زیکا کا مرض اب لاعلاج نہیں رہا

Zika virus

نینگ ینگ یونیوسٹی کے سائنس دانوں نے زیکا وائرس کے علاج کے لیے پیپٹائڈ تیار کیا ہے۔ عنقریب اسی پیپٹائڈ کا استعمال وائرس سے ہونے والے دماغی امراض کے علاج کے لیے بھی کیا جا سکے گا۔ سنگاپور میں ہونے والی اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نینگ ینگ یونیوسٹی کے پروفیسر نام جون چو کا کہنا تھا کہ تیارکردہ پیپٹائڈ وائرس کی حفاظتی تہ کو تباہ کر کے وائرس کا خاتمہ کرتا ہے۔ اس پیپٹائڈ کا استعمال دماغی امراض پیدا کرنے والے وائرس کے خلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔

روایتی طریقہ علاج کے تحت وائرس کی پیداواری صلاحیت کو ختم کر کے بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جاتا ہے لیکن اس سے وائرس کے خاتمے کے لیے انسان کی قوت مدافعت پر انحصارکیا جائے گا۔ تاہم یہ طریقہ علاج فرسودہ ہے کیونکہ وائرس کی پیداواری صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ اس نئے طریقہ علاج کے تحت وائرس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب وائرس کی حفاظتی تہ خراب کر دی جائے تو اس کی بقا مشکل ہو جاتی ہے۔

پروفیسر چو کا کہنا تھا کہ اس پیپٹائد کا استعمال تمام فلاوی وائرس پر کیا جا سکتا ہے۔ چوہوں پر تجربوں کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ زیکا کے مرض میں مبتلا جن چوہوں کو یہ پیپٹائڈ دیا گیا ان میں 12 میں سے دس چوہوں کا کامیابی سے علاج کیا گیا۔ تجربات کے لیے برازیل کے زیکا وائرس کا استعمال کیا گیا۔ اس تحقیق میں برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف میناس جریز اور بیلجیم کی گھینٹ یونیورسٹی نے تعاون کیا۔

اب تک زیکا سے بچاؤ کے لیے کوئی ویکسین تیار نہیں کی گئی اور نہ ہی ادویات کے ذریعے اس کا خاتمہ ممکن ہے۔ زیکا کے علاج کے لیے جو ادویات موجود ہیں ان سے صرف درد سے آرام میسر آتا ہے۔ (خصوصی رپورٹ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.