سوشل میڈیا پر رواداری اور مکالمہ کا کلچر۔۔۔سلمان عابد

salman abid picture

دنیا میں اظہار آزادی کے تناظر میں اب سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت بن کر سامنے موجود ہے ۔ الیکٹرانک او رپرنٹ میڈیا کے مقابلے میں سوشل میڈیا ایک مقبول میڈیا کی حیثیت اختیار کرگیا ہے ۔عمومی طور پر سوشل میڈیا کو نئی سیاسی ، سماجی تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ اس نئے میڈیا کو نظرانداز کرکے کسی بھی مہم کو کامیاب نہیں بنایا جاسکتا۔یہ ہی وجہ ہے کہ اب بڑے بڑے سیاسی مہم جو سوشل میڈیا کو بنیا دبنا کر رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اب رسمی پرنٹ او رالیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی بھی اس سوشل میڈیا کو بنیاد بنا کر اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں ۔

لیکن سوشل میڈیا پر جو مکالمہ کا کلچر ہے اس میں ہمیں کافی حد تک انتہا پسندی ، پر تشدد رجحانات ، عدم برداشت، گالم گلوچ، تضحیک کرنا ، کردار کشی کرنا ، جھوٹی خبریں چلانا اور ذاتی نجی زندگیوں کو موضوع بحث بنانے جیسے مسائل درپیش ہیں ۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شوشل میڈیا حقیقی طور پر ایک طاقت تو بن گیا ہے ، مگر اس میں ذمہ داری کا احساس کا پہلو کمزور ہے ۔ لوگ سوشل میڈیا کا استعمال تو جانتے ہیں یا سیکھ رہے ہیں مگر اس بات کا فہم او رادراک نہیں کہ ہمیں ذمہ دارانہ رویوں کے ساتھ کیسے سوشل میڈیا کا استعمال کرنا چاہیے ۔سوشل میڈیا کے استعمال پر سماجی شعور کی کمی ایک ایسا بنیادی نکتہ ہے جو ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے ۔ کیونکہ جو بھی ترقی کا نیا زوایہ بغیر کسی سیاسی ،سماجی او راخلاقی شعور کے بغیر سامنے آئے گا وہ انتشار بھی پیدا کرتا ہے ۔

پاکستان عملی معنوں میں اس وقت انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے معاملات سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے ۔ انتظامی سطح پر ہم نے اس جنگ سے نمٹنے کے تناظر میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہے ۔ دہشت گردی ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہوئی ہے ، مگر انتہا پسندی کا پہلو ختم نہیں بلکہ بدستور کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے ۔ مسئلہ محض مذہبی انتہا پسندی کا نہیں بلکہ سیاسی ، سماجی ، لسانی ، علاقائی طور پر بھی ہمارے رویوں میں ایک دوسرے کی قبولیت کے تناظر میں انتہا پسندی کی سوچ غالب نظر آتی ہے ۔ عد م برداشت کا کلچر بہت تیزی سے سماج میں غالب نظر آتا ہے او رلگتا ہے کہ ہم اپنی مرضی کی سوچ، فکر او رخیالات کو دوسروں پر زبردستی مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر کوئی ہماری بات کو تسلیم نہیں کرتا یا اس کا حامی نہیں ہوتا تو ہم پر تشدد سوچ او رفکر کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں ۔

کیا وجہ ہے کہ ہم دوسروں کے خیالات ، سوچ اورفکر پر مبنی بیانیہ کو عزت و احترام دینے کے لیے تیار نہیں ۔ ضروری نہیں کہ ہم ہر ایک کے سیاسی ، سماجی او رمذہبی نظریات کے حامی بن جائیں یا ان کے خیالات سے اتفاق کریں ۔لیکن کیا یہ ضروری نہیں کہ ہم دوسروں کے مختلف خیالات کے باوجود آپس میں رواداری ، برداشت اور سماجی قبولیت کے رویوں کو فوقیت دیں ۔کیونکہ جو بھی سماج Diversityکے بنیادی اصولوں پر قائم ہوگا وہی معاشرہ پرامن ، مہذہب اور ذمہ دارمعاشرہ ہوسکتا ہے ۔یہ رویہ عمومی طور پر سماج میں مختلف خیالات کے باوجود ایک دوسرے کے درمیان باہمی رشتوں میں احترام انسانیت کو پیدا کرتا ہے اور سب کو محسوس ہوتا ہے کہ اگرچہ ہمارے خیالات مختلف ہیں لیکن معاشرہ ہمارے ساتھ کھڑا ہے ۔بدقسمتی سے اس وقت سماج میں سیاسی ، سماجی ، علاقائی ، لسانی اور مذہبی تقسیم نہ صرف گہری ہوتی جارہی ہے بلکہ اس میں نفرت اور دشمنی کی سیاست بھی پنپ رہی ہے جو خود ایک بڑا خطرہ ہے ۔

اس پہلو کاسماجی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم مکالمہ کرتے وقت کیوں الجھ جاتے ہیں او راس الجھاو میں ہم صبر کا دامن چھوڑ کر جذباتیت کے پہلو سے جڑ جاتے ہیں جو منفی ردعمل کی سیاست کو جنم دیتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ بہت سے سنجیدہ حلقوں میں افراد یا اداروں کی سطح پر سوشل میڈیا میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے کلچر پر پریشانی ہے ۔ بالخصوص نئی نسل میں جو غصہ اور ردعمل کی سیاست ہے اس کا ایک بڑا منفی پہلو ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال میں غالب نظر آتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا نے سماج میں ردعمل کے تناظر میں ایک نئی طرز کی سیاست کو جنم دیا ہے او راس کا مثبت پہلو بھی ہے ۔ لوگ فوری طور پر مختلف پالیسیوں ، قانون سازی ، حکمرانی اور شخصیات کے ساتھ جڑے تضادات پر سخت ردعمل دیتے ہیں اور یہ طاقت ور طبقات پر ایک دباو کی سیاست کو بھی جنم دیتا ہے ۔

سوشل میڈیا کے مثبت استعما ل کے تناظر میں تین اہم پہلو ہیں ۔ اول لوگوں میں سوشل میڈیا کے استعمال پر سیاسی او رسماجی شعور کو اس حد تک بڑھایا جائے کہ لوگ سمجھ سکیں کہ ہمیں اس میڈیا کا کیسے مثبت او رذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہے جو حقیقی طور پر رواداری او رمکالمہ کے کلچر کو تقویت دے۔ دوئم ہمیں نوجوان نسل او ربالخصوص تعلیمی اداروں میں سوشل میڈیا کے استعمال اور اس سے جڑے سائبر کرائم ایکٹ یا قوانین کے بارے میں پڑھایا جائے او راسے عملی طور پر ہر ڈسپلن کے لیے نصاب کا حصہ قرار دیا جائے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ سوشل میڈیا سے جڑے قانون بھی موجود ہیں جو کوڈ آف کنڈکٹ کے دائرہ کار کو مضبوط بناتا ہے او راس کا استعمال لازمی ہے ۔ سوئم ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال کے تناظر میں اس کی نگرانی ، جوابدہی یا احتساب کے عمل کو شفاف بنانا ہوگا۔کیونکہ ایسے لوگ جو سوشل میڈیا کو سیاسی ، سماجی او رمذہبی نفرت یا تعصب یا پر تشدد رجحانات کے لیے استعما ل کرتے ہیں ان کو قانون کے دائرہ کار میں لاکر احتساب کرنا ہوگا ۔

یہ جو ہم ففتھ جنریشن وار یا انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے پر زور دیتے ہیں اور اس میں نوجوان نسل کو بنیاد بنا کر اس جنگ میں کامیابی چاہتے ہیں وہ نوجوانوں کا اس جنگ میں بطور امن کے سفیر کے طور پر شمولیت سے ہی ممکن ہے ۔کیونکہ سوشل میڈیا کو امن ، روداری ، مکالمہ اور برداشت سمیت قبولیت کے کلچر کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیں اس میڈیا سے مختلف نوعیت کی مہم جوئی کا آغاز کرنا چاہیے ۔ اس مہم میں رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے شاعر، ادیب ، دانشور، صحافی ، استاد، کھلاڑی ، فن کار ، علمائے کرام سمیت دیگرطبقات کو شامل کرنا ہوگا جو نئی نسل میں اس پیغام کو عام کریں کہ ہمیں سوشل میڈیا کو مختلف نوعیت کے قومی مسائل کے خاتمہ میں استعمال کرنا چاہیے او رجو لوگ انفرادی یا اجتماعی سطح پر اس میڈیا کا منفی استعمال کررہے ہیں ان کے خلاف دباو کی سیاست کو بڑھانا ہوگا تاکہ ان پر دباو بڑھا کر ایسی سوچ او رفکر کو ختم کیا جائے جو نفرت کی سیاست کو جنم دیتے ہیں ۔

سیاسی جماعتیں جو لاکھوں میں اپنے سیاسی کارکن رکھتی ہیں اور بڑے بڑے سیاسی قائد لاکھوں کی تعداد میں اپنا ووٹ بینک بھی رکھتے ہیں ۔ یہ سیاسی جماعتوں او ران کی قیادت کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں اور ووٹروں میں بھی سوشل میڈیا کے استعمال پر سماجی ، علمی اور فکری تربیت پر زور دیں اور خود کو بھی ذمہ دار سیاسی قیادت کے طور پر پیش کریں او راپنے کارکنوں او رووٹروں کو بھی ترغیب دیں کہ وہ اپنی سوچ میں انتہا پسند رجحانات کو ختم کریں اور اعتدال یا میانہ روی کا راستہ اختیار کریں ۔ اہل دانش کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قوم میں سوشل میڈیا کے تناظر میں ایک نیا قومی بیانیہ ترتیب دیں کہ کیسے یہ معاشرہ او راس سے جڑے افراد امن او ررواداری کے کلچر کو تقویت دیں ۔گالم گلوچ، نفرت، تعصب او رذاتیا ت کی کردار کشی جیسی مہم کے خلاف ہمیں ایک مضبوط سیاسی ، سماجی اور علمی و فکری تحریک کی ضرورت ہے او راس عمل میں نوجوانوں کو فوقیت دینی ہوگی ۔کیونکہ معاشرے محض قانون سازی سے درست نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے قانون سازی سمیت مجموعی طور پر معاشرے کے مزاج کو بھی پرامن اور رواداری پر مبنی بنانا ہوگا ۔

یہ جو پاکستان کے بارے میں داخلی او رخارجی محاذ پر منفی او رانتہا پسندی پر مبنی تصورات موجود ہیں جو ہر جگہ ہمیں غیر ذمہ دارانہ معاشرہ کے طور پر پیش کرتا ہے اس کے خلاف ہمیں خود جنگ لڑنی ہے ۔ یہ جنگ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ علمی او رفکری محاذ پر لڑنی ہے ۔اس جنگ کا ایک بڑا مرکز سوشل میڈیا ہے ۔ اگر ہم نے اس جنگ سے نمٹنے کے لیے سوشل میڈیا کے موثر استعمال کے لیے موثر سیاسی و سماجی حکمت عملی ریاست یا حکومت یا معاشرہ کے طور پر اختیار کرلی تو ہم یہ جنگ جیت کر خود کو ایک مہذہب معاشرے کے طو رپر پیش کرسکتے ہیں ۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس۔۔salmanabidpk@gmail.com

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.