عالمِ پیر مر رہا ہے۔ خورشید ندیم

khurshid nadeem logo

مغرب کی سرزمین پر، ایک مسجد میں بہنے والا اہلِ اسلام کا لہو، کیا عالمی تعلقات کی تشکیلِ نو کے لیے بنیاد بن سکتا ہے؟

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اِن بے گناہ مسلمانوں کو اپنے وجود کا حصہ قرار دیا۔ کرائسٹ چرچ کی مسلمان پولیس چیف نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور درود سے اپنی بات کا آغاز کیا تو وہ اپنے آنسوئوں کو تھامے نہ رکھ سکیں۔ دیارِ مغرب میں سوگ کا سماں ہے۔ مسیحی، یہودی اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے دعائیہ تقریبات منعقد کر رہے ہیں۔ ان واقعات کو میڈیا نے بحیثیت مجموعی دہشت گردی قرار دیا۔ اگر کسی نے مسلمانوں کے خلاف کچھ کہنے کی جسارت کی تو اسے عوامی غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا جذبات کا یہ اظہار عالمی تعلقات کے باب میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کر رہا ہے؟
9/11 کے بعد، ہم ایک نئی دنیا میں جی رہے ہیں۔ اس سے پہلے کا اہم واقعہ سوویت یونین کا انہدام تھا‘ جو 1989ء میں پیش آیا۔ اِس نے بھی دنیا کو بدل ڈالا تھا۔ واقعات مختلف اجتماعی شناخت رکھنے والے گروہوں کے باہمی تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں؛ تاہم یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ کوئی بڑا حادثہ اس کو مہمیز دے دیتا ہے اور یوں ہمیں وہ تبدیلی سرعت کے ساتھ واقعہ بنتے دکھائی دیتی ہے‘ جس کی طرف پیش رفت برسوں سے جاری ہوتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اہلِ مغرب کے ایک گروہ نے مذہب اسلام کے خلاف جنگ بنانے کی کوشش کی۔ دراصل یہ عمل اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوا۔ سوویت یونین منہدم ہوئی تو اس گروہ کو مغرب کی سیاسی و تہذیبی شناخت کی بقا کے لیے ایک فریقِ ثانی کی تلاش ہوئی۔ بربارڈ لیوس اور ہنٹنگٹن جیسے دانش وروں نے اسلام کو مغرب کے لیے نیا چیلنج بنا کر پیش کیا۔ 1989ء میں سوویت یونین کا خاتمہ ہوا اور 1993ء میں تہذیبوں کے تصادم کا تصور سامنے آیا۔ ‘القاعدہ‘ اور ‘داعش‘ جیسی تنظیموں نے ان کے مقدمے کو تقویت پہنچائی۔

نائن الیون کے واقعے نے تصادم کے اس تصور کو ایک ایسی دلیل فراہم کر دی کہ اب اس کے خلاف موقف رکھنا مشکل ہو گیا۔ اس کے برعکس، اگر کسی کا موقف تھا بھی تو اس نے خاموشی ہی میں عافیت جانی کہ ذرائع ابلاغ نے اسے ایک تاریخی مسلمہ بنا کر پیش کیا اور یوں دوسری رائے کیلئے جگہ سمٹنے لگی۔ جیسے جیسے دہشت گردی کے خلاف جنگ آگے بڑھی، تصادم کے اس تصور پر نظر ثانی کی ضرورت بڑھنے لگی۔ مغرب اور عالمِ اسلام، دونوں مقامات پر دیگر نقطہ ہائے نظر کو سنا جانے لگا۔ مغرب میں اسلاموفوبیا کی گرفت کمزور ہونے لگی اور اہلِ اسلام میں بھی انتہا پسند گروہوں سے بیزاری پیدا ہونے لگی جنہوں نے مغرب کو اسلام کا حریف بنا کر پیش کیا تھا۔

ٹرمپ جیسے لوگوں نے اسے کامیابی کے ساتھ ایک سیاسی مقدمے میں بدل ڈالا اور ‘پوسٹ ٹروتھ‘ کے ذریعے امریکہ کا سب سے اعلیٰ منصب حاصل کر لیا۔ اس سے یہ اندازہ ہوا کہ امریکہ میں سفید فام نسل پرستی کے جذبات نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان میں شدت آتی جا رہی ہے۔ یورپ میں بھی اس کے آثار دکھائی دیے۔ ایک فرق البتہ یہ تھا کہ نسل پرستی کے اس مقدمے میں مسلمانوں کو ‘غیر‘ کے دائرے میں رکھا گیا‘ جس میں دیگر گروہ بھی شامل تھے‘ جو سفید فام نہیں تھے یا باہر سے جا کر وہاں آباد ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر صدر ٹرمپ کے ہاں یہ دائرہ میکسیکو کے لوگوں کو بھی محیط ہے۔ ‘بریگزٹ‘ بھی اسی کا ایک مظہر تھا۔
کرائسٹ چرچ کے حادثے پر وہاں کے عوام نے جس ردِ عمل کا مظاہرہ کیا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ مغرب معاشرتی سطح پر اس مذہبی و سماجی تنوع کو بطور قدر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں جو وہاں کے غالب نظامِ فکر کا ناگزیر حصہ ہے۔ قوم پرستی کے جذبات موجود ہونے کے باوجود، وہ اس تہذیبی ہمہ رنگی کو قائم رکھنا چاہتا ہے‘ جو اس کا ایک امتیازی وصف ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا نائن الیون کے اثرات سے نکل رہی ہے‘ جسے تہذیبوں کے تصادم کے حق میں بطور دلیل پیش کیا جاتا رہا۔ یہ تہذیبوں کا نہیں، دو انتہا پسند نقطہ ہائے نظر کا تصادم ہے۔ 2002ء میں طارق علی نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی تو اس کے لیے یہی عنوان باندھا ”دی کلیش آف فنڈامنٹل ازمز‘۔ یہ حادثہ ہمیں بھی یہ موقع دے رہا ہے کہ ہم اسلام اور مغرب کے باہمی تعلقات کو نئے سرے سے سمجھیں۔ اس تفہیمِ نو سے میری مراد کیا ہے؟

جب میں اسلامی نظریاتی کونسل کے جریدے ‘‘اجتہاد‘‘ کا مدیر تھا تو اس کے ایک شمارے کو ‘اسلام اور مغرب‘ جیسے اہم موضوع کے لیے خاص کیا گیا۔ میں نے ڈاکٹر ممتاز احمد مرحوم سے درخواست کی کہ وہ اس خصوصی نمبر کے لیے مضمون لکھیں۔ معاصر اہلِ علم میں کم ہی ہوں گے جو اسلام اور مغرب کو ان سے بہتر سمجھتے ہوں۔ میری فرمائش پر انہوں نے کم و بیش تیس سال بعد، اردو میں ایک مضمون لکھا اور موضوع کا حق ادا کر دیا۔ اس باب میں زیرِ بحث آنے والے کلیدی مباحث کو انہوں نے بے پناہ علمی مہارت کے ساتھ، چند صفحات میں سمیٹ دیا۔
ڈاکٹر ممتاز احمد نے ایک بات تو یہ کہی کہ ‘مغرب‘ ایک مبہم تصور ہے جس کی متفقہ تہذیبی، سیاسی اور مذہبی حد بندی ممکن نہیں۔ انیسویں صدی تک خود اُس لٹریچر میں ہمیں مغرب ایک تہذیبی جغرافیائی وحدت کے طور پر کہیں دکھائی نہیں دیتا‘ جسے ہم مغربی ادب کہتے ہیں۔ یہ تصور اس وقت نمودار ہونا شروع ہوا جب سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام، قومی ریاستوں کے قیام اور یورپی نوآبادیاتی یلغار کے پس منظر میں، ان کا واسطہ ‘مشرق‘ سے پڑا۔ جغرافیائی وحدت کے طور پر بھی یہ ایک ارتقا پذیر تصور ہے۔ ایک دور میں اس سے مراد صرف مغربی یورپ تھا۔ اس کی ابتدا مغربی رومی سلطنت سے ہوئی اور اس دور میں برطانیہ بھی اس کا حصہ نہیں تھا۔

جہاں تک مذہبی وحدت کا تصور ہے تو ایک دور میں وہاں کا غالب مذہب مسیحیت تھا۔ مارٹن لوتھر کے آنے کے بعد یہ وحدت بھی ختم ہو گئی۔ مسیحیوں کے بے شمار فرقوں کے ساتھ، یہودی بھی بڑی تعداد میں وہاں آباد ہیں۔ پھر آج کے چودہ مغربی ممالک ایسے ہیں جہاں مسلمان سو سال سے زیادہ عرصہ تک حکمران رہے۔ گزشتہ عرصے میں عالمِ اسلام سے لاکھوں افراد کی نقل مکانی نے صورتِ حال کو مزید بدل ڈالا۔ گویا اسلام بھی وہاں کی تہذیبی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس طرح مغرب کسی طرح ایک مذہبی وحدت بھی نہیں۔

ممتاز صاحب نے اس بحث کو سمیٹتے ہوئے لکھا: ”مغرب کا تصور ایک سیاسی اور نظریاتی تشکیل ہے۔ مغرب ایک نظریاتی اور سیاسی اکائی کے طور پر، ایک ٹھوس حقیقت کی حیثیت سے پیش کرنے کا رجحان سرد جنگ کے دنوں میں شروع ہوا‘ جب مغرب کو امریکہ اور اس کے یورپی حلیفوں (بلکہ محض نیٹو) کے مترادف کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ اس کے برعکس ‘مشرق‘ سے مراد سوویت یونین اور اس کے مشرقی یورپ کے حلیف ممالک تھے۔ یہ محض ایک نظریاتی سیاست کی تقسیم تھی، تہذیبی یا مذہبی اور جغرافیائی تقسیم نہیں تھی‘‘۔
سوویت یونین کے بعد جو کچھ ہوا، اس کا ذکر ہو چکا۔ نیوزی لینڈ کے واقعے نے ممتاز صاحب کے تجزیے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ ہم غلطی کریں گے اگر مغرب کو ایک اکائی مانیں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ مغرب کے انتہا پسندوں کی طرح ہمارے ہاں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس واقعے میں ایک صلیبی اور مذہبی جنگ کے امکانات تلاش کریں گے۔ سچ یہ ہے کہ مذہبی جنگوں کا دور تمام ہوا۔ یہ مفادات کا کھیل ہے جو یورپ اور امریکہ کا نسل پرست سفید فام گروہ کھیلنا چاہتا ہے۔ مسلمان اپنی حکمتِ عملی سے اس چال کو ناکام بنا سکتے ہیں اگر وہ اپنے ہم مذہب انتہا پسندوں سے دور رہیں۔

مجھے امید ہے کہ کرائسٹ چرچ میں بہنے والا بے گناہ مسلمانوں کو لہو عالمی امن اور انسان دوستی کی بنیاد بن جائے گا۔ یہ نسل پرستوں اور مذہب کی بنیاد پر منافرت پھیلانے والوں کی ناکامی کا اعلان ہو گا۔ نائن الیون کے حادثے سے اگر شر برآمد ہوا تھا تو اس سے انشااللہ خیر جنم لے گا کہ اس کے پیچھے مظلومیت کی طاقت ہے۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.