شہر کے اندھے کنوئیں سے..کالم محمد اظہارالحق

azhar ul haq logo

کھیت کی مٹی میں چلتا، واپس مڑا تو سامنے سے سباج آ رہا تھا۔ بچپن کا دوست! گائوں کی گلیوں میں ہم کھیلا کرتے تھے۔ سن اتنا کچا تھا کہ یادوں کے روزن سے اب صرف پرچھائیں دکھائی دے رہی ہے۔ ایک برات ہے۔ گائوں کی مغربی سمت آخری گلی ہے۔ کسی نے بہت سے سکے اچھالے اور ہم بچے انہیں چننے اور ڈھونڈنے لگ گئے۔ اٹھنی تھی یا چونی جو ہاتھ آئی کسی دوسرے بچے نے لے لی۔ خوشی یہ تھی کہ گلی کی، جس کے دونوں طرف جھاڑیوں کی باڑ تھی، مٹی میں سے سکہ مل گیا۔ سباج کی دادی صبح کی چائے اکثر ہمارے ہاں آ کر پیتی تھی۔ ہر روز ایک خواب سناتی تھی۔ اپنی دادی جان کی طرح ہم اسے بھی دادی اور ماں سمجھتے تھے اور نانی بیگاں کہہ کر پکارتے تھے۔ سباج کو دیکھا تو نانی بیگاں کا چہرہ سامنے آ گیا۔ سباج نے گھاس کا گٹھڑ سر پر اٹھا رکھا تھا۔ مجید امجد یاد آ گئے ؎ گھاس کی گھٹڑی کے نیچے وہ روشن روشن چہرہ روپ جو شاہی ایوانوں کے پھولوں کو شرمائے مگر سباج کا چہرہ پھولوں کو شرمانے والا نہیں تھا۔ اس پر زندگی کی دھوپ چھائوں بہت سی لکیریں ڈال چکی تھی ؎ سلوٹیں ہیں مرے چہرے پہ تو حیرت کیسی زندگی نے مجھے کچھ تم سے زیادہ پہنا رنگ زیادہ گندمی ہو چکا تھا۔ یقینا مجھے دبا کر میرے بارے میں بھی وہ اپنی ذہنی سکت کے حساب سے یہی کچھ سوچ رہا ہو گا۔ اپنے جن کھیتوں میں میں پھر رہا تھا ان کے قریب ہی اس کی ڈھوک تھی۔ کہنے لگا، ہم سارے بھائی بھتیجے اپنے اپنے گھر والوں کے ساتھ ڈھوک پر ہی اُٹھ آئے ہیں۔ ’’اور گائوں والا مکان؟ ’’میں نے پوچھا: ’’وہ تو کب کا بیچ دیا!‘‘ پھر ہم نے اپنے اپنے پوتوں پوتیوں نواسوں نواسیوں کی تعداد ایک دوسرے سے پوچھی، ایک دوسرے کو بتائی۔ وہ گاڑی تک چھوڑنے آیا ہاتھ ملاتے ہوئے کہنے لگا۔ ’’اظہار صاب! یار کبھی کبھی آ جایا کریں‘‘۔ میں نے پکا وعدہ کیا کہ آئوں گا۔ تمہارے پاس بیٹھ کر چائے پیوں گا۔ لسی چڑھائوں گا اور ہم ڈھیر ساری باتیں کریں گے۔ گزرے وقتوں کی باتیں، اپنے اپنے رفتگاں کی باتیں! مگر جب بھی گائوں سے واپسی ہوئی۔ گائوں میں دوستوں سے کیے گئے وعدے مصروفیات کی تہوں کے نیچے چھپ گئے۔ زمانہ گزرا، اپنے گائوں سے فریاد کی تھی ؎ اے گائوں! مجھے خبر نہیں ہے نازوں میں پلا سپوت تیرا نرماہٹوں سے تری بہت دُور اک شہر کے رُوکھے پیچ و خم میں اک گہرے طلسم میں گرفتار اک اندھے کنوئیں میں مر رہا ہے گائوں کیا مدد کرتا! ہم جتنے لوگ گائوں سے آتے ہیں، اس اندھے کنوئیں میں قید ہو جاتے ہیں! گائوں بلاتے رہتے ہیں۔ آئو! واپس آئو! میرے درختوں کے پتے تمہارے لیے ٹھنڈی چھائوں بُن رہے ہیں! میری خنک ہوا کے جھونکے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ واپس اپنے کھیتوں میں آئو! اپنے ڈھور ڈنگروں کی گھنٹیوں کی آواز سنو! مگر شہر شہر کم اور کوہِ ندا زیادہ ہے! ایک خوف کہ پلٹ کر دیکھا تو نہ جانے کیا ہو جائے گا! اب کے اس اندھے کنوئیں سے نکلنے اور گائوں کا چکر لگانے میں بہت دیر ہو گئی تھی! وقفہ طویل ہو گیا تھا۔ جا کر سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس عرصہ میں ماتم کتنے ہو چکے ہیں۔ پھر ایک ایک گھر جا کر تعزیت کرنا ہوتی ہے۔ شہر کے لوگ کبھی بھی سمجھ نہیں پائیں گے کہ دیر سے سہی، تعزیت کے لیے حاضری لگوانا دیہی ثقافت میں کتنا ضروری ہے۔ کہنے کو تو ہم کہتے ہیں کہ ہمارے دیہات طبقاتی امتیاز کا شکار ہیں مگر مساوات کی جو قدریں ان خاک اڑاتے قریوں اور بستیوں میں روشن ہیں، شہر ان سے محروم ہیں! موچی یا ترکھان کا گھر ہی کیوں نہ ہو، تعزیت کے لیے بڑے سے بڑا زمیندار، چودھری، سردار بھی آئے گا۔ زمین پر بیٹھے گا سب کے ساتھ کھانا کھائے گا۔ آدمی تو آدمی، ترکھان کی بھینس بھی مر جائے تو سردار آئے گا اور سید بھی! فرقہ واریت کا زہر بھی جتنا شہروں میں سرایت کر چکا ہے، یہ قریے اور بستیاں ابھی اس سے بچی ہوئی ہیں! ہمارے بچپن اور لڑکپن میں تو مسجدیں بھی تقریباً مشترکہ تھیں۔ ہمارا بابا حبیب خان شیعہ تھا مگر نماز ہمیشہ امام بارگاہ کے بجائے مسجد میں پڑھتا۔ استاد سُنیوں کو سُنی طریقے سے اور شیعہ کو شیعہ طریقے سے نماز کا طریقہ بتاتے، کوئی غلط پڑھ رہا ہوتا تو اس کے طریقے کے مطابق اصلاح کرتے۔ اب بھی حالات بُرے نہیں! رشتہ داریاں مشترکہ ہیں۔ دُکھ اور خوشیاں سانجھی ہیں۔ ایک دوسرے کے جنازوں میں، قطار کے اندر کھڑے ہوں یا نہ ہوں، شریک ضرور ہوتے ہیں۔ آنکھوں میں شرم ہے۔ ایک دوسرے کے بزرگوں کا، ان کے ناموں کی عزت کا، باہمی تعلقات کا احساس ہے۔ گلیاں گائوں کی سونی تھیں اس لیے کہ گندم کی کٹائی کے آخری دن تھے۔ لوگ باگ باہر، گندم کے گٹھوں اور بھوسے کے پہاڑ نما ڈھیروں میں الجھے ہوئے تھے۔ دھوپ تھی۔ اور کڑکتی دھوپ! کڑکتی دھوپ اور گندم کی کٹائی کا ساتھ چولی دامن کا ہے۔ اس چلچلاتی کڑکتی دھوپ ہی میں درانتیاں سونتے، کسان گندم کی کڑی پکی ہوئی فصلوں میں گھس جاتے تھے۔ گندم کے کٹے ہوئے پودے تھوڑی تھوڑی جگہ چھوڑ کر رکھے جاتے تھے۔ پھر انہیں اکٹھا کیا جاتا تھا۔ پھر گٹھڑ باندھے جاتے۔ پھر انہیں کھلیانوں میں لایا جاتا۔ تب ٹریکٹر تھے نہ تھریشر نہ دوسری مشینیں۔ گندم بھرے ان پودوں کو کھلیان کے میدان میں بکھیر دیا جاتا۔ پھر ایک مخصوص دن عید کا سماں ہوتا۔ ان بکھرے پودوں پر بیل چلتے۔ انہیں روند دیتے، یہاں تک کہ دانے سوکھے پودوں سے باہر نکل آتے۔ یہ گاہ گاہنے کا دن ہوتا۔ دوست عزیز رشتہ دار سب ایک دوسرے کی مدد کرتے۔ اس باہمی مدد کو ’’منگالی‘‘ کہا جاتا۔ اُس دن سب کی دعوت گوشت اور حلوے سے کی جاتی۔ اِسی کڑکتی چلچلاتی دھوپ میں کسان ترینگل (Triangleکا لفظ اسی سے تو نہیں نکلا؟؟) لے کر کھلیانوں کے درمیان کھڑے ہو جاتے۔ ہوا کا رُخ دیکھتے۔ پھر ترینگل سے اُس ڈھیر کو ہوا میں اڑانا شروع کرتے۔ گندم کے دانے ایک طرف گرتے رہتے بھُوسا اُڑ کر دوسری طرف جمع ہوتا رہتا۔ بھوسے کے انبار لگائے جاتے۔ یہ انبار اہرامی شکل کے ہوتے یعنی اوپر سے گنبد نما۔ ان کے ارگرد چار پائیاں کھڑی کر دی جاتیں تا کہ ڈھانچہ بندھ جائے۔ گندم اکٹھی کر کے عورتیں سکاریوں میں بھر لیتیں۔ سکاری مٹی سے بنی ہوئی وہ چھوٹی سی تنگ و تار کوٹھڑی ہوتی ہے جو کمرے کے اندر، ایک طرف بنائی جاتی ہے اور اس میں گندم ذخیرہ کی جاتی ہے۔ اس کے سامنے کی طرف، نیچے کر کے، سوراخ ہوتا ہے۔ اس سوراخ کو لپیٹے ہوئے کپڑے سے بند کر دیا جاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر کپڑا سوراخ سے نکالا جاتا ہے۔ دانے باہر گرنا شروع ہو جاتے ہیں! زمانے نے کروٹ لی۔ مٹی سے لیپی ہوئی سکاریوں کی جگہ ایلومینیم سے بنے ہوئے بھڑولے آ گئے۔ پھر درانتیاں اٹھائے ہوئے سورمائوں کی جگہ مشینوں نے لے لی۔ اب کسان تھریشر کرائے پر لینے لگا۔ اب وہ عزیزوں رشتہ داروں دوستوں کی مدد(منگالی) سے بے نیاز ہونے لگا۔ درجنوں آدمیوں کا کام ایک مشین کرنے لگی۔ محبت، تعلق اور ایک دوسرے پر انحصار رخصت ہونے لگا۔ اس کی جگہ فی گھنٹہ نقد معاوضے نے لے لی۔ اب وہ زمانہ ماضی کا قصہ بن گیا جب گائوں میں دُودھ قیمتاً دینے یا لینے کا تصور ناپید تھا۔ اب محاورہ یہ عام (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں) ہوا کہ ’’پیسے بغیر کانٹا بھی کوئی نہیں نکالتا‘‘۔ پھر گائوں گائوں بجلی آئی، ساتھ ہی بجلی کے بل آنے شروع ہو گئے۔ پھر موبائل فون! کسان جس کے گھر گئے زمانوں میں، ہر حال میں، نقد روپیہ موجود ہوتا تھا۔ اب نقد روپے سے محروم ہونے لگا۔ زوال کی اس کیفیت کو انگریز Cash-Starvedکہتے ہیں۔ بجلی کے بل اور موبائل فون کا کریڈٹ! یہ دو وہ اژدھے ہیں جو کسان کا نقد روپیہ ہڑپ کر جاتے ہیں۔ برسوں پہلے کسانوں نے پوپلر کے درخت کھیتوں کے کناروں پر لپٹی ہوئی پگڈنڈیوں پر لگانے شروع کیے۔ تجربے سے معلوم ہوا کہ پوپلر کے یہ درخت زمین پر چھائوں اور آنکھوں میں ٹھنڈک تو ڈالتے ہیں مگر کھیتوں کے حصے کا پانی نیچے سے چوس لیتے ہیں؛ چنانچہ کسانوں نے پوپلر لگانے چھوڑ دیئے لیکن بجلی کے بلوں اور موبائل فون کے کارڈوں سے جان کیسے چھڑائیں! یہ وہ پوپلر ہیں جو ان کا نقد روپیہ چوستے رہتے ہیں۔ ان سے جان چھڑانا ممکن نہیں۔ گائوں جاتے ہوئے، پھر واپس آتے ہوئے اپنے تحصیل ٹائون فتح جنگ سے گزرنا ہوا۔ سڑکیں کیچڑ سے لیپی ہوئی تھیں۔ سڑکوں کے کنارے، دکانوں کے سامنے کیچڑ ہی کیچڑ تھا۔ اسی کیچڑ کے سمندر میں، بستیوں سے آئے ہوئے مرد اور عورتیں سامان اٹھائے خریداری کر رہی تھیں اور آ جا رہی تھیں۔ ایک نوجوان نے بائیں ہاتھ میں سامان سے بھری پوٹلی اور دائیں ہاتھ میں سیاہ رنگ کا خوبصورت مرغ، جس کی کلغی سرخ تھی، اٹھایا ہوا تھا۔ خلقِ خدا بھاگتی سوزوکیوں کے کناروں پر لٹکی ہوئی تھی۔ اوپر سے کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ! یہ صرف فتح جنگ کا المیہ نہیں، بے شمار قصبے کیچڑ اور مٹی سے لتھڑے پڑے ہیں اور لوڈشیڈنگ میں سلگ رہے ہیں! یہ وہ قصبے ہیں جن کے حصے کا بجٹ ہیٹ پوش جادوگر ایک ہی شہر پر خرچ کر رہا ہے۔ شیراز کی بہار آفریں ندی کے کنارے بیٹھے ہوئے حافظؔ نے شاید انہی قصبوں اور اسی شہر کے حوالے سے کہا تھا ؎ شبِ تاریک و بیمِ موج و گردابی چنیں حائل کجا دانند حالِ ما سبکسارانِ ساحل ہا رات کالی ہے، لہروں کا خطرہ ہے، سامنے بھنور ہے! مگر جو ساحلوں کے عشرت کدوں میں دادِ عیش دے رہے ہیں، ہمارے حال کی کیا خبر رکھیںگے۔ بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.