فالج کے مریض کاعلاج ۔۔ڈاکٹر ابرار احمد

فالج کے مریض

فالج کیوں ہوتا ہے؟ یہ وہ سوال جو اکثر کیا جاتا ہے۔اس کا جواب آسان لفظوں میں بتا دیتے ہیں۔ اگردماغ کے کسی بڑے حصے کو خون کی سپلائی کسی وجہ سے کم یا بند ہو جائے تو فالج کا حملہ ہو جاتا ہے۔ اس حملے کی شدت اور مقام کا تعین یہ بات کرتی ہے کہ دماغ کا متاثرہ حصہ کون سا ہے۔ دماغ کو اپنا کام کرنے کے لیے اتنی زیادہ مقدار میں خون کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہر دھڑکن کے ساتھ دل سے نکلنے والا خون کا تقریباً پانچواں حصہ صرف دماغ کو چلا جاتا ہے۔ ایسے عضو کے لیے خون کی اہمیت دوسرے اعضا کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

اس لیے اگر دماغ کے کسی بھی حصے کو پانچ منٹ کے لیے خون ملنا بند ہو جائے تو اس حصے کی تباہی ہو جاتی ہے اور اس تباہی کا کوئی علاج نہیں۔ یعنی دماغ کا کوئی حصہ اگر اس طرح سے بیکار ہو جائے تو وہ دوبارہ کام شروع نہیں کرتا۔ اکثر فالج بڑھاپے میں بہت سی اموات کا سبب بنتا ہے۔

فالج کے حملے کے شکار ہر پانچ افراد میں سے چار افراد پہلے حملے سے بچ جاتے ہیں لیکن ان کے جسم پر کوئی نہ کوئی اثر مرتب ہو جاتا ہے۔ مثلاً ان کے جسم کے بعض پٹھے مستقل طور پر ناکارہ ہو جاتے ہیں یا کمزور ہو جاتے ہیں۔ فالج کا حملہ اچانک ہوتا ہے لیکن اس کا سبب بننے والی بیماری طویل عرصے سے موجود ہوتی ہے اور اکثر اوقات اس کے مناسب علاج پر توجہ نہیں دی جاتی۔ مثلاً خون کی نالیوں کی تنگی اور سختی کی بیماری جس میں نالیوں میں خون کا لوتھڑا جم جاتا ہے اور پھر یہ ٹکڑوں کی شکل میں دماغ کی کسی رگ میں پھنس کر فالج کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح فالج کا حملہ دماغ کی کسی شریان کے پھٹ جانے سے بھی ہو جاتا ہے۔ اگر بلڈپریشر بہت زیادہ بڑھ جائے اور کمزور شریان کی دیوار پر دباؤ بڑھے تو وہ پھٹ جاتی ہے۔

فالج کی علامات

فالج کی علامات میں چند نہایت اہم ہیں، ان کو نظر انداز کبھی مت کریں۔ شدید سردرد، سرچکرانا، بینائی میں تبدیلی یا دھندلاہٹ، بولنے میں مشکلات، جسم میں سننسی کی لہر دوڑنا وغیرہ  فالج کی علامات میںشامل ہیں، تاہم چلتے چلتے اچانک گرجانا یا گردن میں درد بھی اس کی نشانہ ہوسکتے ہیں اور ان علامات میں سے کسی کی موجودگی کی صورت میں طبی ماہرین سے رجوع کرنا ضروری ہے چاہے وہ بعد میں عام بیماری ہی کیوں نہ ثابت ہو۔

فالج کیوں ہوتا ہے؟

فالج کیوں ہوتا ہے؟ پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے۔ فالج سنگين طبّی عارضہ ہے جو دماغ ميں خون کی فراہمی ميں رکاوٹ پيدا ہونے پر واقع ہوتا ہے۔ اگر خون کیفراہمی ميں رکاوٹ آجاتی ہے، يا بند ہوجاتی ہے تو، دماغ کے خليے مرنا شروع ہوجاتے ہيں۔ اس کی وجہ سےدماغ کو نقصان پہنچ سکتا اور ممکنہ طور پر موت واقع ہوسکتی ہے۔
فالج طبّی بحرانی حالات ہوتے ہيں اور ان کے لئے فوری علاج ضروری ہوتا ہے کيونکہ جتنی ہی جلدی کسیفرد کو علاج دستياب ہوجاتا ہے اس کو اسی قدر کم نقصان پہنچنے کا ا مکان رہتا ہے۔
فالج کی دو اہم قسميں ہيں – وقف الدّم والا (ischaemic (اور جريان خون والا (haemorrhagic(۔ وقف الدّموالا فالج خون کے چکتے کی وجہ سے ہوتا ہے جو خون کی فراہمی کو روک ديتا ہے۔ جريان خون والا فالج اس
وقت ہوتا جب دماغ کو خون فراہمی کرنے والی شريانيں پهٹ جاتی ہيں اور ان کے نتيجے ميں دماغ کو نقصانپہنچتا ہے۔ يہ ايک اور عارضے سے بهی جڑا ہوا ہے جس کو ڻرانزيئنٹ اسکيمک اڻيک ischaemic transient[
[(TIA (attack کے نام سے جانا جاتا ہے، جس ميں دماغ ميں خون کی فراہمی عارضی طور پر غير منضبط ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے ‘ہلکا فالج’ ہوتا ہے۔ TIAs کو انتہائی سنجيدگی سے لينا چاہئے کيونکہ وہ اکثر و
بيشتر اس بات کی انتباہی علامت ہوتے ہيں کہ زيادہ سنگين فالج ہونے والا ہے۔
فالج کا علاج جراحت اور ادويات کے امتزاج کا استعمال کرتے ہوئے کيا جاسکتا ہے۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.