سیلفی کا جنون ۔۔ محمد اسد عرفان

سیلفی کا جنون

سمارٹ فونز کی آمد کے بعد سے سیلفی لینے اور پھر اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کی روایت عام ہو گئی ہے۔ تا ہم، سائنس دانوں کی جانب سے اس عمل پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ سیلفی لینے کے شوق کی وجہ سے لوگوں کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ’’سوشل سائیکولوجیکل اینڈ پرسنالٹی سائنس‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، سیلفی لینے والے افراد اپنی ظاہری شخصیت کے بارے میں خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جو انہیں مغرور بنا رہی ہے۔

اس حوالے سے کینیڈا کی ’’ٹورنٹو یونیورسٹی‘‘ کے شعبہ نفسیات سے منسلک سائنس دان، ڈاکٹر ڈینیل ری اور ان کے ساتھی تحقیق کار نکولس اور ول کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے سیلفی کے تناظر میں لوگوں کے رویوں کی جانچ پڑتال کی اور باقاعدگی سے اور کبھی کبھار سیلفی لینے والے افراد کے بارے میں تصورات کا تجزیہ کیا۔ اس کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سیلفی کے جنون میں مبتلا افراد اپنے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں۔ تجزیہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سیلفی کے جنون میں مبتلا افراد اپنی سیلفی میں خود کو دوسروں کی سوچ سے کہیں زیادہ پر کشش محسوس کرتے ہیں۔‘‘ تحقیق کے دوران محققین نے 198 کالج کے طلبہ کا تجزیہ کیا، جن میں سے ایک سو طلبہ سیلفی لینے کے جنون میں مبتلا تھے، جبکہ 98 طلبہ کا کہنا تھا کہ انہیں سیلفی کا شوق نہیں ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ڈینیل ری اور ان کی ٹیم نے شرکا کو اپنے موبائل فونز کے کیمرے سے سیلفی لینے کی ہدایت کی، جب کہ ایک دوسرے شخص کی طرف سے بھی ان کی تصاویر لی گئیں۔

بعدازاں، محققین نے شرکا کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تصاویر کی درجہ بندی کریں کہ اگر وہ سوشل میڈیا پر ان تصاویر کو اپ لوڈ کرتے ہیں، تو ان کو کتنا پسند کیا جائے گا، جبکہ ان تصاویر کی 178 افراد کی جانب سے بھی درجہ بندی کی گئی، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے۔ باقاعدگی سے سیلفی لینے والے شرکا نے توقع ظاہر کی کہ لوگ انہیں دوسرے افراد کی جانب سے لی گئی تصویروں کے مقابلے میں سیلفی میں زیادہ پرکشش محسوس کریں گے۔ تا ہم، لوگوں کی رائے ان کے اندازے کے برعکس نکلی اور سیلفی میں انہیں کم پرکشش بتایا گیا اور انہیں خود پسند کے طورپر دیکھا گیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ سیلفی کے شوقین اور شاذونادر سیلفی لینے والے شرکا میں اختلاف تھا۔دونوں کی سوچ مختلف تھی۔

دونوں نے اپنی سیلفی کو دوسروں کی نظروں سے زیادہ بہتر خیال کیا اور سیلفی کے حوالے سے دونوں نے خود پرستی کا مظاہرہ کیا۔ ڈاکٹر ڈینیل ری نے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’لوگ اپنی مثبت خصوصیات کے حوالے سے خود کو اوسط سے زیادہ خیال کرتے ہیں اور اس طرح کے رجحان کو ’’خودپسندی‘‘ کا نام دیا جاتا ہے‘‘۔محققین کی رائے یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی سیلفی یا تصاویر شیئر کرنے پر لوگوں کو دوستوں کی طرف سے لائکس ملتے ہیں، جس سے ان کے مغرور ہونے کے احساس کو مزید تقویت ملتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.