جاتی ہے۔یہ امتحان کا وقت ہے۔ سب سے بڑی آزمائش دانش کو درپیش ہے۔ ہمیں ایک فوری حل چاہیے اور ایک دائمی حل۔ فوری حل ایک قومی حکومت کا قیام ہے۔ اسی سے ڈھلوان کا یہ سفر رک سکتا ہے۔ یہ روپیہ نہیں جو ہمارے ہاتھوں سے نکل رہا ہے، یہ وقت ہے۔ اس کی باگ ہمیں اپنے ہاتھوں میں لینا ہو گی۔ دائمی حل یہ ہے کہ فطرت کے مطالبات اور تاریخ کو سمجھا جائے اور ان کے ساتھ تصادم سے گریز کیا جائے۔بشکریہ روزنامہ دنیا

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.