عمران خان اورسودن کی سیاسی حکمرانی۔کالم سلمان عابد

Salman-Abid

دنیا کی سیاسی حکمرانی میں سیاسی جماعتیں جو اقتدار میں آتی ہیں یا آنے کی خواہش مند ہوتی ہیں وہ ووٹروں اور عوام میں اپنی سیاسی مقبولیت کو بڑھانے اور خود کو دیگر سیاسی فریقین کے مقابلے میں بہتر پیش کرنے کے لیے 100دن کی حکمرانی کا منصوبہ پیش کرتی ہیں ۔ عمومی طور پر 100دنوں میں کوئی بھی برسراقتدار جماعت بہت کچھ تبدیل نہیں کرسکتی اور نہ ہی اس سے کوئی بڑا انقلاب آتا ہے ۔ بنیادی طور پر اس 100دنوں کے سیاسی خاکہ سے مراد کسی بھی حکومت کی حکمرانی کے تناظر میں سیاسی ، سماجی ، معاشی او رانتظامی سمت کو دیکھنا ہوتا ہے ۔ کیونکہ اگر کوئی حکومت اپنے ابتدائی دنوں میں سیاسی سمت کو درست طو رپر نہ صرف پیش کرسکے بلکہ اس پر چل بھی سکے تو یقینی طور پر صورتحال میں کئی بنیادی نوعیت کی تبدیلی کا عمل دیکھا جاسکتا ہے ۔

پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے جیسے ملکوں میں100دنوں کا منصوبہ یا خاکہ تو سیاسی جماعتیں پیش کردیتی ہیں او راس میں بھی حقایق سے زیادہ جذباتیت اور ووٹروں کو بڑے بڑے خوش نما نعروں اور دعووں کے ساتھ اپنے قریب لانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔کیونکہ عمومی طور پر 100دنوں کا منصوبہ وہی سیاسی جماعت بہتر انداز میں پیش کرسکتی ہے جس کے پاس پہلے سے مختلف ماہرین کی صورت میں ٹھوس اور حقایق پر مبنی تجزیہ، مسائل کی درست نشاندہی اور مسئلہ کے حل کا عملی اور پائدار خاکہ موجود ہوتا ہے ۔ سیاست میں عملی طور پر اس طرح کے ٹھوس کاموں کو سیاسی جماعتوں کے منشور کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے ۔لیکن یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی جماعتیں عملی طور پر سیاسی جماعتوں کی حیثیت سے اپنی حیثیت نہیں منواسکیں ۔

مجھے یاد ہے 2013کے انتخابات میں مسلم لیگ)ن(کا بنیادی نکتہ ہی یہ تھا کہ ان کے پاس حکومت سازی کا وسیع تجربہ ،تجربہ کار اور قابل لوگوں کی ٹیم،سیاسی ، معاشی اور انتظامی بنیادوں پر نظام کو چلانے کی صلاحیت اور ایک بہتر او رمضبوط منشور ہے ۔لیکن ہم سب نے دیکھا ہے کہ مسلم لیگ )ن (نے اپنے ان تمام تر دعووں کے باوجود اپنی حکمرانی سے بدترین مثالیں قائم کیں۔تعلیم، صحت، پانی ، روزگار، ادارہ سازی، مقامی حکومت او رمعاشی پالیسیوں سمیت غریب آدمی کی ترقی میں کچھ نہیں کیا جاسکا۔مسئلہ یہ نہیں کہ ان کے پاس ماہرین نہیں تھے ،بلکہ مسئلہ اس طرز حکمرانی کی سیاسی سوچ کا ہے جو نواز شریف اور شہباز شریف کی مرکزیت پر مبنی سوچ اور ذاتیات پر مبنی سیاست کا ہے ۔جن لوگوں کو ذمہ داریاں دی گئیں ان کو اختیارات نہ دے کر عملا نظام کو کمزور کیا گیا۔

برحال بات عمران خان کے 100دنوں کے منصوبہ یا حکمرانی کی سمت کا ہورہی ہے ۔ عمران خان بنیادی طور پر نظام کو بدلنے اورروایتی سیاست کے مقابلے میں ایک متبادل سیاست کے دعوے دار ہیں ۔ ان کی عملی سیاست پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ)ن(اور پیپلز پارٹی کی مخالفت میں پیش پیش رہی ہے ۔جو لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں یاان کو دیگر سیاسی فریقین کے مقابلے میں بہتر سمجھتے ہیں اس کی وجہ بھی ان کی تبدیلی کا ایجنڈا ہے ۔ عمران خان نے اپنے اس 100دن کے منصوبے کو بہتر طور پر پیش کیا ہے ۔ان کے پیش کردہ نکات درج زیل ہیں۔ طرز حکومت اور حکمرانی کے نظا م میں تبدیلی، وفاقی سیاست اور پاکستان کا استحکام، مضبوط اور مربوط معیشت کی بحالی جس میں غربت اور غریب لوگوں کی تعداد میں کمی سمیت روزگار کی فراہمی ، زراعت کی ترقی اور پانی کا تحفظ، سماجی شعبہ جات میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں اور بے گھر لوگوں کو گھروں کی فراہمی ، قومی سلامتی اور داخلی خود مختاری کی ضمانت شامل ہے ۔

اگرچہ اس پیش کردہ 100دنوں کے منصوبہ یا سمت پر ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے ۔یہ تنقید فطری طور پر یقینی تھی کیونکہ انتخابات کے تناظر میں کوئی بھی سیاسی جماعت کسی دوسرے کے سیاسی منشور یا حکمت عملی کی حمایت نہیں کرسکتی ۔لیکن عمران خان پر تنقید کی ایک بڑی وجہ ان کی خیبر پختوخواہ کی حکومتی کارکردگی کو بھی بنیاد بنایا جارہا ہے ۔ مخالفین کے بقول جب عمران خان کی صوبائی حکومت ان پانچ برسوں میں صوبہ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لاسکی تو وہ ملک میں کیا تبدیلی لائے گی ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں تحریک انصاف کی حالیہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کافی حوالوں سے بہتر بھی ہے ، مگر اس کا فیصلہ یقینی طور پر ووٹر نے ہی کرنا ہے جو انتخابات میں سب کے سامنے ہوگا۔

مسئلہ صرف تحریک انصاف کا نہیں بلکہ تمام وفاقی اور صوبائی حکومتیںکی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ کہانیوں میں الجھنے کی بجائے اکنامک سروے آف پاکستان سمیت کئی اہم اداروں کی رپورٹس اور اعدادوشمار سماجی اور معاشی شعبہ جات سمیت اداروں کی تنظیم نو کے تناظر میں حکومتوں کی سنگین نوعیت کی بدحالی کو پیش کرتے ہیں ۔کاش پاکستان میں انتخابات کا عمل حکومتوں کی کارکردگی کی بنیاد پر ہوتا تو لوگ حکمرانوں کو جوابدہ کرسکتے تھے ۔لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ یہاں حکومتوں کو بنانے او رگرانے کا کھیل ووٹر نہیں بلکہ کچھ اور قوتیں ہی کرتی ہیں ۔

عمران خا ن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جو وہ خواہش رکھتے ہیں کہ نظام تبدیل ہو یہ محض کسی خواہش کے نتیجے میں تبدیل نہیںہوگا۔ نہ ہی یہ کام کوئی فرد واحد کرسکتا ہے ۔ یقینی طو رپر اس کے لیے ایک تجربہ کار اور اعلی صلاحیتوں پر مبنی ٹیم درکار ہوتی ہے ۔ یہ ٹیم ٹھوس بنیادوں پر عوامی او رماہرین کی مشاورت سے حکمرانی کے نظام کو آگے بڑھا کر عوامی توقعات پر پورا اترتی ہے ۔ مگر یہ ماننا پڑے گا کہ عمران خان اور تحریک انصاف میں بھی ایک مستند ٹیم کی کمی غالب نظر آتی ہے ۔ یہاں بھی بات عمران ہی سے شروع ہوتی ہے او راسی پر ختم ہوتی ہے ۔ اس لیے عمران خان کو سنجیدہ انداز میں چند بنیادی باتیں سمجھنی ہوگی اگر وہ واقعی نظام کو شفاف ، موثر اور سب کے لیے قابل قبول بنانا چاہتے ہیں ۔

عمران خان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ کچھ کرسکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ انہوں نے اس دو جماعتی نظام کو کمزور کرکے خود کو متبادل کے طور پر پیش کیا ہے ۔ اول عمران خان کو چاہیے کہ وہ سیاست سے بالاتر ہوکر ہر شعبے کے ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس بنائے او ران کے پاس جو بھی متبادل نظام یا شعبہ کا خاکہ ہے اس کو عملی طور پر مزید بہتر بنا کر قوم کے سامنے رکھا جائے ۔دوئم انتخابی مہم میں الزام تراشیوں کی سیاست میں الجھنے اور مخالفین کی سیاست کا جوا ب ان کے انداز میں دینے کی بجائے منشور، ایشوز اور کیسے نظام کو بدلا جائے گا پر توجہ دی جائے اور خاص طو رپر ان لوگوں کو جو رائے عامہ بناتے ہیں ان کو اعتماد میں لیا جائے ۔خاص طور پر تعلیم او رصحت جیسے معاملات میں ریاست کے کردار اور پبلک سیکٹر کی مضبوطی کو یقینی بنانا ، سوئم شہری سیاست کے نظام کے ساتھ ساتھ دیہی ترقی کے نظام پر فوقیت دی جائے کیونکہ دیہی ترقی کا عمل بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔ چہارم جب وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ دیگر ملکوں کی طرح نچلی سطح پر موجود غریب لوگوں کے معاشی درجہ بندی کو تبدیل کریں گے تو یہ عمل کیسے ہوگا اس کی تشہیر عام انداز میں کی جائے بالخصوص طبقاتی نظام کی تبدیلی اور امیری و غریبی میں بڑھتی ہوئی خلیج کو کیسے کم کیا جائے گا۔ پنجم نئی نسل کو جو آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہے اس کو کیسے سیاسی ،سماجی ،معاشی طور پر مستحکم کیا جائے گا او رکیسے یہ نسل قومی ترقی کا حصہ بن سکے گی، اہم سوال ہے ۔ششم جب تک مقامی نظام حکومت کو اولین فوقیت نہیں دی جائے گی اور عا م آدمی کو حکمرانی کے نظام اور فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جائے گا، حکمرانی کا نظام نہ منصفانہ ہوگا او رنہ شفاف، یہ عمل منصفانہ وسائل کی تقسیم اور جوابدہی سے ممکن ہوگا۔

اسی طرح معاشرے میںموجود تھنک ٹینک، میڈیا اور علمی اور فکری مباحث کے فریقین یا اداروںکی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی تعصب سے بالاتر ہوکر تحریک انصاف سمیت سب جماعتوں کے منشور کا تجزیہ کرکے عوام کی سیاسی تعلیمی اورفیصلہ سازی میں ان کی مدد کریں کہ کون زیادہ مربوط نظام کا خاکہ رکھتا ہے ۔ اسی طرح اگر واقعی عمران خان ان ایشوز کی بنیاد پر انتخابی مہم کو طاقت دیں تو اس کا نتیجہ دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی منشور کی بنیاد پر سیاست او ر مہم کو طاقت ملے گی، وہ بھی الزام تراشیوں پر مبنی سیاست سے باہر نکل کر عوامی ایجنڈے کو فوقیت دیں گے جو قومی سیاست کے حق میں ہوگا اور اس کا نتیجہ مثبت تبدیلی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.