شاہی گھرانوں کے سوگ… کالم نذیر ناجی

nazir naji

آنے والے انتخابات کی افتتاحی مہم کے تعارفی جلسے‘ کل رات لاہور اور کراچی میں ہوئے۔ مجھے امید تھی کہ عام انتخابات کی ابتدا دھماکہ خیز ہو گی۔پیپلز پارٹی کی طرف سے جناب آصف زرداری نے بہت حوصلہ دکھایا کہ اپنے نوآموز بیٹے کو‘ اس کی ابتدائی سیاسی زندگی کی سٹیج پر کھلا چھوڑدیا۔ یہ بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔انسان اپنے بارے میں حقیقت پسندانہ فیصلہ کر کے ‘نئی اور ابھرتی نسل کے لئے‘میدان کھلا چھوڑ دے۔ بلاول بھٹو کی نموداری ایک سیاسی پلیٹ فارم سے ہوئی۔دنیا میں کوئی بھی نیا مقرر ہو‘اس کے لئے جو آئیڈیل موقع ہوتا ہے ‘ وہ بلاول کو بڑی شان سے پیش کیاگیا۔ مطلع سیاست پر جب نوجوان بلاول بھٹو آئے تو ماضی کے جس گلیمر کے اندر سے وہ نمودار ہوئے ‘اس پر بے شمار لوگوں نے زبردست امیدیں لگارکھی تھیں۔بلاول کے والد کو پہلی ہی پھسلن میں سبق مل گیا۔بلاول پیپلز پارٹی کا سارا گلیمر اپنی ذات میں سمیٹ کر ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹوکے جانشین کے طو رپرسیاست میں آئے۔ بلاول کی خوش قسمتی تھی کہ شہرت‘ گلیمراور تاریخ سیاست میں اپنا منفرد انداز لے کر سامنے آئے۔ا بتدائی ایام میں ہی جب ان کے والد آصف علی زرداری‘ نئی پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا بن کر سامنے آ ئے ۔ آصف زرداری اپنی شخصیت کے اعتبار سے یقیناً مختلف تھے۔ان کی کہانیاں بھی کافی دلکش تھیں۔ بے نظیر بھٹو سے منسلک ہو کر وہ ایک انتہائی بلند سٹیج پر ظاہر ہوئے۔
ایسی صورت حال میں پہلی بار سٹیج پر نمودار ہونے والے خوش نصیب بلاول بھٹو اور ان کے والد تھے۔آصف نے بہت ہاتھ پیر مارے کہ وہ تاریخ ساز لیڈروں کی طرح‘ نئے سیاسی منظر پر چھا جائیں لیکن تاریخ میں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ نہرو خاندان میں دو نسلوں تک سیاست کے افق پر‘ ایک ہی جیسے ستارے نمودار ہوئے۔جواہر لعل نہرو اپنے دور کے عظیم لیڈر تھے۔ نہروکی موت کے بعدان کی بیٹی ذرا سے فرق سے‘ بھارت جیسے ملک کی بلاشرکت غیرے سیاسی اور انتظامی رہنما بن گئیں۔اندرا گاندھی کو جتنے سیاسی حریف ملے ‘ وہ سب چت ہو گئے۔ وہ اپنے باپ کی طرح طویل عرصے تک ‘ایک بہت بڑی قوم کی قیادت کرتی رہیں ۔ اندراگاندھی کی حادثاتی موت کے بعد‘ بھارت کا سیاسی منظر بدل گیا۔ لیکن نہرو کی دو نسلیں بے ثمر ثابت ہوئیں۔ راجیو گاندھی متحمل‘ سرد مزاج اور دھیمی رفتار سے آگے بڑھنے والا پختہ کارلیڈرثابت ہوا۔ جس طرح انتہائی قدآور لیڈر کی بیٹی ہوتے ہوئے اندرا گاندھی نے ‘ اپنی صلاحیتوں سے سب غنیموں کو‘صبرو تحمل کے ساتھ اپنے راستے سے ہٹایا‘وہ اپنی مثال آپ تھا۔نہرو خاندان سے جو دو لیڈر پہلے آئے‘ راجیو ان سے پوری طرح مختلف تھے۔مگر افسوس کہ اس کی زندگی بہت مختصر ثابت ہوئی۔ انہیں ایک انتہا پسند اور جنونی نسل کے باغیوں کی قیادت ملی ۔ ایک باغی لڑکی نے اپنی ساتھیوں کے ہمراہ موقع پا کر‘ راجیو گاندھی کی زندگی کا خاتمہ کر ڈالا۔اس واقعے کے بعد نہرو خاندان‘ مثالی ہیرو کی قیادت سے محروم چلاآ رہا ہے۔ کانگرس کے اندر سے نئے نئے لیڈر آتے رہے لیکن اپنے پیش روئوں کی طرح‘ ان میںکوئی جینئس (Genus) نہیں نکلا۔بھارتی قیادت یکے بعد دیگرے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھتی رہی۔ یہاں سے نہرو خاندان کی قیادت کا سلسلہ ٹوٹا۔
پاکستان میں بھٹو خاندان اقتدار کے تسلسل میں نہرو فیملی جیسا خوش نصیب ثابت نہ ہوا۔ بھٹو صاحب کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کے بیٹے سیاست سے دور رہے۔بڑا بیٹا مرتضیٰ بھٹو گھر کے سامنے آیا تو عین گھات لگا کر پولیس کے ایک دستے نے‘ انہیں گھیر کے گولیوں کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس وقت بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیراعظم تھیں۔ ان کے گھر میں کوئی سیاسی تقریب ہو رہی تھی۔ مجھے پتہ چلا تو بھاگم بھاگ وزیراعظم ہائوس پہنچا۔ بی بی کی آنکھیں روتے روتے پہلے ہی سوج چکی تھیں۔ جلدی سے وہ جائے حادثہ کی طرف روانہ ہوئیں۔انہیں نہ کوئی اپنا ہوش تھا اور نہ ہی علم تھا کہ یہ سانحہ کیسے ہو گیا؟لیکن اس وقت جتنی بے بسی بے نظیر کی تھی ‘ کوئی بھی صاحب دل انسان اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ بی بی اس حالت کو کیسے پہنچیں؟سارے اختیار آصف زرداری کے پاس تھے۔لوگ سوگواری کے ماحول میں بھاگے چلے آرہے تھے۔ جبکہ بے جان مرتضیٰ کی میت کے انتظامات آصف زرداری کر رہے تھے۔میں ماتم کی اس محفل سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا لیکن اس سے آگے آہیں‘نوحے‘ تڑپنا اور رونا ہی تھا ۔ (جاری) بشکریہ روزنامہ دنیا

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.