سیاسی مسائل اورنگران وزیراعظم۔ کنوردلشاد

kanwar

عام انتخابات کا طبل بج گیا اور موجودہ دور ختم ہو گیا ہے۔ نگران وزیر اعظم کیلئے جسٹس (ر) ناصر الملک کا نام کا اعلان کر دیا گیا۔صدرِ مملکتِ پاکستان نے الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 57 کے تحت اور آئین کے آرٹیکل 224 کے مطابق قومی انتخابات کرانے کے لیے 25 جولائی کی حتمی تاریخ کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ روایت تو یہ ہے کہ اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد صدر مملکت قوم سے خطاب کرتے ہوئے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ یہ روایت جنرل یحییٰ خان نے جولائی 1970ء میں ڈالی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 7 جنوری 1977ئ، مار شل لاء کے نفاذ کے بعد جنرل ضیا ء الحق ، صدر غلام اسحاق خان ، صدر فاروق لغاری اور صدر پرویز مشرف نے قومی انتخابات کی تاریخ کا اعلامیہ قوم سے خطاب کے دوران ہی دیا۔لگتا ہے صدر ممنون حسین کے پرنسپل سیکرٹری ان کو پاکستان کی انتخابی تاریخ کے بار ے میں تاریخی حوالے سے بریف کرنے میں ناکام رہے۔الیکشن شیڈول الیکشن کمیشن آف پاکستان کی منظوری سے جاری کیا جاتا ہے۔ اس میں صدر مملکت کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لیے اس مرتبہ عملی طور پر سٹیٹ بینک آف پاکستان ،ایف بی آر ، اور قومی احتساب بیورو کی خدمات مہیا کرنے والے اداروں کو آن لائن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ادارے گزشتہ انتخابات میں بھی الیکشن کمیشن کے ساتھ تھے مگر انہوں نے عملی طور پر الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون نہیں کیا کیونکہ نواز شریف کی ماہرانہ ٹیم نے نگران حکومت کو ہائی جیک کرا لیا تھا اور نواز شریف کے خفیہ کارندوں نے صدر آصف علی زرداری کو بھی مات دے دی تھی جن کو ان کے حواریوں نے اس انداز میں یقین دہانی کرائی تھی جس طرح صدر پرویز مشرف کو 2008ء کے انتخابات میں ان کے نادان مشیروں نے اندھیرے میں رکھا ہوا تھا اور وہ ق لیگ کی کامیابی کے لیے 18فروری2008ء تک پرامید رہے۔ نواز شریف کے الیکشن سیل میں پاکستان کی ایک بااثر غیرسرکاری تنظیم کے تجربہ کار ماہرین شامل تھے۔انہوں نے اندرونی طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو یرغمال بنائے رکھا اور الیکشن کمیشن کے ماہر افسران کو الیکشن کی جنگ کے دوران ٹریننگ میں الجھائے رکھا۔

اس مرتبہ کاغذات نامزدگی کی تصدیق کا عمل بھرپور ہوگا ، قومی احتساب بیورو بھی ان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امید واروں کو بڑے امتحان سے گزرنا ہوگا۔ اسی لیے 25 جولائی کو انتخابات ووٹروں ہی کا نہیں سیاسی جماعتوں کا بھی امتحان ہوگا ۔ سیاسی جماعتوں کو بہت سوچ سمجھ کر بہت اچھی شہرت کے حامل امید واروں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اقامہ میں چھپے ہوئے اب منظر عام پر آجائیں گے اور جو ارکان اسمبلی اقامے کے معاملے میں محفوظ ہیں ۔ ثابت ہوگا کہ یہ حفاظت عارضی ہے۔ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت سب کو اپنے اپنے اقامے ظاہر کرنا ہوں گے اور پھر ریٹرننگ افسران کا کردار شروع ہو جائے گا۔ ان سے سوال پوچھا جائے گا کہ گزشتہ انتخابات میں اقامہ سے متعلق کیوں نہیں پوچھا۔ اگر کسی امید وار نے اس مرتبہ بھی اپنا اقامہ چھپائے رکھا تو حریف امیدوار سامنے لانے میں دیر نہیں کریں گے۔ یہ صورت حال پیپلز پارٹی ، نون لیگ اور تحریک انصاف کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں۔ یہ نئی قانونی جنگ جلد ہی طاقتور امیدواروں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ایئر مارشل (ر) اصغر خان مرحوم کے کیس میں پنجاب کی بااثر شخصیت شہباز شریف اور جاوید ہاشمی مشکل میں گھر سکتے ہیں ۔

گزشتہ دنوں اپوزیشن لیڈر خور شید شاہ اور سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بجٹ اجلاس میں جوش جذبات میں کہا کہ سندھ میں الگ صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں ، جبکہ اس کے بر عکس وہ پنجاب میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے سر گرم ہیں۔صدر آصف علی زردادری اور بلاول بھٹو اس مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میں عمران خان بھی پیش پیش ہیں۔ ان کو ادراک ہی نہیں کہ اس عمل میں شمالی پنجاب اور وسطی پنجاب کے ووٹر آگ پر لوٹ رہے ہیں۔ جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ بلند ہونے لگا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو شمالی اور وسطی پنجاب کی سیاسی قوت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ ان علاقوں میں قومی اسمبلی کی سو سے زائد نشستیں ہیں ، جو کہ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس طرح پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں297کے لگ بھگ ہیں۔اب اگر نواز شریف نے پنجاب بچائو تحریک کا آغاز کر دیا تو ان علاقوں میں نواز شریف کی جماعت سویپ کر جائے گی۔

میری رائے میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میں کوئی حرج نہیں ‘ لیکن وقت کا تعین کرنے میں غلطی ہو گئی ہے۔ دنیا کے 202 ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جس میں صوبے کے نام پر مسائل چل رہے ہیں۔ سید خورشید شاہ‘ مراد علی شاہ اور آصف علی زرداری سندھ کی دھرتی کے لیے آگ و خون کی ندیاں بہانے کے دعوے دار ہیں۔ ان کو احساس ہونا چاہئے کہ 1935ء تک موجودہ سندھ ممبئی صوبے کا حصہ تھا۔ سندھ کی سرحدیں ممبئی تک پھیلی ہوئی تھیں ،جس میں گجرات کاٹھیاوار کے علاقے بھی شامل تھے۔ سندھ کی دھرتی تو بنیادی طور پر قائد اعظم محمد علی جناح کے مطالبے پر 1935ء میں تقسیم کی گئی تھی کیونکہ عوام کے لیے آسانیاں پید اکرنے کا نام صوبہ بندی ہے۔ جس طرح یونین کونسلیں اور ڈسٹرکٹ بنائے جاتے ہیں تاکہ عوام کی نمائندگی اور عوام کو آسانیاں ہوں‘ اسی طرح ڈویژن اور صوبے بنائے جاتے ہیں۔ اگر صوبے بنانے والوں پر لعنت ہوتی ہے تو آج دنیا کے 201 ممالک کے صوبے بنانے والوں پر بھی لعنت ہوتی ۔

سید خورشید شاہ اور مراد علی شاہ مطمئن رہیں‘ اب نئے صوبے بنانے کا عمل پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ پائے گا۔ پاکستان میں سیاسی اضطراب اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ اب نئے صوبے بنانا فیڈریشن کی کمزوری کا باعث بنے گا۔ اب نئے صوبے بنانے کی تحریک کامیاب نہیں ہوگی۔ صوبے بنانے پر مرتب کی گئی مولانا ظفر انصاری رپورٹ کو صدر ضیا ء الحق نے جی ایم سید کے خوف سے نظر انداز کر دیا تھا۔ اسی طرح ایک سنہری موقع جنرل پرویز مشرف نے بھی ضائع کیا۔ 18 اکتوبر 1999ء کو جو سات نکات پر مشتمل قومی ایجنڈا دیا گیا اس میں سات صوبے بنانے کی نوید بھی سنائی گئی تھی۔ بے نظیر بھٹو کے اندرونی رابطے کی روشنی میں وہ منحرف ہو گئے۔ ہمیشہ کے لیے صوبے بنانے کا سلسلہ ختم کر دیا۔ صدر پرویز مشرف سے دو ہمالیہ جیسی غلطیاں ہوئیں ،کالا باغ ڈیم بنانے کے اعلامیہ سے منحرف ہو گئے اور سات صوبے بنانے کا وعدہ کر کے پسپائی اختیار کر لی اور قوم کو اندھیرے میں دھکیل دیا ۔

نون لیگ سروے، اشتہاری مہم ، خوشامدیوں کے تجزیے ، سپیشل برانچ کی رپورٹوں پر انحصار کرتی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں پر ذوالفقار علی بھٹو اور پرویز مشرف بھی انحصار کرتے تھے۔ اس کے منفی اثرات جب سامنے آئے تو دونوں کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ نواز شریف کو سزا ہو جائے گی۔ وہ انتخابی مہم کے عروج کے وقت عوامی جلسوں کے بجائے کسی جیل میں ہوسکتے ہیں۔ پارٹی کے دیگر صفِ اول کی قیادت کو بھی کسی نہ کسی مقدمے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے سلسلہ میں ان کے خلاف جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی گرفتاری کا امکان ہے۔ ان حالات میں اگر نون لیگ نے قومی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تو بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہو جائے اور الیکشن مؤخر ہونے کا اندیشہ لاحق ہو جائے گا ۔ ملک کو داخلی اور خارجی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط و مستحکم نگران وفاقی حکومت کی ضرورت ہے۔ ایسی نگران حکومت جس کی پشت پر تمام سیاسی جماعتیں کھڑی ہوں۔ نون لیگ اپنے آ پ کو شدید دبائو میں محسوس کرتی ہے۔ اس کا مفروضہ ہے کہ اس کے ساتھ منصفانہ برتائو نہیں ہو رہا ۔اس کا راستہ روکنے کی منصوبہ سازی ہو رہی ہے، کئی مخالف سیاسی قوتوں کو طاقت ور بنایا جا رہا ہے اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ نون لیگ سے تعلق رکھنے والے اور پانچ سال تک حکومت کا حصہ رہنے والے درجنوں افراد پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف کا رخ کر رہے ہیں۔ ان تمام حالات کے باو جود پاکستان نون لیگ انتخابی جنگ میں شریک رہی ، لیکن الیکشن میں خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کر سکی اور نتائج کو متنازع قرار دے ڈالا تو ملک شدید سیاسی بحران کی لپیٹ میں آ جائے گا لہٰذا نگران وزیر اعظم دُہری تلوار کے درمیان نظر آ رہے ہیں۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.